میں ان چاروں کے گھیرے میں پھنس چکی تھی۔ اللہ سے دعا کر رہی تھی کہ مجھے بچا لیں۔ آج میری ساری وکالت، تیزی، طراری ہوا ہو چکی تھی۔
چاروں لڑکے ہٹے کٹے تھے۔ ایک نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا تاکہ میں اپنے دفاع میں کچھ نہ کر سکوں۔ دوسرے نے بال اور سر گرفت میں لے رکھے تھے۔ تیسرے نے اپنی بات منوانے کے لیے میرے چہرے کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا ہوا تھا۔ چوتھا سب سے خطرناک تھا، اس نے اپنی خوفناک آواز میں شور کر کے مجھے دھمکایا ہوا تھا۔
قارئین، ایسی قیامت اللہ نہ کرے کسی پر واقع ہو۔ میرے پاس بچاؤ کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ اب پچھتا رہی تھی کہ کیوں کورٹ سے جلدی نکلی۔ وہیں بیٹھی رہتی تو کم از کم ان کے ہاتھوں اغوا تو نہ ہوتی۔
مگر ساری باتوں کے باوجود میں نے ہمت نہ ہارنے اور ان کے مطالبات نہ ماننے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ جسے دیکھ کر سب سے بڑا چنو بولا:
“یہ تو بات ہی نہیں مان رہیں، اب کیا کریں بھائی منو؟”
منو، جو کہ ان سب میں زیادہ ہوش مند اور چالاک تھا، بولا:
“دباؤ جاری رکھو، یہ زیادہ برداشت نہیں کر سکیں گی۔”
اس پر پنو، جسے ابھی بولنا بھی کم آتا تھا، ٹوٹے الفاظ میں بولا:
“بھائی، نہیں چھوڑو۔”
اور ٹنو، جو بالکل بولنا ہی نہیں جانتا تھا، شور کر کے مجھ پر دباؤ بڑھانے کا لیکچر دے رہا تھا۔ یہ کہانی ہے ان چار غنڈوں اور ان کے گھیرے میں پھنسی مجھ جیسی شریف رضیہ کی۔ ابھی تک نہ ان چاروں نے دباؤ ختم کیا ہے، نہ میں نے مطالبات مانے ہیں۔
چنو، منو، پنو، ٹنو چار لڑکے
تھے بہت لڑاکے
کھیلتے تھے شور کر کے
باتیں ماننے والے نہ تھے
ایک دن چڑھ دوڑے
لگے کرنے ضد
گھومیں گے، پھریں گے، مزے کریں گے
جب بات پوری نہ ہوئی تو کرنے لگے شور
اس واقعے پر ایک ناکام شاعری کی کوشش کی ہے جو کہ آزاد نظم کے زمرے میں بھی نہیں اتی۔ مگر آپ برداشت کریں جب تک مجھے شاعری کی الف بے نہ آجائے۔



تبصرہ لکھیے