کرکے دعا بیٹھے ہیں وہ ہمیں یاد نہیں
فقیرانہ بیٹھے ہیں وہ ہمیں یاد نہیں
زندگی رواں ہے تو یہ کہہ دوں کیسے
ہم بھلا بیٹھے ہیں وہ ہمیں یاد نہیں
تنہا دیکھ کر خود کو ہوتا ہوں حیران!
انہیں گنوا بیٹھے ہیں وہ ہمیں یاد نہیں
بعد انکے بہت روئے خود کو لے کر
کیا سنا بیٹھے ہیں وہ ہمیں یاد نہیں
آپ کا منتظر نجانے کب سے ہیں ارمان
مگر کہاں بیٹھے ہیں وہ ہمیں یاد نہیں



تبصرہ لکھیے