تحریر: عابد حسین دستی
جماعت اسلامی نے اپنے کوٹے سے نشستیں دے کر اتحاد کی لاج رکھ دی۔ دوسری طرف بی این پی نے کسی بھی اتحادی کو خواتین کی مخصوص نشست پر نامزد نہ کرکے وقتی سیاست کی واضح مثال قائم کر دی، جبکہ جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی وسعِت ظرف اور اصولی موقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربانی دے کر اتحادیوں کو اکاموڈیٹ کیا۔ قومی جمہوری پارٹی کی نامزد خاتون ممبر، قومی جمہوری پارٹی کی صدر بیرسٹر تسمیہ پردھان نے جماعت اسلامی بنگلادیش کے کردار، عمل، دیانت اور خدمت کو سراہتے ہوئے مخصوص نشستوں کے معاملے پر اتحادیوں کو نشستیں دینے پر زبردست خراِج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ایک کونسلر کی سیٹ کے لیے سیاسی جماعتیں دست و گریباں ہو جاتی ہیں، لڑائیاں، جھگڑے، فسادات، سیاسی اپروچ، سفارشی کلچر، لابنگ اور گروپنگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں، وہاں جماعت اسلامی نے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ یہ وہ پارلیمنٹ کی نشستیں ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے لوگ کروڑوں، اربوں روپے خرچ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں قتل و غارت، دہشتگردی اور غنڈہ گردی تک اسی مقصد کے لیے کی جاتی ہے کہ کسی طرح پارلیمنٹ تک رسائی حاصل ہو۔ لیکن اس کے برعکس جماعت اسلامی بنگلادیش نے اپنی نشستیں اتحادیوں کو دے کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔
یہ وہ جماعت ہے جو سیاست کی تطہیر چاہتی ہے۔
جو اقتدار کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی فلاح کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
جو پارلیمنٹ میں جا کر عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے جذبے سے کام کرتی ہے۔
جماعت اسلامی بنگلادیش نے ہر باصلاحیت، دیانتدار اور مخلص نوجوان اور خواتین کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے خاندانی اور موروثی سیاست کا خاتمہ کیا، جس نے پارلیمنٹ میں جا کر سرکاری مراعات، پلاٹس اور گاڑیوں کو ٹھکرا کر عملی مثال قائم کی۔ کسی بھی اضافی مراعات کو قبول نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جماعت واقعی نظریاتی بنیادوں پر سیاست کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی بنگلادیش ملک میں عدِل اجتماعی قائم کرنا چاہتی ہے، جہاں ہر فردچاہے وہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا۔اس کی بنیادی ضروریات پوری ہوں، جہاں انصاف، مساوات اور بھائی چارہ ہو، اور جہاں سیاست خدمت کا ذریعہ بنے، نہ کہ لوٹ مار کا۔ یہی وہ فرق ہے جو جماعت اسلامی بنگلادیش کو دیگر سیاسی جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے۔


تبصرہ لکھیے