ہوم << عسکری کامیابی، سفارتی اہمیت اور معاشی مشکلات – سلمان احمد قریشی
600x314

عسکری کامیابی، سفارتی اہمیت اور معاشی مشکلات – سلمان احمد قریشی

پاکستان میں ہر سطح پر معرکہ حق کی کامیابی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قومی بیانیے میں اس کامیابی کو عسکری حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک اہم مرحلہ ہے جس نے نہ صرف داخلی سطح پر اعتماد کو تقویت دی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے کردار کو نمایاں کیا۔

خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہا گیا اور اسے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا گیا۔غیر ملکی جریدے ایشیا ٹائمز کے مطابق پاکستان عالمی سیاست میں مڈل پاور کے طور پر ابھر رہا ہے اورپاکستان نے متوازن سفارتکاری سے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا۔بدلتے عالمی نظام میں اُن ممالک کی اہمیت بڑھ رہی ہے جو عالمی طاقتوں میں توازن برقرار رکھ سکیں پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے۔ایسے میں جشن منانا بنتا ہے۔ لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، وہ رخ جو عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے جو نہ ٹی وی اسکرین پر نمایاں ہے اور نہ ہی سرکاری بیانیے کا حصہ بنتا ہے۔

امریکہ، ایران تنازعہ نے پاکستان کو براہِ راست متاثر کیا۔ توانائی کے عالمی بحران اور رسد میں رکاوٹوں نے مہنگائی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے خورونوش کی مہنگائی اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی ہوئی لاگت نے عام شہری کی کمر توڑ دی ہے۔ اس تناظر میں عوامی سطح پر ایک طنزیہ مگر تلخ جملہ گردش کر رہا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی جنگ ہوتی ہے، اس کے تین متاثرہ فریق ہوتے ہیں دو وہ جو لڑ رہے ہوتے ہیں اور تیسرا پاکستان ہوتا ہے۔

یہ جملہ محض مزاح نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساسِ محرومی کی عکاسی ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کی بے بسی، طنز اور شکوے واضح نظر آتے ہیں۔ ایران سے تیل خریدنے والے دیگر ممالک میں قیمتوں کا موازنہ جب پاکستان سے کیا جاتا ہے تو سوالات جنم لیتے ہیں۔آخر ہم ہی کیوں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔۔؟ کیا ہماری معاشی پالیسیوں میں کوئی بنیادی خامی موجود ہے۔۔؟اسی دوران سیاسی محاذ بھی گرم ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اور سیاسی بیانیوں کی جنگ، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں جہاں قومی یکجہتی کا تصور دھندلا جاتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عام آدمی کی مشکلات، اس کی معاشی پریشانیاں اور اس کی روزمرہ جدوجہد سنجیدہ قومی بحث کا حصہ نہیں بن پاتیں۔

معرکہ حق کی کامیابی کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ کامیابی ایک اجتماعی قومی کاوش تھی، جس میں عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور عوام سب شامل تھے۔ مگر میڈیا کے بعض حلقوں میں اس کامیابی کو مخصوص شخصیات یا خاندانوں سے منسوب کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ قومی کامیابی کو ذاتی کریڈٹ میں تبدیل کرنا نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔میڈیا مینجمنٹ کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ایک طرف مہنگائی کو عالمی حالات کا نتیجہ قرار دے کر اس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دوسری طرف ترقی کے دعوے، سبسڈی والے منصوبے اور بیوٹیفیکیشن کے نام پر جاری سرگرمیاں نمایاں کی جاتی ہیں۔

پنجاب میں بیوٹیفیکیشن کے منصوبے، سڑکوں کی تزئین و آرائش اور نمائشی ترقی کے اقدامات ایک خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں مگر اس تصویر کے پیچھے چھپی حقیقت مختلف ہے۔یہ ایک کاسمیٹک ترقی ہے، ایسی ترقی جو بظاہر خوبصورت نظر آتی ہے مگر اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر محدود ہوتے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ نوجوان ڈگریاں لے کر دربدر ہیں، متوسط طبقہ سکڑتا جا رہا ہے اور غریب طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہو رہا ہے۔عالمی معیار کے مطابق اگر آمدنی کا 10% سے زیادہ یوٹیلیٹی بلز (بجلی، گیس، پانی، انٹرنیٹ) میں جائے تو اسے یوٹیلٹی پاورٹی کہتے ہیں۔اس صورت میں خاندان کو کھانے، تعلیم یا صحت جیسی بنیادی ضرورت پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے۔

اللہ رحم کرے، ہمارے ملک میں لوگ 50% سے زیادہ بلوں پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔بھارت میں بجلی2.30 روپے، بنگلہ دیش2.25 روپے اور پاکستان53.20روپے یونٹ ہے جبکہ تینوں ممالک میں فی کس اوسط آمدن پاکستان میں سب سے کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف عسکری اور سفارتی کامیابیوں پر اکتفا کر سکتے ہیں؟
کیا ایک مضبوط قوم کی بنیاد صرف میدانِ جنگ میں کامیابی سے رکھی جا سکتی ہے یا اس کے لیے معاشی استحکام بھی ناگزیر ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ قومی سلامتی کا تصور اب صرف سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک ہمہ جہت تصور بن چکا ہے جس میں معاشی استحکام، سماجی انصاف اور سیاسی استحکام بھی شامل ہیں۔ اگر عوام معاشی دباؤ کا شکار ہوں، اگر روزگار کے مواقع محدود ہوں اور اگر بنیادی ضروریات تک رسائی مشکل ہو جائے، تو عسکری کامیابیاں بھی عوامی سطح پر اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی مشکلات کے حل کے لیے ایک جامع اور مستقل قومی پالیسی تشکیل دی جائے۔ ایسی پالیسی جو وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر طویل المدتی حکمتِ عملی پر مبنی ہو۔ توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی صنعت کا فروغ، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس نظام میں اصلاحات، یہ سب وہ اقدامات ہیں جو معیشت کو مستحکم بنا سکتے ہیں۔

اسی طرح سیاسی قیادت کو بھی اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرنا ہوگا۔ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ قومی یکجہتی کا بیانیہ صرف تقاریر میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں نظر آنا چاہیے۔میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اسے صرف کامیابیوں کی تشہیر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، پالیسیوں پر تنقیدی نظر ڈالنا اور حکمرانوں کو جوابدہ بنانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔آخر میں یہ لکھنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عسکری اور سفارتی کامیابیاں ہیں تو دوسری طرف معاشی چیلنجز ہیں۔ اگر ہم نے ان دونوں کے درمیان توازن قائم نہ کیا تو یہ کامیابیاں دیرپا ثابت نہیں ہوں گی۔

ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں، حقیقت کا سامنا کریں اور ایسے فیصلے کریں جو نہ صرف آج بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔ کیونکہ قومیں صرف جنگ جیتنے سے نہیں بلکہ اپنے عوام کو بہتر زندگی فراہم کرنے سے مضبوط بنتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment