600x314

کتاب “کتبے سے تراشی زندگی ” سے ایک اقتباس – طارق بلوچ صحرائی

ماں نے مجاور کی طرف دیکھا اور اُسکے قریب آکر سرگوشی کے انداز میں بولی،
” بابا سُنا ہے یہاں بچھڑنے والے ملتے ہیں. میری بیٹی سے بھی کوئی بچھڑ گیا ہے. دُعا کرو اُسکا بچھڑا ہوا اُس سے مل جائے۔ سُنا ہے موت اور جدائی دو سگی بہنیں ہیں۔”

“یہ چُپ کیوں ہے؟”، مجاور بولا.
” اُسے کہو کچھ نہ کچھ بولتی رہے چپ رہے گی تو لوگ سُن لیں گے۔ تمھاری بیٹی بہت دُکھی ہے .”
“مگر تم اُسے اتنا کیسے جانتے ہو ؟” ماں نے سوال کیا۔
“میں نے کئی ان کہی صداؤں کو دفن ہوتے دیکھا ہے.میں نے اُسے مُسکراتے ہوئے دیکھا ہے.” ماں بولی،
” یہ سچ ھے مگر وہ کہتی ھے، مسکراہٹ خوبصورت روحوں کا حق ھے ۔”
مجاور نے سر جھکا لیا اور آہستہ سے بولا،
” اپنی بیٹی سے کہو بچھڑنے والا اس کی مقدر میں نہیں اُسے بھول جائے۔”

“نہیں بابا وہ اُسے نہیں بھول سکتی.” ماں کے لہجے میں دُکھ تھا ۔

” رجو کہتی ھے قدرت نہیں چاہتی کوئی کسی کو بھول جائے۔ اسی لئے تو اُس نے چاندنی راتوں کو تخلیق کیا ھے. اُسکی زندگی کا سوال ھے بابا …تم نے اُسکے ہونٹوں کے محرابوں پر لکھی دُعا پڑھی ھے ؟”
مجاور کے چہرے پر کرب پھیل گیا.

” اپنی بیٹی سے کہو اُس سے ملنا ممکن نہیں، کچھ سوالوں کے جواب بھی سوال ہیہوا کرتے ہیں۔
کچھ لوگ تہذیبوں کی گُمگشتہ ساعتوں کے وارث ہوتے ہیں۔ جو لوگ روح کا قرض ادا کئے بغیر مر جاتے ہیں یہ عمر بھر اُن کا قرض ادا کرتے رہتے ہیں۔ یہ انجام سے باخبر ہوتے ہوئے بھی آواز پر پیچھے مُڑ کر دیکھ لیتے ہیں اور پتھر کے هو جاتے ہیں۔ یہ وہ طلسم ھے جو ایک بار اس کا حصہ بن گیا تھا تمام عمر اس کی غلام گردشوں سے باہر نہیں نکل پاتا. کبھی کبھی ایسا ہوتا ھے زندگی ہر وہ چیز آپ کو لوٹا رہی ہوتی ھے جو کبھی آپ سے چھن چکی ہوتیہے. بشمول محبت کے لیکن آپ بے نیاز ہو چکے ہوتے ہیں۔
سنو،
کچھ لوگ اس صدی کے بندے نہیں ہوتے وہ اس جہاں کے لئے پیدا ہی نہیں ہوتے ۔ رہی بات زندگی کی تو زندگی اوقات ہی کیا ہے.جس کو ثابت کرنے کے لیے مرنا پڑے۔ ادھورے خواب کا دُکھ ادھوری ذات کو جنم دیتا ہے اورمکمل خوشی ادھوری ذات میں نہیں سما سکتی۔”

مجاورنے دور اسمان کی طرف دیکھا اور بولا:
“جن کو بربادی کا حُسن بھا جائے پھر اُسے کبھی تعمیر کا فن نہیں آتا اور نہ ہی کبھی آباد ہونا آتاہے. بربادی کے حُسن کے سامنے تو وقت کی اُنگلیاں بھی کٹ جاتی ہیں۔ ”

رجو نے بے مُراد لوٹ گئی .سُناہے کامران جو کبھی مجاور تھا، اب صاحب مزار ہےاور لوگ یہاں آ کر اپنے مقدر کے بگڑنے کی دعا مانگتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

بلاگز

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment