سابق صدرپاکستان جنرل ضیاء الحق مرحوم کا یہ کارنامہ صدیوں یاد رکھا جا ئے گا. جب انہوں نے منکرین ختم نبوت قادیانیوں پر امتناع قادیانیت آرڈیننس جا ری کیا اور ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر دی .اور ان کی جداگانہ حیثیت کو قائم کیا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہلواسکتے .
اس سے پہلا کارنامہ مرحوم ذوالفقا ر علی بھٹو نے 1974میں سر انجام دیا لیکن اس کے بعد قادیانی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور 1984میں جب جنرل ضیاء الحق صدر تھے .انہوں نے قادیانیوں کے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کا نفاذکردیا. ان کی آن ریکارڈ تقاریر اور انٹرویوزاس پر شاہد ہیں. بیک وقت سیاسی اور دفاعی میدان میں ذمہ داری نبھانے کے باوجود انہوں نے مادیت کو روحانیت پر غالب نہیں ہونے دیا اور اپنے مزاج و مذاق کے مطابق دین کو ہمیشہ مقدم رکھا. اسی طبعی شرافت اور دینداری کا اثر ہی تھا کہ انہیں دشمنان اسلام سے حد درجہ نفرت تھی اوران کی سیاسی امور میں مداخلت اور حکومتی عہدوں پر تعیناتی کوگوارا نہیں کرتے تھے۔
اسی سلسلہ کی ایک کڑی ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ ہے ،جسے جاری کر کے انہوں نے امت مسلمہ کے حقیقی ترجمان اور نظریاتی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا. اوروہ آرڈیننس قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔دفاع ختم نبوت کے سلسلہ میں یہ تیسری تحریک دراصل سابقہ 53 اور 74 دو نوں تحریکوں کاحتمی نتیجہ اور امت مسلمہ بالخصوص اسلامیان پاکستان کی جانی ومالی قربانی اور سیاسی وقانونی جد وجہد کا ثمرہ تھی. اللہ تعالیٰ نے مجاہدین ختم نبوت کی مخلصانہ کاوشوں کی بدولت اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا.
26 اپریل 1984 ء کو آرڈیننس نمبر 20 موسوم بنام ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ جاری کیا اور اس آرڈیننس کے ذریعے تعزیرات پاکستان کی دفعہ298-B اورC کا اضافہ کیا گیا .جس کے تحت قادیانیوں کے دونوں گروپوں احمدیوں اورلاہوریوں لئے تمام شعائراسلام کے اظہار پرپابندی عائد کر دی گئی. اس پابندی کی رو سے قانوناً منع کر دیا گیا کہ قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، ا پنی عبادتگاہ کو مسجد کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے ،اپنی عبادتگاہ پر مینار کھڑے نہیں کر سکتے، مرزا غلام قادیانی کو جس شخص نے دیکھا اس کو صحابی قرار نہیں دے سکتے، مرزاغلام قادیانی کی بیوی کو ام المؤمنین اور اس کے اہل خانہ کو اہل بیت نہیں کہہ سکتے۔غرضیکہ نہ اسلامی شنا خت کی طرف مشعر کسی لقب کو استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی شعائر دینی کا اظہار کر سکتے ہیں۔
حکومت کی طرف سے مذکورہ پابندی اہل علم،عوام و خواص اور پوری امت کے دل کی آواز تھی اور اس فیصلے نے مذہبی او رعوامی حلقوں میں خوب داد و تحسین وصول کی۔اس لئے کہ اسلامی شعائر کا مسئلہ دین میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے،شعائر وہ چیزیں کہلاتی ہیں جو کسی بھی مذہب کا خاصہ ہوتی ہیں اور اس مذہب کو دوسرے مذہب سے جدا کرتی ہیں جیسے اذان،قربانی اور حج وغیرہ کا تعلق خالصتاً اسلام سے ہے. یہ عبادات کسی دوسرے مذہب میں مشروع نہیں رہیں تو اس بناء پریہ چیزیں اسلام کے شعائر تصور کی جائیں گی . اب اگر کوئی شخص اسلام مخالف نظریات کا حامل ہو،ملحدانہ اور باطل عقائد کا معتقد ہو اوراس کے باجود اپناتعارف اسلامی تشخص کے طور پر کروائے اور اپنے آپ کو مذہب کے لبادے میں ملبوس کر کے لوگوں کے سامنے آئے تواس سے دینی قدریں پامال ہوں گی اور اسلام کا ڈھانچہ مجروح ہو گا.
اس کے اس طرز عمل سے یہ تأثر قائم ہو گا کہ شاید یہی اس مذہب کی تعلیمات ہیں اور اسلام جو کہ دین فطرت اور بیش بہا خوبیوں کا حامل مذہب ہے. ایسے لوگوں کی گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے اقوام عالم کے سامنے اپنی قدر کھودے گالہٰذااس قانون کا نفاذ شعائر اسلام کامحافظ ہونے کی وجہ سے اسلامیان پاکستان کیلئے خوش آئند قرار پایا۔ اگر اس قانون کو تسلیم کرنے کی بات کی جائے تو اس حوالے سے معروضی صورتحال یہ ہے کہ قادیانی روز اول سے اس قانون کو اعتقادی اور عملی طور پر ماننے سے انکاری رہے ہیں۔اعتقادی طور پر وہ خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس بات کا رونا روتے ہیں کہ ہم پر یہ بلا جواز پابندیاں عائد کر کے ہمارے مذہبی حقوق کو سلب کیا گیا ہے اور مسلمانوں کی فہرست سے نکال کر ہم پر ظلم عظیم کیا گیا ہے.
پھر اپنے نام نہاد حقوق کی جنگ لڑنے اور مذہبی آزادی کا بے بنیاد مقدمہ لڑنے کے لئے اپنے آقا امریکہ کی دہلیز پر جا کر اپنا سر رگڑتے ہیں اور اس کے ذریعے سے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ ہمیں ان پابندیوں سے آزاد کیا جائے،کسی ملک کے قانون پر عمل نہ کرنا چھوٹا جرم ہے لیکن سرے سے اس کے قانون کو ہی ٹھکرا دینا غداری اور ایک منتخب حکومت کی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے. ہمارے حکمرانوں کا یہ طرز عمل انتہائی افسوسناک اور ان کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان ہے کہ جو لوگ ملک کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور غیر مسلم اقلیت ہونے کے باوجود بڑی ڈھٹائی سے خود کو مسلمان باور کروا رہے ہیں.
ان کو ملک میں برداشت بھی کرتے ہیں اور وقتا فوقتا اپنے بیانات، پریس کانفرنسز اور نجی ملاقاتوں میں ان کو قانون میں نرمی لانے کی تسلیاں بھی دیتے ہیں اور جو لوگ فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں سرگرم عمل ہیں ان کے اسلام مخالف بیانیے اور ملک دشمن سرگرمیوں کا پردہ چاک کرکے ان کی حقیقت اور ا صلیت عوام پرآشکارا کرتے ہیں اورانہیں قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں. ا یسے عاشقان دین اور محبان وطن کے گرد گھیرا تنگ کر کے انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ دفاع ختم نبوت کے محاذ سے دور رہیں اور نماز روزہ پڑھ کر،سیدھے سادھے مسلمان بن کر زندگی گزاریں؟
یاد رکھیے!
قادیانیت جس قدر اسلام اور اہل اسلام کے لئے خطرناک ہے اتنا کوئی اور مذہب نہیں،اس لئے کہ بقیہ تمام کفار اپنے آپ کو مسلمان ڈکلیئر نہیں کرتے اور اپنی عبادات،فرائض اور رسومات الگ ٹائٹل کے ساتھ کرتے ہیں جس سے اسلامی تعلیمات پر قدغن نہیں لگتی،مثلا عیسائیوں کا ایک فرقہ تثلیث یعنی تین خداؤں کا قائل ہے اور یہ نصاریٰ کا مشہور عقیدہ ہے،اب ان کے اس عقیدے کو جان کر کوئی شخص بھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہو گا کہ یہ عقیدہ اسلام کا ہے.
اس لئے کہ یہ عقیدہ بیان کرنے والا مدعی عیسائیت ہے نہ کہ مدعی اسلام یعنی وہ اپنا عقیدہ نئے مذہب کے تعارف اور شناخت کے ساتھ بیان کر رہا ہے۔اب مسلمان ختم نبوت کے قائل ہیں اور یہ عقیدہ قرآن و سنت کی صحیح اور صریح نصوص اور اجماع امت سے ثابت ہے. مرزائی اس قطعی عقیدے کا ظلی اور بروزی کی تاویل کے چور دروازے سے انکار کرتے ہیں اور اجرائے نبوت کے قائل ہیں،توجو غیر مسلم مرزائیوں سے یہ عقیدہ سنے گا وہ یہ سمجھے گا کہ اجرائے نبوت کا عقیدہ اسلام کاہے حالانکہ اسلام کا عقیدہ ختم نبوت کا ہے. اس لئے اکابر فرماتے ہیں کہ قادیانی فرقہ نہیں بلکہ فتنہ ہے جو کہ اسلام کیلئے تمام انواع کے کفار سے زیادہ خطرناک ہے۔
بہر حال یہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کا شاندار کارنامہ ہے جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا،ان کے اس اقدام پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے کوئی بھی کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں بھی اور آخرت میں کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے گا،ان شاء اللہ تعالیٰ۔



تبصرہ لکھیے