انسانی تاریخ کے تمام مقدس رشتوں میں اگر کسی ایک تعلق کو کائناتی تقدیس حاصل ہے تو وہ ماں کا رشتہ ہے۔ یہ وہ نسبت ہے جو محض حیاتیاتی تعلق نہیں بلکہ روحانی، تہذیبی، اخلاقی اور وجودی معنویت کی حامل ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اُس کی پہلی کائنات ماں کی آغوش ہوتی ہے۔
اُس کی پہلی زبان ماں کی لوری، پہلا فلسفہ ماں کی شفقت، پہلا مذہب ماں کی دعا، اور پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اسی لیے تہذیبوں کے زوال و عروج کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن معاشروں نے ماں کے مقام کو بلند رکھا، وہ اخلاقی استحکام سے بہرہ مند رہے، اور جن قوموں نے ماں کو محض ایک سماجی کردار سمجھ کر نظر انداز کیا، اُن کی روحانی بنیادیں کمزور پڑ گئیں۔ عالمی یومِ مادر دراصل اسی عظیم ہستی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ماں صرف ایک دن کی محتاج ہے؟ کیا اُس ہستی کی عظمت کو چند رسمی جملوں، مصنوعی تحفوں اور نمائشی تصاویر میں سمویا جا سکتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی اولاد کے نام کر دی؟
حقیقت یہ ہے کہ ماں ایک دن نہیں، ایک مکمل کائنات ہے؛ ایک ایسا استعارہ جس کے بغیر انسان کی داخلی دنیا ویران ہو جاتی ہے۔ معروف شاعر عباس تابش کے یہ شعر اسی ازلی سچائی کا اظہاریہ ہے:
کلاہ و تخت سے شہزادگی بالکل نہیں مشروط
کہ جب تک ماں ہو زندہ، بوئے سلطانی نہیں جاتی
یہ شعر محض جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور معاشرتی شعور کی عمیق تعبیر ہے۔ انسان خواہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جائے، شہرت و دولت کے تمام زینے طے کر لے، مگر اُس کی اصل عظمت ماں کی دعا سے وابستہ رہتی ہے۔ ماں زندہ ہو تو انسان کے اندر ایک روحانی تحفظ موجود رہتا ہے۔ اُس کی موجودگی زندگی کے تمام اندھیروں میں امید کی ایک روشن قندیل بن جاتی ہے۔ جدید دنیا کے مادّی تمدن نے انسان کو بے شمار سہولتیں عطا کیں، مگر اُس کے بدلے اُس سے رشتوں کی حرمت چھین لی۔ آج کا انسان تکنیکی اعتبار سے ترقی یافتہ مگر جذباتی اعتبار سے تنہا ہو چکا ہے۔ مشینی زندگی نے احساس کی لطافتوں کو مضمحل کر دیا ہے۔
مغربی معاشروں میں اولڈ ہومز کی بڑھتی ہوئی تعداد اس تہذیبی المیے کا واضح ثبوت ہے جہاں مائیں زندگی کے آخری ایّام تنہائی، بے اعتنائی اور خاموش اذیت میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف سماجی بحران نہیں بلکہ انسانیت کے اخلاقی انہدام کی علامت ہے. افسوس ناک امر یہ ہے کہ مشرقی معاشرے، جو کبھی خاندانی اقدار، والدین کے احترام اور مادری عظمت کے امین سمجھے جاتے تھے، اب اسی فکری انتشار کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اب مادّہ پرستی، خود غرضی اور انفرادی آزادی کے نام پر خاندانی رشتوں کی روح کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ نئی نسل کامیابی کو دولت، شہرت اور آسائشوں میں تلاش کر رہی ہے، جبکہ ماں کی دعا، اُس کی خدمت اور اُس کے احترام کو ثانوی حیثیت دی جا رہی ہے۔ یہ رویّہ محض اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ تہذیبی انحطاط کی ابتدائی علامت ہے۔
اسلام نے ماں کے مقام کو جس رفعت سے نوازا، اُس کی نظیر انسانی تاریخ کے کسی اور فکری نظام میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو عبادت کے بعد سب سے بڑی نیکی قرار دیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: “جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔” اس فرمان میں محض جذباتی ترغیب نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی فلسفہ مضمر ہے۔ دراصل اسلام یہ واضح کرتا ہے کہ ماں کی خدمت انسان کے اخلاقی وجود کی تکمیل ہے۔ جو شخص اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کر سکتا، وہ انسانیت کے حقیقی جوہر سے محروم رہتا ہے۔
ماں کی ذات قربانی کی وہ معراج ہے جس کی مثال فطرت میں ناپید ہے۔ ایک ماں اپنی خواہشات، اپنی نیند، اپنی جوانی، حتیٰ کہ اپنی شناخت تک اولاد کے نام کر دیتی ہے۔ وہ خود دکھ سہہ لیتی ہے مگر اولاد کے چہرے پر اداسی برداشت نہیں کرتی۔ اُس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا انعام اولاد کی کامیابی اور سب سے بڑی اذیت اولاد کا دکھ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے عظیم انسانوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو پسِ منظر میں ایک عظیم ماں کی شخصیت ضرور دکھائی دیتی ہے۔ علامہ محمد اقبال ہوں یا محمد علی جناح، امام بخاری ہوں یا ٹیپو سلطان یا مختلف مکتبہ فکر کے دانشور، ان تمام عظیم شخصیات کی فکری و اخلاقی تربیت میں ماں کی شخصیت بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
اقبالؒ جیسے فلسفی شاعر بھی جب ماں کی وفات پر قلم اٹھاتے ہیں تو اُن کے لہجے میں ایک بے بسی، ایک ٹوٹا ہوا پن اور ایک روحانی خلا نمایاں ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ انسان کے وجود کی داخلی پناہ گاہ ہوتی ہے۔آج کے دور کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ماں کی عظمت کو “تقریباتی کلچر” تک محدود کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹیں لکھ دینا، ایک دن پھول پیش کر دینا یا نمائشی محبت کا اظہار کر دینا کافی نہیں۔ ماں کو سب سے زیادہ ضرورت احساس، وقت، توجہ اور احترام کی ہے۔ وہ اولاد سے قیمتی تحائف نہیں مانگتی، بلکہ چاہتی ہے کہ اُس کی اولاد اُس کے ساتھ محبت سے بات کرے، اُس کی تنہائی کو سمجھے، اُس کی تھکن محسوس کرے، اور اُس کے بڑھاپے کو بوجھ نہ سمجھے۔
بدقسمتی سے موجودہ معاشرہ “استعمالی تعلقات” کی نفسیات کا شکار ہو چکا ہے۔ اب رشتے بھی مفادات کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں۔ مگر ماں واحد ہستی ہے جو بے غرض محبت کرتی ہے۔ وہ اولاد کے ناکام ہونے پر بھی اُس کا ہاتھ نہیں چھوڑتی۔ دنیا انسان کو اُس کی کامیابی کے پیمانے سے جانچتی ہے، مگر ماں انسان کو اُس کے وجود سے محبت کرتی ہے۔عباس تابش کا یہ شعر اسی احساس کی معراج ہے:
وہ اکثر خواب میں آ کر، میری حالت پہ روتی ہے
کہ زیرِ خاک بھی، ماں کی پریشانی نہیں جاتی
یہ شعر دراصل ماں کے ازلی احساس کی علامت ہے۔ ماں مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔ اُس کی دعا، اُس کی یاد، اُس کی شفقت اور اُس کی فکر انسان کے باطن میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ بعض اوقات انسان زندگی کے ہجوم میں برسوں ماں کی قربانیوں کو محسوس نہیں کر پاتا، مگر جب وہ دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے تو گھر کی خاموش دیواریں بھی نوحہ سنانے لگتی ہیں۔ پھر کسی پرانے دوپٹے کی خوشبو، کسی دعا کی بازگشت، کسی آواز کی لرزش یا کسی خواب کی نمی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔معاشرتی سطح پر ہمیں ماں کے کردار کو محض گھریلو ذمہ داریوں تک محدود کرنے کے بجائے اُسے تہذیبی معمار کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہوگا۔
ایک ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ ایک نسل کی فکری تشکیل کرتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ، باشعور، باوقار اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو تو معاشرہ بھی اخلاقی استحکام حاصل کرتا ہے۔ ماں دراصل قوموں کی پہلی استاد اور تہذیب کی پہلی معمار ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے تعلیمی نظام پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ ہم بچوں کو جدید علوم، ٹیکنالوجی اور مسابقتی دوڑ تو سکھا رہے ہیں، مگر اُنہیں رشتوں کی حرمت، والدین کی عظمت اور ماں کی خدمت کا شعور نہیں دے پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل ذہنی طور پر ترقی یافتہ مگر جذباتی طور پر مفلس ہوتی جا رہی ہے۔عالمی یومِ مادر کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے رویّوں کا محاسبہ کریں۔
ہم سوچیں کہ کیا ہماری مصروفیات نے ہمیں اپنی ماں سے دور کر دیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی اُس عورت کے ہاتھ تھام کر شکریہ ادا کیا جس نے اپنی پوری زندگی ہماری خوشیوں کے لیے وقف کر دی؟ کیا ہم نے کبھی اُس کی خاموش قربانیوں کو سمجھنے کی کوشش کی؟
حقیقت یہ ہے کہ ماں کا قرض کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ انسان اپنی پوری زندگی بھی اُس ایک رات کا حق ادا نہیں کر سکتا جو ماں نے اُس کی بیماری میں جاگ کر گزاری ہوتی ہے۔ ماں کی محبت دراصل خدا کی رحمت کا زمینی عکس ہے۔ شاید اسی لیے ماں کے چہرے میں انسان کو ہمیشہ ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ آج جب دنیا جنگوں، نفرتوں، معاشی عدم مساوات، ذہنی دباؤ اور روحانی بے چینی کا شکار ہے تو انسانیت کو سب سے زیادہ ضرورت ماں جیسی شفقت، برداشت، ایثار اور محبت کی ہے۔ اگر معاشرے ماں کے اوصاف کو اجتماعی رویّوں کا حصہ بنا لیں تو دنیا نفرت کے بجائے محبت، تشدد کے بجائے رحم، اور خود غرضی کے بجائے ایثار کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
ماں صرف ایک فرد نہیں، ایک تہذیب ہے۔
ماں صرف ایک رشتہ نہیں، ایک مکمل کائنات ہے۔
ماں صرف محبت نہیں، خدا کی رحمت کا سب سے روشن استعارہ ہے۔
اور شاید اسی لیے انسان زندگی کے تمام موسموں سے گزر جائے، مگر ماں کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔ کیونکہ دنیا میں ہر چیز کا نعم البدل ممکن ہے, سوائے ماں کے۔ ماں محض ایک رشتہ نہیں بلکہ انسان کے وجود کی وہ پہلی روشنی ہے جس سے زندگی کے تمام معنی جنم لیتے ہیں۔ انسان دنیا کی ہر آسائش، ہر کامیابی اور ہر شہرت حاصل کر لے، مگر ماں کی دعا سے محروم ہو جائے تو اُس کی روح کے اندر ایک خاموش خلا باقی رہتا ہے۔ ماں وہ واحد ہستی ہے جو اولاد کے حصے کے دکھ اپنے نصیب میں لکھ لیتی ہے اور اپنی ساری خوشیاں اُس کے نام کر دیتی ہے۔ اُس کی محبت نہ کسی صلے کی محتاج ہوتی ہے اور نہ کسی اعتراف کی۔
عالمی یومِ مادر کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ ماں کو صرف ایک دن نہیں بلکہ زندگی کے ہر دن عزت، محبت اور توجہ دی جائے۔ اُس کے بڑھاپے کو تنہائی نہ ملے، اُس کی آنکھوں میں انتظار نہ ہو، اور اُس کے دل میں یہ احساس کبھی جنم نہ لے کہ اولاد نے اُسے فراموش کر دیا ہے۔ کیونکہ ماں کی دعا دراصل انسان کے مقدر کی سب سے خاموش مگر سب سے طاقتور محافظ ہوتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تہذیبیں عمارتوں، سڑکوں اور ایجادات سے نہیں بلکہ ماؤں کی گود میں پروان چڑھنے والی نسلوں سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر ہم اپنی ماؤں کی عزت، خدمت اور محبت کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو معاشرہ صرف ترقی یافتہ ہی نہیں بلکہ باوقار اور بااخلاق بھی بن سکتا ہے۔
ماں کی عظمت کو شاید الفاظ میں مکمل طور پر بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جتنا بھی لکھ لے، ماں کی محبت ہمیشہ تحریر سے بڑی محسوس ہوتی ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ماں وہ دعا ہے جو انسان کے ساتھ زمین سے آسمان تک سفر کرتی ہے۔ منور رانا نے کہاہے:
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے



تبصرہ لکھیے