ہم مسلمان ہیں، اور ہمارے بنیادی عقائد میں ایک نہایت اہم عقیدہ “یومِ الدین” کا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک دن ضرور آئے گا جب اس دن کا مالک، یعنی اللہ رب العزت، ہر انسان کے اعمال کا مکمل حساب لے گا۔ یہی وہ دن ہے جسے قرآنِ مجید میں بار بار یاد دلایا گیا ہے تاکہ انسان اپنے اعمال کے بارے میں سنجیدہ رہے۔
اب اس دنیا میں جس کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے، ناانصافی ہوتی ہے، اور حقوق غصب کیے جاتے ہیں، تو اگر بندے کا یومِ الدین پر ایمان کامل ہے تو اسے بے جا پریشانی اور مایوسی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہر مظلوم کو اس کا پورا حق دیا جائے گا اور ہر ظالم کو اس کے کیے کی مکمل سزا ملے گی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“قیامت کے دن حقوق والوں کو ان کے حقوق ضرور لوٹا دیے جائیں گے، حتیٰ کہ سینگ والی بکری سے بے سینگ بکری کا بدلہ لیا جائے گا۔”(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام عدل کس قدر کامل اور بے لاگ ہے، کہاں انسان اور کہاں ایک معمولی جانور، مگر انصاف سب کے لیے یکساں ہوگا۔یومِ الدین کا ایمان انسان کو حوصلہ دیتا ہے کہ وہ ظلم کا شکار ہو کر بھی ٹوٹ نہ جائے، بلکہ صبر، استقامت اور اللہ پر توکل کے ساتھ زندگی گزارے۔ ایسے حالات میں ایک مومن مسلمان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اپنا مقدمہ اللہ کے سپرد کر دے اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے انصاف کے لیے اللہ کو کیس ریفر کرے۔ کیونکہ وہی سب سے بڑا منصف ہے، وہی دلوں کے حال جانتا ہے، اور وہی ایسا انصاف کرے گا جس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی نہیں ہوگی۔
یومِ الدین کا اصل مقصد اور تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان کو مکمل اور حقیقی انصاف فراہم کیا جائے۔ اس دن نہ کوئی سفارش چلے گی، نہ کوئی طاقت کام آئے گی، نہ کوئی تعلق فائدہ دے گا، سوائے سچے ایمان اور نیک اعمال کے۔ لہٰذا کامل ایمان اسی وقت ممکن ہے جب انسان یوم الدین پر پختہ یقین رکھتے ہوئے اپنے معاملات اللہ کے سپرد کرے، صبر سے کام لے، اور یقین رکھے کہ اس کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کا ازالہ ضرور ہوگا۔ یہی عقیدہ ایک مومن کو مایوسی سے نکال کر امید، صبر اور عدلِ الٰہی پر کامل اعتماد کی روشنی عطا کرتا ہے۔ اور دنیا میں ہونے والی زیادتیوں پر ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ظالم اور غاصبوں سے الجھنے کی ضرورت ہے۔



تبصرہ لکھیے