تاریخِ اسلام کا ایک ادنیٰ اور مبتدی قاری، جب تاریخِ اسلام کو پڑھتا ہے، تو وہ تشویش کا شکار ہوتا ہے۔ رطب و یابس کے مجموعہ کی وجہ سے بسا اوقات حق و باطل کی تمییز مشکل ہو جاتی ہے۔ اس کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، بنیادی طور پر دو وجوہات نذرِ قارئین کی جاتی ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ مورخ، جب تاریخ لکھتا ہے، تو اس کا ذہنی میلان ایک جانب جھکا ہوتا ہے اور وہ خاص نظریات کو بنیاد بناکر معلومات اکٹھی کرتا ہے اور تاریخ مرتب کرتا ہے۔ لیکن میرے خیال سے ایسا کرنے سے ایک قاری کسی بھی واقعہ کی حقیقت اور تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اگر مورخ بالکل خالی الذہن ہوکر معلومات اکٹھی کرے اور پھر اسے قلم و قرطاس کے حوالے کرے، تو شاید یہ تشویش دور ہوسکتی ہے۔ باقی تاریخ میں رطب و یابس اور صحت و سقم کا امتیاز شاید مشکل ہے۔ وہ کسی نے کیا خوب کہا:
“کہ جب موبائل اور دیگر آلات کے ہونے کے باوجود اس قدر جھوٹ اور خلافِ واقع باتیں پھیلائی جارہی ہیں، جبکہ اکثر واقعات کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوتے ہیں، تو سوچیں جب یہ سوشل میڈیا نہیں تھا اور کوئی واقعہ سرے سے ریکارڈ میں نہیں آیا، تو اس میں کتنا جھوٹ شامل کیا گیا ہوگا۔”
گویا تاریخ کی مثال اندھیرے میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کی مانند ہے، اور جب اندھیرے میں لکڑیاں اکٹھی کی جاتی ہیں تو اس میں کارآمد اور بےکار لکڑیاں، سب بغیر کسی امتیاز کے جمع ہوتی ہیں۔ لہٰذا رطب و یابس کا امتیاز قاری کے ذمہ ہوتا ہے۔لیکن اصل مسئلہ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں روایت (نقل) کے اصولوں کو جس ترتیب اور عمدگی سے ترتیب دیا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے، اور کیوں نہ ترتیب دیا جاتا، جبکہ احادیثِ مبارکہ کی حفاظت کا انتظام خود ربِ کریم نے کرنا تھا۔ چنانچہ روایت کے اصول جس عمدگی اور اہتمام سے مسلمانوں نے جمع کیے، یہ مسلمانوں کا امتیازی وصف ہے۔لیکن دوسری جانب، جب درایت (عقل) کے اصول و ضوابط کو دیکھا جاتا ہے، تو اس کی وضع ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے کسی تاریخی واقعہ میں رطب و یابس کی تمییز ہمیں خاصی مشکل اور بسا اوقات ناممکن معلوم ہوتی ہے۔
علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ جیسی عبقری شخصیت نے بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت پر لکھی ہوئی “الفاروق” نامی اپنی مایہ ناز کتاب میں اس افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں درایت کے اصول و ضوابط کی وضع نہ ہونے کے برابر ہے، اور ہمارے ہاں سب سے پہلے کسی حد تک درایت کے اصول و ضوابط کو جمع کرنے والی شخصیت علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ کی ہے، جنہوں نے کسی حد تک اس ذمہ داری کو نبھایا، لیکن عموماً ہمارے ہاں درایت کے اصول و ضوابط سے صرفِ نظر کرلیا جاتا ہے۔چنانچہ علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے ہی علامہ ابنِ خلدون کے وضع کردہ درایت کے ایک اصول کو ذکر کیا ہے، جس سے آپ درایت کے اصول و ضوابط کی اہمیت بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور کسی تاریخی واقعہ میں ان اصولوں کا کردار آپ کے سامنے ظاہر ہوسکتا ہے۔
علامہ ابنِ خلدون رحمہ اللہ نے درایت کے اصول و ضوابط میں سے ایک اصول یہ لکھا ہے کہ کسی بھی واقعہ میں سب سے پہلے یہ چیز مدنظر رہے کہ آیا یہ واقعہ عقلاً ممکن بھی ہے۔ اور عقلاً امکان کا مطلب خود انہوں نے اپنے قلم سے یہ سمجھایا کہ عقلاً امکان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آیا عقل اس واقعہ کے وجود کا تصور کرسکتی ہے یا نہیں، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ:
“جو واقعہ جس زمانے اور لوگوں سے متعلق بیان کیا جارہا ہے، یہ دیکھا جائے کہ کیا یہ واقعہ اس علاقے کے سماج اور لوگوں کے حالات کے موافق ہے بھی یا نہیں؟”
یہ ایک انتہائی زریں اصول ہے، جس سے آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ درایت کے اصول و ضوابط کی وضع کس قدر اہمیت کی حامل ہے، لیکن آج وہ ہماری تاریخ میں مفقود دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے قاری کسی درست اور صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔



تبصرہ لکھیے