ہوم << پروٹوکول کا ملک – افشاں نوید
600x314

پروٹوکول کا ملک – افشاں نوید

کل نصف شب کو شاہراہ فیصل کراچی پر ہم لب سڑک کھڑے تھے…
نہ احتجاج کر رہے تھے، نہ جلوس تھا۔۔۔ نہ کوئی حادثہ ہوا تھا. بس کرکٹ ٹیم گزر رہی تھی۔ اور اس ایک “اہم گزرگاہ” پر جہاں درجنوں شادی ہال،ہوٹلز، ہزاروں مہمان ، چند لمحے نہیں بلکہ آدھا گھنٹے ہم کھڑے رہے۔ وہ آدھا گھنٹہ اس نظام کی پوری کہانی تھا۔

گاڑیوں میں بیٹھے بچے نڈھال، بزرگ تھک کر خاموش، اور ہم سوچ رہے تھے . یہ ملک “عوام” کا نہیں… “پروٹوکول” کا ہے۔ کراچی والے تو ویسے بھی ٹریفک میں پھنس کر، سڑک پر کھڑے ہو کر، اور پروٹوکول میں کچلے جا کر بھی زندہ رہنے کا فن جانتے ہیں. اب خبر آئی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔ اگر کرکٹ ٹیم کے گزرنے پر شہر رک سکتا ہے، تو ایک عالمی طاقت کے سربراہ کی آمد پر کیا ہوگا؟ذہن تخمینہ میں الجھ گیا۔ شاید ٹریفک نہیں، شہری معطل ہو جائیں۔ اور وزیر داخلہ ہمیں سرکاری طور پر ہدایات دیں
محترم شہریو! اگلے چند دنوں کے لیے آپ اپنی نقل و حرکت محدود کر لیں۔”

اگر ممکن ہو تو خود کو گھروں میں محصور رکھیں،اور اگر بہت ضروری ہو تو خندقیں کھود کر قومی ذمہ داری ادا کریں!
یہاں مسئلہ کسی ایک شخصیت کا نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا، نہ کسی اور کا۔مسئلہ ایک سوچ کا ہے۔جہاں “اہمیت” کا مطلب طاقت ہوتا ہے، اور “قیمت” ہمیشہ عام آدمی ادا کرتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں سیکیورٹی سخت ہوتی ہے، مگر زندگی معطل نہیں ہوتی۔ وہاں راستے بند نہیں کیے جاتے، راستے نکالے جاتے ہیں۔

ہم نے مگر ایک آسان راستہ چن لیا ہے:
عوام کو روک دو… یعنی ایک ٹیم گزرے گی اور پورا شہر “Pause” پر چلا جائے گا۔گاڑیاں بند، سڑکیں بند، عقل بند ، بس پروٹوکول کھلا۔ پٹرول مہنگا ہو تو اسکول بند،دفاتر بند۔۔۔مسئلہ حل۔ بارش ہو تو شہری گھروں میں رہیں ۔۔نکلتے کیوں ہیں جو گڑھوں میں گرتے ہیں۔ ہم کراچی والے عادی ہو چکے ہیں۔ جانتے ہیں کہ یہاں ٹریفک بھی طاقت کے تابع ہے، وقت بھی… اور انسان بھی۔

مگر سوال تو ہے: ایک مہمان کی آمد کے لیے پورے شہر کی سانس روک دی جائے؟

ہمیں مان لینا چاہیے کہ یہ ملک “پروٹوکول” کے زیرِ انتظام ہے. اگر اگلی بار واقعی کوئی “بڑا” مہمان آئے ، تو براہِ کرم ہمیں پہلے سے بتا دیا جائےتاکہ ہم اپنے اپنے بیلچے رکھ کر وقت پر خندقوں میں پہنچ سکیں۔

مصنف کے بارے میں

بلاگز

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment