ہوم << تماشے کا عہد: سوشل میڈیا اور گرتا ہوا اجتماعی شعور – مسرور احمد
600x314

تماشے کا عہد: سوشل میڈیا اور گرتا ہوا اجتماعی شعور – مسرور احمد

کبھی کسی معاشرے کی پہچان اس کے مفکرین، ادیبوں، سائنسدانوں اور فنکاروں سے ہوا کرتی تھی۔ آج زمانہ بدل گیا ہے۔ اب قوموں کی فکری سطح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ٹرینڈنگ سیکشن میں کون ناچ رہا ہے، کون چیخ رہا ہے، کون اپنی نجی زندگی بیچ رہا ہے اور کون گالم گلوچ کو “ریئلٹی” کا نام دے کر لاکھوں فالورز سمیٹ رہا ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کتاب سے زیادہ “کلپ” اہم ہے، مطالعے سے زیادہ “ری ایکشن” قیمتی ہے اور علم سے زیادہ “وائرل ہونا” کامیابی کا معیار بن چکا ہے۔میں نے آج تک ان مشہور وی لاگرز کے مکمل وی لاگز شاید ہی کبھی دیکھے ہوں۔ کبھی کبھار سوشل میڈیا پر ان کے کلپس نظر سے گزر جاتے ہیں اور اکثر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اگر ذہنی آلودگی کو کسی بوتل میں بند کیا جا سکتا تو شاید اس کا لیبل یہی مواد ہوتا۔ یہ کوئی ذاتی برتری کا احساس نہیں بلکہ صرف ذوق اور معیار کا مسئلہ ہے۔ ہر معاشرہ اپنے مقبول ترین چہروں سے پہچانا جاتا ہے، اور جب مقبولیت کا معیار شور، بازاری پن، ذومعنی جملے اور نجی زندگی کی نمائش بن جائے تو سوال فرد پر نہیں، پورے سماج پر اٹھتا ہے۔

چند روز قبل ایک ایسے ہی “سلیبرٹی” کی کلپ دیکھی۔ میں نے طنزاً لکھ دیا کہ “شعور اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب کناروں سے اچھل اچھل کر باہر آ رہا ہے۔” یہ جملہ دراصل اس مصنوعی شعور پر طنز تھا جسے ہمارے ہاں برسوں سے ایک سیاسی و سماجی فیشن کے طور پر بیچا جا رہا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ دلیل کی جگہ جذبات نے، مطالعے کی جگہ نعرے نے اور فہم کی جگہ اندھی عقیدت نے لے لی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک پوری نسل نے “بولنے” کو “سوچنے” پر فوقیت دے دی۔میرے اس جملے پر کچھ لوگوں نے ناراضی ظاہر کی۔ کسی نے بتایا کہ فلاں وی لاگر نے پاکستان میں اتنے کروڑ روپے لائے، کسی نے اسے معاشی کامیابی کا استعارہ بنا دیا۔ یہ دلیل سن کر یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اخلاقی زوال کو جی ڈی پی (GDP) میں شامل کر لیا ہو۔

اگر صرف پیسہ کمانا ہی عظمت کا معیار ہے تو پھر دنیا کے کئی جرائم پیشہ لوگ بھی معاشی اعتبار سے “کامیاب” کہلائیں گے۔ سوال رزق کا نہیں، سوال اس راستے کا ہے جسے معاشرہ عزت دے رہا ہے۔اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے کامیابی کی تعریف بدل دی ہے۔ پہلے کامیابی کا تعلق کردار، علم، تہذیب، محنت اور تخلیقی صلاحیت سے ہوا کرتا تھا۔ آج کامیابی کا مطلب ہے زیادہ فالورز، زیادہ ویوز اور زیادہ شور۔ سوشل میڈیا نے شہرت کو جمہوری ضرور بنایا مگر اس کے ساتھ معیار کا جنازہ بھی نکال دیا۔ اب الگوردمز اس چیز کو اوپر لے جاتے ہیں جو زیادہ چونکائے، زیادہ اشتعال دلائے یا زیادہ سطحی تفریح فراہم کرے۔ یوں ایک بے سُرا گلوکار، ایک فحش جملے بولنے والا یوٹیوبر یا نجی زندگی کی نمائش کرنے والا وی لاگر راتوں رات “آئیڈیل” بن جاتا ہے۔

سماجی رویوں پر تنقید کے لیے ہمیشہ ریسرچ پیپر یا اعدادوشمار ضروری نہیں ہوتے۔ بعض اوقات معاشرے کی کھلی ہوئی حقیقتیں خود سب سے بڑی دلیل ہوتی ہیں۔ اگر ایک تعلیم یافتہ نوجوان، جس کے پاس ڈگری، تہذیب، اخلاق اور سلیقہ موجود ہو، مہینے کے بیس یا تیس ہزار پر دھکے کھا رہا ہو جبکہ دوسری طرف سطحی تفریح بیچنے والے لوگ لاکھوں کما رہے ہوں تو یہ صرف معاشی فرق نہیں بلکہ سماجی ترجیحات کا اعلان ہے۔ایک پڑھی لکھی لڑکی پرائیویٹ اسکول میں دس یا پندرہ ہزار روپے پر بچوں کو تعلیم دے رہی ہے جبکہ ایک ٹک ٹاکر چند ویڈیوز کے عوض لاکھوں کما رہا ہے۔ اس منظرنامے میں مسئلہ کسی کے رزق پر اعتراض نہیں بلکہ اس اجتماعی ذہنیت پر سوال ہے جس نے علم کو خاموش اور تماشے کو طاقتور بنا دیا ہے۔

ہماری نئی نسل اسی ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ وہ دیکھ رہی ہے کہ کتاب لکھنے والا گمنام ہے اور فضول حرکتیں کرنے والا “انفلوئنسر” ہے۔ محقق کی آواز سننے والا کوئی نہیں جبکہ چیخنے والے کے سامنے ہجوم کھڑا ہے۔ ایسے میں نوجوان آخر کس راستے کا انتخاب کریں گے؟ وہی راستہ جہاں کم محنت اور زیادہ داد ملتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب بچوں کے خوابوں میں سائنسدان، فلسفی یا ادیب کم اور “کانٹینٹ کریئیٹر” زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔یہ المیہ صرف تفریح تک محدود نہیں۔ اس نے اجتماعی شعور کو بھی متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا نے نان ایشوز کو ایشو بنا دیا ہے۔ کسی کی شادی، طلاق، جھگڑا، کپڑے، میک اپ یا ذاتی گفتگو قومی بحث بن جاتی ہے جبکہ تعلیم، صحت، تحقیق، ادب اور سماجی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ہم نے سنجیدہ موضوعات کو بورنگ اور سطحی تنازعات کو “انٹرٹینمنٹ” قرار دے دیا ہے۔

اس پورے منظر میں سب سے خطرناک چیز وہ مصنوعی اعتماد ہے جو نئی نسل میں پیدا ہو رہا ہے۔ مطالعہ نہ ہونے کے باوجود رائے موجود ہے، تاریخ کا شعور نہ ہونے کے باوجود فیصلے صادر کیے جا رہے ہیں، سماج کو سمجھے بغیر اس کی تحلیل پیش کی جا رہی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک پوری نسل معلومات کے سمندر میں کھڑی ہے مگر علم کے ایک قطرے سے محروم ہے۔یہ وہ نسل ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی اسکرین دیکھی، اور اب اسکرین ہی اس کا استاد، دانشور اور قبلہ بن چکی ہے۔طنز کی اصل روح اصلاح ہوتی ہے۔ مقصد کسی فرد کی تضحیک نہیں بلکہ اس اجتماعی رویے پر سوال اٹھانا ہے جس نے “مشہور ہونے” کو “قابل ہونے” پر ترجیح دے دی ہے۔

اگر معاشرہ مسلسل انہی چہروں کو سراہتا رہے گا جو سطحی پن، بازاریت اور شور بیچتے ہیں تو آہستہ آہستہ وہی رویے ہماری اجتماعی شناخت بن جائیں گے۔معاشرہ آخرکار انہی چیزوں کی شکل اختیار کرتا ہے جنہیں وہ مستقل دیکھتا، سنتا اور وائرل کرتا ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا دینا چاہتے ہیں: کتاب یا کلپ؟ شعور یا شور؟ کردار یا تماشا؟
کیونکہ قومیں صرف معیشت سے نہیں، اپنے ذوق سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔ اور جب کسی قوم کا ذوق مرنے لگے تو اس کے بعد صرف قہقہے باقی رہ جاتے ہیں، تہذیب نہیں۔شاید اسی لیے آج سب سے بڑا المیہ غربت یا بے روزگاری نہیں بلکہ معیار کا زوال ہے۔ ہم نے ذہانت کو تفریح، سنجیدگی کو دقیانوسیت اور اخلاق کو کمزوری سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ اب ہر شخص مشہور ہونا چاہتا ہے، قابل ہونا نہیں۔

اور جس دن کسی معاشرے میں قابلیت سے زیادہ شہرت اہم ہو جائے، سمجھ لیجیے وہاں زوال صرف دروازہ نہیں کھٹکھٹا رہا ہوتا بلکہ اندر داخل ہو چکا ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

مسرور احمد

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment