ہوم << دین اسلام میں بھوکے کو کھانا کھلانے کی فضیلت – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

دین اسلام میں بھوکے کو کھانا کھلانے کی فضیلت – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بہت بڑی عبادت اور اجر و ثواب کا باعث ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی خوشنودی حاصل ہو تی ہے. جب کوئی کام اللہ کی رضا کیلئے کیا جا تا ہے تو اللہ کریم اپنے اس بندے پر رحمت نازل فرماتے ہیں.

اللہ جل شانہُ فرماتے ہیں:
”مگر انسان کا حال یہ ہے اس کا رب جب اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنادیا۔ اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا“.(سورہ ئفجر51-61)

بھوکوں کو کھانا کھلانے کے دنیا میں بے شمار فائدے ہیں بھو کوں کو کھا نا کھلانے سے معاشرے کے مالدار اور غریبوں کے درمیان نفرت وکدورت کی دیوار کھڑی نہیں ہوتی۔چوری ڈکیتی کی وارداتیں، قتل کے واقعات نہیں ہوتے، رشتے ناطے خراب اور ٹوٹتے نہیں ہیں۔ بھوکوں کو کھاناکھلانے سے معاشرے میں محبت والفت کی فضاء قائم ہوتی ہے۔ تعاون وہمدردی کا ماحول پروان چڑھتا ہے۔ بھوکوں کھانا کھلا نا اسلام کے نزدیک بہت ہی بڑی نیکی ہے اس کے ذریعہ بندہ رب سے قریب ہوتا ہے۔ جنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ آخرت کی کامیابی، بلند درجات، اللہ کی نصرت ومدد آتی ہے۔اسلام بھوکوں کو کھا نا کھلانے پر بہت زور دیتا ہے۔اس کو مالداروں پر حق بتا یا ہے۔

بھوکوں اور ضرورت مندوں کے کام آنے کے فوائد درج ذیل ہیں:
اللہ کی رضا حاصل ہو تی ہے
اللہ کی رضا اور آخرت کی فلا ح کے لیے ضروری ہے کہ بھوکوں کا خیال رکھا جائے

”اللہ کی محبت میں اپنا دل پسندمال رشتے داروں اور یتیموں مسکینوں اور مسافروں پر مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے“ (البقرہ)۔
اسی طرح سورہ روم کی آیت38 میں ارشاد ہے
”رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین ومسافر کو (اس کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے ان لو گوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں اور وہی فلاح پانے والے ہیں.“

اسلام کے نزدیک سب سے اچھا عمل بھوکوں کو کھا نا کھلانا ہے۔ ایک شخص نے رسول ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے افضل اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایاکھانا کھلانا ہر شخص کو سلام کرنا خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو .(بخاری، مسلم)

اسلام کی نظر میں بھوکے انسان کو کھانا کھلانا سب سے بہترین صدقہ ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
”بہترین صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کوپیٹ بھر کھانا کھلائے.“

وہ شخص ایمان نہیں رکھتا جو خود تو پیٹ بھر کرکھا لے اور اس کا ہمسایہ اس کے پہلو میں بھو کا رہ جائے (بخاری، مسلم)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
تم مریض کی عیادت کرو،بھو کے کو کھانا کھلاؤ اور قیدی کی رہائی کا انتظام کرو.(بخاری)

بھوکے کو کھانا کھلانے سے دل نرم ہوتا ہے۔ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے شکایت کی اے اللہ کے رسولﷺمیرا دل سخت ہے حضورﷺنے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو.(مسند احمد)

جو شخص مسکینوں کی مدد کرنے لیے دوڑ دھوپ کرتا ہے اس کا اسلام میں بڑا مقام ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا (حضرت ابوہر یرہ ؓ راوی حدیث کہتے ہیں) مجھے یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ حضور ﷺنے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا رہے اور آرام نہ لے اور وہ پے درپے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے. (بخاری و مسلم)

ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا اسلام میں نیکی اور پسندیدہ عمل ہے لیکن بھوکوں کو کھا نا کھلانا بہت ہی اونچا عمل ہے۔ اس لیے کہ دوسری ضرورت کے باوجود انسان زندہ رہ سکتا ہے لیکن بھوک کے بعد تو موت ہی ہے۔ قرآن مجید میں اہل ایمان اور جنتیوں کی علامت بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی محبت میں غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں:

اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور ان سے کہتے ہیں) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ.(الدھر:8-9)

غلاموں کو غلامی سے آزاد کرانا، مسکین و یتیم کو کھانا کھلانا بہت بڑی نیکی ہے. خاص کر جب کہ قحط کی وجہ سے فا قہ کشی کی نوبت آ گئی ہو لوگ بھوک سے موت کے قریب آ لگے ہوں .ایسے فاقے کے دنوں میں کسی فاقہ کش کو کھانا کھلانا اور بڑی نیکی ہو جاتی ہے اور اس کی اہمیت اور کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ نیکی کرنا بڑی دشوار گزار بات ہے اسلام میں بھوکوں اور مجبوروں کا خیال نہ رکھنا بہت بڑا جرم ہے اس کے سلسلہ میں بڑی وعیدیں ہیں۔جو لوگ دنیا میں اپنی مالداری اور طاقت کے نشہ میں چور رہتے ہیں۔مسرفانہ، پرتعیش زندگی گزارتے ہیں، بھوکوں وضرورت مندوں کا کبھی خیال تک نہیں آتا بلکہ اپنی طاقت کے نشہ میں غریبوں کو خاطر میں نہیں لاتے، نہ تو خود بھوکوں کو کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو بھوکوں کو کھلانے پر ابھارتے ہیں۔

اللہ کے نزدیک اہل ثروت کا یہ طرز عمل نہایت مبغوض ہے ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ ان کو جہنم میں پھینک دے گا۔ ارشاد ربانی ہے:
”(حکم ہو گا) پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو پھر اسے جہنم میں جھونک دو پھر اس کو ستر ہا تھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ پر ایمان لاتا ہے اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا.“(الحاقہ30-34)

جو شخص ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال نہیں رکھتا ،یتیم وبے سہارا کا ہمدردی کا کوئی جذبہ نہیں رکھتا، نہ بھوکوں کو خود کھانا کھلاتا ہے، نہ کسی کو کھانا کھلانے پر اکساتا ہے اور جب یتیم بے سہارا مسکین اس کے پاس آئے اور منع کرنے کے بعد بھی اپنے ضرورت رکھے منت سماجت کرے، تو اس کا دل نہ پسیجے اور نرم نہ پڑے بلکہ وہ ان کو دھتکارے دے حقارت سے بھگانے کی کوشش کرے دھکے دے .

یہ ایسی رذیل حرکت ہے کہ کوئی ایسا شخص جس کے دل میں ایمان ہو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ ایسا تو وہی آدمی ہی کر سکتا ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا جو اللہ کے حضور جواب دہی کے احساس خالی ہو۔ وہی شخص انفاق فی سبیل اللہ، خدمت خلق، مسکین کی ہمدردی اور بھوکے کو کھانا کھلانے کے جذبہ سے عاری ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا وسزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اکساتا.“(سورہ ماعون1-3)

بھوکے کو کھانا نہ کھلانا مال کی حرص کی وجہ سے ہوتا ہے یتیم کا مال ہڑپ کرنا اس کا احترام نہ کرنا مسکینوں کو کھانا نہ کھلانا اور نہ دوسروں کو اس کے لیے اکسانا بھوکوں کی بھوک مٹانے کی طرف توجہ نہ دینا۔ مال کی حرص اور بے جا محبت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔(سورہ فجر:5)

قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں زکوٰۃ کے مصارف بتائے ہیں ان میں فقیر اور مسکین کا ذکر کیا ہے لیکن عام طور پر جہاں صدقہ کرنے کی بات فرمائی ہے وہاں زیادہ تر مسکین کا ہی ذکر کیا ہے۔ مذکور بالا آیات اور احادیث میں مسکین کا ذکر ہی کیا گیا ہے. مسکین کون لوگ ہوتے ہیں حدیث میں اس کی بھی وضاحت فرمادی گئی ہے.

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے دوازے کے چکر لگاتا ہے اور ایک لقمہ دو لقمے اور ایک کھجور اور دو کھجور لے کر لوٹتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے کہ جو اتنا مال نہیں رکھتا ہے کہ اپنی ضرورت پوری کر سکے اور اس کی غربت کو لوگ سمجھ نہیں پاتے کہ اسے صدقہ دیں اور نہ وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو کر ہاتھ پھیلا تا ہے۔ (بخاری مسلم)

نبی کریمﷺلوگوں کا بہت خیا ل رکھتے تھے کسی سائل اور ضرورت مند کو واپس نہیں کرتے تھے۔ اگر آپ کے گھر میں کچھ بھی نہیں ہوتا تو صحابہؓ کو آمادہ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضور نبی کریم ﷺکے مبارک اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو نے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین