ہوم << انصاف، انسان کی فطرت اور کامیابی کا راز – محمد شفیق اعوان
600x314

انصاف، انسان کی فطرت اور کامیابی کا راز – محمد شفیق اعوان

کائنات کا ذرہ ذرہ ایک حقیقت پر گواہ ہے کہ اس ساری دنیا کا خالق، مالک، رازق، رب اور الہ صرف اور صرف اللّہ تعالیٰ ہے۔ آسمانوں کی وسعت، زمین کی تہیں، دن رات کا نظام، ہوا پانی کی روانی، سب اسی کی قدرت کے مظہر ہیں۔ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے، اللّہ تعالیٰ نے تخلیق کی ہے۔ ہر شے، ہر چیز، جن و انسان میں فطرت رکھ دی ہے جو عدل و انصاف پر قائم ہے۔

ہر شے اپنی فطرت کے مطابق کام کر رہی ہے۔ سورج وقت پر طلوع ہوتا ہے، چاند اپنی منزل پر جاتا ہے، دریا اپنا رخ نہیں بدلتے، درخت پھل دیتے ہیں۔ کائنات کا پورا نظام ایک میزان پر قائم ہے۔ صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اپنی فطرت کے خلاف کام کرتی ہے۔ یہ انحراف کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللّہ تعالیٰ نے انسان کو سلیم فطرت بنانے کے ساتھ دو مزید انعام دیے ہیں۔ ایک اسے دستور حیات ( قرآن مجید اور احادیث نبوی صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم ) عطا کیا جو انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔ دوسرا اُسے سوچنے، سمجھنے، رائے قائم کرنے اور عمل کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ وہ چاہے تو اللّہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے، چاہے بغاوت کرے۔ یہی اختیار اسے امتحان کا مرکز بناتا ہے۔ کامیاب و کامران انسان وہی ہے جو اپنی فطرت کے مطابق کام کرے، اسے جو نظامِ اسلام ( قرآن مجید اور آحادیث نبوی صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ) دیا گیا ہے اُس کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ اللّہ تعالیٰ بناؤ کو پسند کرتا ہے، بگاڑ کو ناپسند کرتا ہے۔ بناؤ میں انسان کی اپنی کامیابی ہے اور بگاڑ میں اس کی تباہی ہے۔

عدل و انصاف کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا۔ ظلم کے نظام کو انصاف ہی ختم کر سکتا ہے۔ قرآن مجید میں عدل و انصاف کو قائم کرنے کا حکم متعدد بار آیا ہے۔ اللّہ کا ارشادِ کرامی ہے،چند آیات کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
ترجمہ: ”اے ایمان والو ! ایسے بن جاؤ کہ اللّہ (کے احکام کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار ہو (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بےانصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اللّہ سے ڈرتے رہو۔ اللّہ یقینا تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔“(سورۃالمائدة آیت8)

ترجمہ:”اے ایمان والو ! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللّہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینے کا حکم دیا جا رہا ہے) چاہے امیر ہو یا غریب، اللّہ دونوں قسم کے لوگوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے، لہذا ایسی نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو۔ اور اگر تم توڑ مروڑ کرو گے (یعنی غلط گواہی دو گے) یا (سچی گواہی دینے سے) پہلو بچاؤ گے تو (یاد رکھنا کہ) اللّہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔“ (سورۃالنساء آیت135)

ان آیات میں دو باتیں مرکزی حثییت رکھتی ہیں : اللّہ کے لیے کھڑا ہونا، اور ہر حال میں انصاف کرنا۔ دشمنی، رشتہ، غربت، امارت، کوئی چیز بھی میزان عدل کو نہ جھکا سکے۔ یہی تقویٰ کی روح ہے۔ اسی طرح احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی عدل کا حکم اور وضاحت آئی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
حضرت بریدہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
”قاضی تین قسم کے ہیں ۔ایک قسم جنت میں جائے گی اور دو قسمیں دوزخ میں ۔جنت کا حقدار وہ شخص ہو گا جس نے حق کو پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کیا ۔اور جس نے حق کو پہچان کر فیصلہ کرنے میں ظلم کیا وہ دوزخ میں ہے۔ اسی طرح جس شخص نے جہالت میں لوگوں کے فیصلے کیے وہ بھی دوزخ میں ہو گا ۔( ابوداود، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ)،انتخاب حدیث از مولانا عبد الغفار حسن عمر پوری، ناشر:اسلامک پبلیکشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور،اشاعت اگست 1988ء، صفحہ 333

عدالت کی کرسی میں وہ شخص بیٹھے جو علم و عمل اور تقویٰ میں بہتر ہو، جو اجتہادی صلاحیت کا مالک ہو، قانون جانتا ہو نیز قانون کی گہرائی گیرائی سے واقف ہو، نڈر، بے باک، دلیر اور صرف اللّہ سے ڈرنے والا ہو، ہر معاملے میں عدل و انصاف کے تقاضے پورا کرنے والا ہو، مظلوم اور ظالم کی زبان جانتا ہو، مقدمے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی تحقیق، تفتیش اور جانچ پرکھ کرنے صلاحیت رکھنے والا ہو۔ سب سے بڑی بات اللّہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہو تو ایسا جج یا قاضی بہتر عدل و انصاف پر فیصلہ کرنے والا ثابت ہوگا۔ ایسا جج اور قاضی عوام کے لیے باعث رحمت ہوتا ہے۔ درج بالا صفات کا حامل افراد ہی قاضی اور جج کے منصب کے اہل ہیں۔قضا کا منصب کوئی تفریح اور خوشی کا مقام نہیں ہے۔ یہ تو ایک انتہائی، نازک اور اہم ذمہ داری کا عہدہ و منصب ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
”جو لوگوں کے درمیان ( فیصلہ کرنے کے لیے) قاضی بنایا گیا گویا وہ چھری کے بغیر ہی ذبح کر دیا گیا۔“ (ابو داؤد، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ) ، ایضاً صفحہ 334

اگر قاضی یا جج عدل و انصاف سے اپنی ذمہ داری پورا کرتا ہے، تو مظلوم اور ان کے ورثا خوش ہوتے ہیں اور اس کے لیے دعا گو ہوتے ہیں، سب سے بڑھ کر اللّہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ لیکن مجرمین کا بااثر اور حکمران طبقہ اس سے ناراض ہوتے ہیں اور وہ ان کی دشمنی کا نشانہ بنتا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ سزا معمولی ہے کیونکہ وہ اپنے خالق و مالک کو راضی کرنے والا بنا، مظلوموں کے لیے سکھ اور چین کا سبب بنا، یہی اس کی کامیابی ہے۔ ایک اور حدیثِ نبویﷺ مطالعہ کیجیے:

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلّی اللّہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
”اپنے سے قریب والوں اور دُور والوں پر (یکساں) حد جاری کرو۔ اور اللّہ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی تمہیں پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔ (ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ)، ایضاً صفحہ 334

جج یا قاضی کے دل میں صرف اللّہ تعالیٰ کا خوف لازم ہو۔ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے پرائے، عہدے دار اور حکمران، مفلس، امیر، کے درمیان کوئی فرق یا تمیز نہیں کرنی۔ جرم کی نوعیت کو دیکھ کر قانون کے مطابق فیصلہ صادر کرنا ہے۔ کوئی ناراض ہو یا خوش ہو، اس پر حد یعنی سزا جاری اور نافذ کرنی فرض ہے۔ جس معاشرے میں مجرموں اور ظالموں کو سزا نہیں دی جاتی ہے وہاں کا لا قانونی ڈھانچہ ڈھیرا ڈال لیتی ہے، وہاں جنگل کا قانون اور درندوں کا راج ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی کی جان و مال، عزت و عظمت، عفت و عصمت محفوظ نہیں رہتی۔ ایسے ماحول میں انسان سسک سسک کر مرتے ہیں، کوئی ہمدرد خیر خواہ نظر نہیں آتا۔

آئیے ہم سب اللّہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کے احکامات کو جانیں، مانیں اور اپنے قول و عمل سے اس کی شہادت دیں کہ ہم سلامتی و امن کے علمبردار ہیں۔ جب ہر فرد اپنی فطرت پر لوٹ آئے گا، جب ہر قاضی اللّہ سے ڈر کر فیصلہ کرے گا، جب ہر گواہ سچ بولے گا خواہ نقصان اپنا ہی کیوں نہ ہو، تب ہی پرسکون اور امن پرور معاشرہ بنے گا، تب ہی انسان اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز ہوگا۔ عدل صرف قانون کی کتاب کا نام نہیں، یہ زندگی کا مزاج ہے۔ اور یہ مزاج وہی پا سکتا ہے جس نے قرآن کو اپنا دستور اور سنتِ رسول اللّہ کو اپنا زادِ راہ بنا لیا ہو۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment