ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درسِ حدیث بعد نمازِ ظہر
عنوان: دل آزاری اور غیبت سے اجتناب – ایمان کی حفاظت کا راستہ
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے اپنے درس میں معاشرے کو تباہ کرنے والی دو سنگین برائیوں یعنی دل آزاری اور غیبت کے بارے میں نہایت مؤثر انداز میں نصیحت فرمائی۔آپ نے واضح کیا کہ ایک مسلمان کی زبان اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔
اگر زبان خیر، محبت اور خیرخواہی کا ذریعہ بن جائے تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ لیکن یہی زبان اگر طعن و تشنیع، غیبت اور دل آزاری کا ذریعہ بن جائے تو دلوں میں نفرت اور دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس موقع پر آپ نے سنن ترمذی کی یہ حدیث مبارکہ بیان فرمائی:
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ
ترجمہ:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ* نے فرمایا: جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی گناہ پر طعنہ دے، وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک خود اسی گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے۔
(سنن الترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع حدیث: 2505)
اس حدیث کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ کسی گناہ گار کو حقارت سے دیکھنا۔ اس پر طنز کرنا یا اسے ذلیل کرنا ایک نہایت خطرناک رویہ ہے۔ بندہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کس کی توبہ قبول فرما لے اور کس کو کس آزمائش میں ڈال دے۔ اس لیے مومن کا شیوہ یہ نہیں کہ دوسروں کی لغزشوں پر خوش ہو یا انہیں طعنے دے بلکہ ان کے لیے ہدایت، اصلاح اور مغفرت کی دعا کرے۔آپ نے مزید فرمایا کہ اگر کسی شخص کے سامنے ایسی بات کہی جائے جس سے اس کی دل آزاری ہو تو یہ ایک بڑا گناہ ہے اور اگر اس کی غیر موجودگی میں اس کی برائی بیان کی جائے تو یہ غیبت ہے. جس سے قرآن و سنت نے سختی سے منع فرمایا ہے۔
مومن کی زبان دوسروں کی عزت، احترام اور خیرخواہی کا ذریعہ ہونی چاہیے نہ کہ ان کی تحقیر اور دل شکنی کا سبب۔ ڈاکٹر صاحب نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی کہ بہترین انسان وہ نہیں جو کبھی غلطی نہ کرے. بلکہ بہترین وہ ہے جو اپنی غلطی کو پہچان کر اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرے. معافی مانگے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔ تکبر انسان کو گناہ پر قائم رکھتا ہے۔ جبکہ عاجزی، ندامت اور توبہ اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے۔ آپ نے سامعین کو تلقین کی کہ رسول اکرم ﷺ کی مبارک زندگی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔آپ ﷺنے ہمیشہ لوگوں کے عیوب پر پردہ ڈالا ان کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ فرمایا. کسی کی دل آزاری نہیں کی اور نہ ہی کسی کی غیبت فرمائی۔ اگر ہم اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھال لیں تو ہمارے گھر، خاندان اور معاشرہ محبت، اخوت، عفو و درگزر اور خیرخواہی کا حسین نمونہ بن سکتے ہیں۔
درس کے اختتام پر ڈاکٹر صاحب نے مرحومین کے لیے خصوصی دعا کروائی کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ ان کی مغفرت فرمائے اور آخرت کی تمام منازل آسان فرمائے۔ جن کے والدین حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عافیت، لمبی عمر اور ایمان والی زندگی عطا فرمائے۔ جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ بنائے۔ہماری زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال دے۔ ہماری زبانوں کو غیبت طعن و تشنیع اور دل آزاری سے محفوظ رکھے اور ہماری تمام دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے