ہوم << عشرہ ذو الحجہ اور اسکےخاص اعمال وفضائل وخصوصیات – مولاناقاری محمد سلمان عثمانی
600x314

عشرہ ذو الحجہ اور اسکےخاص اعمال وفضائل وخصوصیات – مولاناقاری محمد سلمان عثمانی

اللہ رب العزت نے سورہ فجر میں کئی چیزوں کی قسم اٹھائی جن میں سے ایک ”فجر“ ہے. حضرت ابن عباسؓ، مجاہداور عکرمہ فرماتے ہیں اس فجر سے مراد دس ذوالحجہ کی فجر ہے. دوسری چیز جس کی قسم اٹھائی گئی وہ”ولیالٍ عشر“ہے جس کے بارے میں خود رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے۔

حضرت ابن عبا سؓ فرماتے ہیں، یہ دس راتیں وہی ہیں جن کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں ذکرہے:
”اتممنا ھا بعشر“ (اعراف: 142)،
کیونکہ یہی دس راتیں سال کے ایام میں افضل ہیں۔امام قرطبی ؒ نے فرمایا کہ مذکورہ حدیث سے ذُوالحجہ کے پہلے عشرہ کا تمام دنوں میں افضل ہونامعلوم ہوا اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے بھی یہی دس راتیں ذی الحجہ کی مقرر کی گئی تھیں.
حضرت جابرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دنیا کے دنوں میں سب سے افضل ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے دن ہیں. (کشف الاستار)

حضرۃ عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں اِن(ذی الحجہ کے)دس دنوں کے نیک عمل سے زیادہ محبوب ہو اور پسندیدہ ہو“،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ! کیا یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے مگر وہ شخص جو جان اور مال لے کر اللہ کے راستے میں نکلے،پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آئے“(سب اللہ کے راستے میں قربان کردے، اور شہید ہو جائے یہ ان دنوں کے نیک عمل سے بھی بڑھ کر ہے).

لہٰذا ان مبارک دنوں میں غیر ضروری تعلُقات سے ہٹ کراللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت بہت لگن اور توجہ کے ساتھ کرنی چاہئے اور ہمہ تن اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہنا اور ذکر و فکر،تسبیح وتلاوت، صدقہ، خیرات اور نیک عمل میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرنا اور گناہوں سے بچنا چاہئے اور روزوں کا بھی جہاں تک ہو سکے، اہتمام کرنا چاہئے،9ذو الحجہ کا دن مبارک دن ہے، اس دن میں حج کا سب سے بڑا رکن ”وقوف عرفہ“ ادا ہوتا ہے، اور اس دن بے شمار لوگوں کی بخشش اور مغفرت کی جاتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برکات سے غیر حاجیوں کو بھی محروم نہیں فرمایا: اس دن روزے کی عظیم الشان فضیلت مقرر کر کے سب کو اس دن کی فضیلت سے اپنی شان کے مطابق مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمایا۔

اللہ رب العزت نے قرآن میں ”مشھود“کا لفظ فرماکر عرفہ کے دن کی قسم اٹھائی
(معارف القران للکاندھلوی:8/421)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:تمام دنوں میں سب سے افضل دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن ہے، اور یہ دن ”شاہد“ ہے اور ”مشہود“ عرفہ کا دن ہے اور ”یوم موعود“ قیامت کا دن ہے۔حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(عرفہ کے دن کے مقابلہ میں) کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں اللہ تعالیٰ (عرفات میں وقوف کرنے والوں سے خصوصی رحمت کے ساتھ) قریب ہوتے ہیں پھر فخر کے طور پر فرماتے ہیں کہ یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟ (مسلم)

حضرت مسروق ث سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓنے فرمایا کہ آپ ﷺ نے فرما یا:
سال بھرمجھے کوئی روزہ عرفہ کے دن سے زیادہ محبوب نہیں. (مصنف ابن ابی شیبہ)

اس حدیث میں نو ذو الحجہ کے دن کے روزے کی فضیلت بیان کی گئی ہے،ایک روایت میں حضرت ابوقتادہؓسے مروی ہے آپ ﷺ سے عرفہ کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیاآپ ﷺ نے فرمایا :
(۹ذوالحجہ کا روزہ رکھنا) ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے. (مسلم،مسند احمد)

عرفہ کے دن کی فضیلت ہر شخص کو اس ملک کی تاریخ کے اعتبار سے حاصل ہوگی جس ملک میں وہ شخص موجود ہے۔جیسا کہ عیدالاضحی ہر شخص اپنے ملک کی تاریخ کے اعتبار سے کرے گا اسی طرح عرفہ بھی عیدالاضحی سے ایک دن پہلے شمار ہوگا٭بعض لوگ عرفہ کے دن کسی ایک مقام پر اکٹھے اور جمع ہونے کو ثواب سمجھتے ہیں اور عرفات میں حاجیوں کے اجتماع کی مشابہت کرتے ہیں اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں بلکہ بے بنیاد اور من گھڑت بات ہے، لہٰذا اس سے پرہیز کرنا چاہئے.

عشر? ذی الحجہ اور نوذوالحجہ کے روزوں کے مسائل دوسرے نفل روزوں کی طرح ہیں،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو، اور تم میں سے کسی کا قربانی کا ارادہ ہو وہ تو جسم کے کسی حصہ کے بال اور ناخن نہ کاٹے .(ترمذی،مسلم،ابوداؤد)

بال ناخن نہ کاٹنے کا حکم قربانی کرنے والے کے لیے ہے. یہ مستحب ہے فرض واجب نہیں، لہٰذا کوئی اس کی رعایت نہ کر سکا تو بھی گنہگار نہ ہوگا. عورتوں کے لیے بھی یہی حکم ہے. اگر زیرناف بالوں اور ناخنوں کو چالیس دن یا زیادہ ہو رہے ہوں تو یہ حکم نہیں، صفائی ضروری ہے۔

تکبیرات تشریق یہ ہیں:
[arabic]اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُلاَاِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُوَ لِلّٰہِ الْحَمْد[/arabic]
9ذالحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچ دنوں میں تکبیر تشریق کی خاص تاکید اور فضیلت ہے۔
ارشادربانی ہے:
اور یاد کرو اللہ کو گنتی کے دنوں میں. (بقرۃ)

ابن شہاب زہری فرماتے ہیں:
”رسول اللہﷺسب ایام تشریق کے دنوں میں تکبیر پڑھتے تھے“.

حضرت عبیدبن عمیر ؓسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:
”حضرت عمر ؓعرفہ (9ذوالحجہ)کی فجر سے ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز تک تکبیر تشریق پڑھتے تھے“. (کنزالعمال)

حضرت امام محمدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (ہمارے شیخ امام) ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ہم نے اور وہ حضرت حماد سے اور وہ حضرت ابراہیم نخعی سے وہ حضرت علی ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ عرفہ (9ذوالحجہ) کی فجر سے ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نما ز تک تکبیر تشریق پڑھتے تھے.(کتاب الاٰثار)

اسی وجہ سے ہمارے فقہاء کے نزدیک تکبیر تشریق 9ذوالحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے. یہ تکبیرہر فرض اور جمعہ کی نمازکے بعد مرد و عورت،مقیم ومسافر،حاجی وغیرہ حاجی، تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے والے ہر ایک پرواجب ہے، اور مسبوق ولاحق مقتدی پر بقیہ نماز سے فراغت پر تکبیر کہنا واجب ہے۔احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ عید الاضحی کی نماز کے بعد بھی تکبیرِ تشریق پڑھی جائے. یہ تکبیر مرد درمیانی آواز سے اور عورت آہستہ پڑھے۔ بہت سی خواتین اور مرد حضرات یہ تکبیر نہیں پڑھتے، حالانکہ اس کا پڑھناواجب ہے۔ اسی طرح بعض مرد حضرات آہستہ یا بہت بلند آواز سے پڑھتے ہیں، یہ دونوں باتیں قابل اصلاح ہیں.

فرض نماز کے سلام پھیر نے کے فوراً بعد یہ تکبیر پڑھنی چاہئے. سلام کے فوراً بعد اگر کوئی یہ تکبیر پڑھنا بھول جائے تو اگر نماز کے خلاف کوئی کام مثلا ًبات چیت نہیں کی اور یاد آگیا تو تکبیر کہہ دینی چاہئے . ایام تشریق کی کوئی فوت شدہ نماز اسی سال ایام تشریق کے اندرہی قضاء کرے تو اس نماز کے بعد بھی یہ تکبیر کہنا واجب ہے. البتہ اگر ایام تشریق سے پہلے کی کوئی نماز ان دنوں میں ادا کرے یا ایام تشریق کی فوت شدہ نماز ان دنوں کے گزر جانے کے بعد قضاء کرے تو پھر تکبیر نہ کہے. اگر کسی نماز کے بعد امام یہ تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ فوراً خود تکبیر کہہ دیں امام کے تکبیر کہنے کا انتظار نہ کریں.

ہر فرض نماز کے بعد صرف ایک مرتبہ کہنے کا حکم ہے اور صحیح قول کے مطابق ایک سے زیادہ مرتبہ کہنا سنت کے خلاف ہے. بقر عید کی نماز کے بعد بھی یہ تکبیر کہہ لینی چاہئے۔

مصنف کے بارے میں

دینیات

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment