ہوم << قائد انقلاب سید علی گیلانی کشمیر کو سوگوار کر گئے - غازی سہیل خان

قائد انقلاب سید علی گیلانی کشمیر کو سوگوار کر گئے - غازی سہیل خان

یکم ستمبر ۲۰۲۱ء کی شام تک وادی کشمیر کی عوام حسب معمول ایک بڑے جیل نما خطے میں اپنا دن گزار کے رات کی تاریکی کی آغوش میں جانا ہی چاہتی تھی کہ اچانک سے سماجی رابطہ کی ویب گاہ فیس بُک پہ ایک جانکاہ خبر دیکھتے ہی ساری وادی ماتم کناں ہو گئی ۔وہ خبر یہ تھی کہ جموں کشمیر کی تحریک آزادی کے محبوب ترین رہنما سید علی شاہ گیلانی انتقال فرما گیے ۔ان اللہ وان الیہ راجعون ۔اس کے بعد کشمیری عوام کو واقعتاً یہ محسوس ہوا کہ آج ہم قومی یتیم ہو گیے بلکہ فیس بُک اور ٹوئٹر صارفین نے اس کا اظہار بھی کیا ۔نہ جُھکنے والی اور نہ کبھی بکنے والی یہ شخصیت کوئی عام نہیں تھی بلکہ یہ وہ شخصیت تھی جس نے اپنا سب کچھ ملت اسلامہ کے عروج اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے قربان کر دیا۔ بلکہ دنیاکی ایک بڑی سامراجی طاقت کے سامنے کشمیر کی مظلوم عوام کی قیادت کر کے دنیا کو دکھلا دیا کہ ظالموں کو کیسے للکارا جاتا ہے اور ہر مقام پہ فتح کے جھنڈے کیسے گھاڑ کے عوام کے دلوں پہ راج کیا جاتا ہے۔اس قائدکی پیدایش دنیا کی خوب صورت ترین جیل اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاونی والی وادی کشمیر کے علاقہ زینہ گیر کے’’ زوری منز‘‘ گائوں میں ۱۹۲۹ء میں سید پیر شاہ گیلانیؒ کے گھرہوئی ہے۔اس علاقے کے ایک طرف طویل پہاڑی سلسلے کے دامن میں ایشا کی سب سے بڑی جھیل وُلر ہے اور دوسری طرف ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپور کے سر سبز و شاداب سیب کے باغات ہیں۔زوری منز میں ایک غریب اور شریف گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی ایام سے ہی اپنے اندر مومنانہ صفات اور قلندرانہ بیباکی رکھتا تھا ۔کہتے ہیں نا کہ عظیم شخصیات کا بچپن بھی غیر معمولی ہوتاہے ۔اللہ تعالیٰ بھی ایسی شخصیات کو روز اول سے ہی مختلف طرح کے امتحانات و مصائب اور’’ تو خاک میں مل اور آگ میں جل جب خشت بنے تو کام چلے‘‘ کے مصداق تیار کر کے انسانیت کی بقا کے لئے میدان میں طاغوت کے ساتھ مظلوموں کو انصاف دلانے کی خاطر لڑنے کی ہمت عطا کرتا ہے ۔ہم نے تاریخ میں دیکھا ہے کہ کس طرح سے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا ،اسی طرح سے موسیٰ علیہ السلام کو دریا میں بہا کے فرعون کے گھر ہی پہنچا دیا اسی طرح سے ہمارے رسالت مآب نبی مہربان ﷺ نے کن مصائب اور مشکلات کا مقابلہ یتیمی کے عالم میں کر کے دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا ۔یعنی دنیا میں عظیم شخصیات کا وجود تب تک ناممکن ہے جب تک اُن کو مصائب کی بھٹیوں میں جلایا نہ جائے ۔ اپنے بچپن کے چند واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی مرحوم فرماتے ہیں کہ ’’میرے والد سید پیر شاہ گیلانی نہر زینہ گیر میں سیزنل قلی کی حیثیت کا م کرتے تھے ۔وہ بہت ہی محنت کش تھے ان پڑھ ہونے کے باوجود تعلیم کے ساتھ اُنس اور محبت رکھتے تھے ۔وہ چاہتے تھے کہ میرے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں ۔میری پیدایش کے بعد میرے ساتھ دو ایک حادثے ہوئے ہیں جن میں بچنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد نصرت اور اُس کی حفاظت سے ہوا ہے ۔بچپن میں سردیوں کے موسم میں میں کانگڑی لیے (سردیوں کے موسم میں اپنے آپ کو گرم رکھنے کا ایک آلہ ) لکڑیوں کے ایک ستوں نماگھٹے پہ بیٹھا تھاکہ اچانک نیچے گر پڑا اور کانگڑی میری داہنی ران پرگر پڑی جو آگ سے بھری تھی اس کے بعد ساری ران جھلس گئی اور کئی ہفتوں تک میرا علاج ہوتا رہا اُس زمانے میں ہمارے علاقے میں کوئی اسپتال وغیرہ نہیں تھاہمارے یہاں جو گھاس سے بنی چٹایاں ہوتی ہیں اُس سے بنے کچھ ٹکرے لائے گئے اور وہی جلا کر اُس کی راکھ بطور مرحم کے جلے ہوئے حصے پر ڈال دی گئی اور اُسی سے اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی ۔ایک اور حادثہ بچپن کے دور میں درپیش آیا ہے ہماری جو بستی اُس کا نام زوری منزہے یہ ضلع بانڈی پورہ کے گائوں ’’کیونس‘‘ کی ایک پتی(محلہ) ہے ۔’’زوری منز‘‘ گائوںکے پیچھے ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس سے’’ زیرا‘‘ پیدا ہوتا ہے اور میں دیگربچوں کے ساتھ زیرا کاٹنے کے لئے ڈھلوان چوٹی پر گیا واپسی پر جو زینہ گیرنہرپر پُل بنا ہوا تھا جیسے ہی میں اُس پُل سے گزرنے لگا تو میں گر پڑا اور سیدھا نہر زینہ گیر میں جا گرا۔اُس وقت نہر میں پانی بھی زیادہ تھا تاہم میرے بچائو کا انتظام اللہ تعالی نے کرتے ہوئے عین اُس وقت نہر زینہ گیر پر کام کرنے والے کچھ اصحاب کا وہاں سے گُزر ہوااور اُن میں زوری منز سے ہمارا ایک ہمسایہ مرحوم محمد سبحان ڈار اُن لوگوں کے ساتھ چل رہا تھا تو انہوں نے دیکھتے ہی بغیر کسی تاخیر کے وہ نہر زینہ گیر میں کود پڑے اور دیگر لوگوں کے ساتھ مجھے اُس پانی سے سلامت نکال دیا۔‘‘
نہر زینہ گیر کے اس واقعہ کو ثروت جمال نے بہت ہی خوبصورت انداز میں کچھ یوں پیش کیا ہے کہ ’’وہ دیکھئے اب بچہ زینہ گیر نہر کے پل سے گز ررہا ہے ۔ارے لو وہ بچے کا پیر پھسل گیا ۔وہ نہر میں گر پڑا۔پُل سے آٹھ میٹر نیچے ۔نہر لبا لب بھری ہوئی چل رہی ہے ۔۔۔۔زینہ گیر کے ایک افسر اور مستریوں نے بچے کو گرتے دیکھ لیا۔یہ کون بھاگا۔۔۔۔۔ہاں یہ سبحان ڈار ہے ۔وہ سٹراپ سے نہر میں کودے ۔وہ بچے کو باہر نکال لائے ہیں ۔بچہ بے ہوش ہے۔کافی پانی پی گیا ہے ۔۔۔۔بچے کو گھڑے پر اُلٹا لِٹا دیا گیا۔بچے کے منہ سے بھل بھل پانی نکل رہا ہے ۔اللہ ہی ہے جو اسے بچائے۔او ر بے شک اللہ نے اسے بچا لیا۔یہ سید پیر شاہ کا بچہ ہے ۔اس کا نام سید علی گیلانی ہے !

اسی بچے کی تعلیم کا خاص خیال کرتے ہوئے موصوف مرحوم کے والد نے سب سے پہلے بو ٹینگو سوپور میں داخلہ کروایا۔پرائمری اسکول پاس کرنے کے بعد گورنمٹ ہائی اسکول سوپور میں داخلہ لیا وہاں ساتویں تک تعلیم حاصل کی ۔موصوف کی بہن کی شادی ڈورو سوپور میں ہوئی تھی تو وہاں کے اکثر طلبہ سوپور ہائی اسکول آتے تھے اور اُن کو بھی والدین نے اپنے ہمشیرہ کے پاس ہی رکھا وہاں سے ہی میں اسکول جاتا تھا ۔موصوف کی ہمشیرہ کے ایک دیور تھے جن کا مشہور مورخ اور صحافی مرحوم محمد الدین فوق کے ساتھ کوئی رشتہ تھا۔تو مرحوم محمد الدین فوق میری گیلانی صاحب کی بہن کے گھر آیا کرتے تھے۔ گیلانی صاحب آگے فرماتے ہیں کہ اسی اثنا میں میری بہن کے دیور مجھے محمد الدین فوق کے پاس لے گئے وہاں سے وہ مجھے میرے والد کی اجازت کے بعد اپنے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لاہور لے گیے۔لیکن لاہور پہنچ کے فوق صاحب نے مجھے کسی اسکول میں داخلے کے بجائے اپنی بیٹی کے گھر رکھا،جن کے شوہر ایک بڑے آفیسر تھے۔یہ تقریباً ایک سال کا عرصہ تھا اس عرصے میں گیلانی صاحب وہاں عذاب میں تھے اور روتے رہتے تھے اُن کا کہنا تھا کہ میں وہاں بہت پریشانی میں تھا اور سوچتا تھا کہ مجھ پہ یہ کون سی آفت آئی اور غم و پریشانی کے عالم میںایک مشہور نظم ’’پرندے کی فریاد‘‘ پڑھا کرتا تھا۔ چونکہ کہ فوق صاحب نے گیلانی صا حب کو لاہور تعلیم کی غرض سے لایا تھا لیکن وہاں اپنی بہن کے گھر بطور ملازم کیوں رکھا یہ فوق صاحب ہی جانتے ہوں گے ۔پھر کسی طرح سے گیلانی صاحب لاہور سے واپس سوپور آ گئے اور اپنی تعلیم جاری رکھی ۔اور پھر واپس لاہور چلے گئے اور وہاں تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کی کوشش کی ۔گیلانی صاحب کہتے ہیں کہ لاہورمیں لال مسجد میںمیرا قیام ہوا اور وہاں قرآ ن حفظ کرنا شروع کیا لیکن وہ سلسلہ منقطع ہو گیا میری صحت کی ناسازی کے سبب ۔پھر میں نے اورینٹل کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ادیب عالم کا کورس دوسری پوزیشن سے حاصل کیااُس دور میں جو بھی رسالے وہاں شایع ہوتے تھے میں اُن کو پڑھنے کی کوشش کرتا تھا ۔ لاہور سے دوبارہ واپس آنے کے بعد کچھ وقت مجھے روزگار کی تلاش میں جدوجہد کرنی پڑی اسی اثنا ء میں گیلانی صاحب کو ’’کلوسہ بانڈی پورہ‘‘ کے ایک سیاسی و سماجی شخصیت ’’مرحوم محمد انور خان‘‘ نے کشمیر کے ایک شعلہ بیان مقرر ،سیاست دان محمد سعید مسعودی ؒجو اُس وقت نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری تھے سے متعارف کرایا ،جہاں گیلانی صاحب کو نیشنل کانفرنس میں کام کرنے کی پیش کش بھی کی گئی تھی لیکن گیلانی صاحب نے اُس پیشکش کو ٹھکرا دیا ۔تاہم اسی کے دوران مولانا مسعودی کی سرپرستی میں نیشنل کانفرنس کا ترجمان اخبار ’’خدمت ‘‘ شایع ہوتا تھا تو موصوف کو اسی اخبار میں کام کرنے کا موقعہ ملا جہاں سے آپکی ادبی صلاحیتیں بھی پروان چڑھیں ۔اس کے بعد مولانا مسعودی نے ہی گیلانی صاحب کو مجاہد منزل سرینگر کے ساتھ پتھر مسجد کے اسکول میں بطور اُستاد تعینات کیا۔یہاں گیلانی صاحب اپنے فرصت کے اوقات میںمطالعہ کیا کرتے تھے اسی دوران مولانا مودودی ؒ کی ’’حقیقت زکواۃ‘‘ پڑھ کے بہت متاثر ہو گئے ۔اس کے ساتھ ہی جب قاری سیف الدینؒ ( جو بعد میں امیر جماعت اسلامی کی منصب پہ فائز ہوئے تھے )جو کہ گیلانی صاحب کے ہم پیشہ تھے نے سید مودودی ؒ کی ’’تفہیمات اول ‘‘ پیش کی تو قاری صاحب کی یہ کوشش تیر بہ ہدف ثابت ہوئی اس طرح سے گیلانی صاحب جماعت اسلامی کے قریب آنے لگے ۔اسی اثناء میں ۱۹۵۳ء میں جماعت اسلامی کی رکنیت سے نوازا گیا۔اس کے بعد گیلانی صاحب کو حلقہ سوپور کے بعد ضلع بارہمولہ کا امیر مقرر کیا گیا ۔۱۹۶۳ء میں قیم جماعت اسلامی جموں کشمیر کے منصب پر فائز کیا گیا اسکے بعد ۱۹۸۴ء میں قائم امیر جماعت بنایا گیا۔لیکن اس کے ٹھیک ایک دن بعد اُ نکو گرفتار کر کے ددر زنداں کیا گیا۔اس کے علاوہ آپ نے جماعت اسلامی جموں کشمیر میں ناظم پارلیمانی امور،مدیر اخبارِ اذان اور مدیراخبارِ طلوع کی حیثیت سے فرائض انجام دیے ۔ساتھ ہی آپکو یہ اعزار بھی حاصل ہے کہ آپ تین بار اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے ہیں ۔ ۷؍اگست ۲۰۰۴ء جماعت اسلامی کے ساتھ ایک تحریری مفاہمت کے بعدآپ نے تحریک حُریت کو منصئہ شہود پر لایا۔اس طرح سے محترم موصوف نے جماعت کے پلیٹ فارم پہ اللہ کی زمین پہ اللہ کے نظام کے نفاذ کے لئے جدوجہد بغیر کسی خوف و تردید کے شروع کی ۔سید علی گیلانی ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے آ پ جموں کشمیر کے نوجوانوں کے دلوںپہ راج کرنے والے رہنما تھے،سب سے اہم وصف جو آپ کے اندر تھا وہ یہ کہ آپ اپنے مخالفین کو بھی اپنے ساتھ چلانا جانتے تھے ۔گیلانی صاحب مولانا مودودی ؒ اور علامہ اقبال سے خاصے متاثر تھے ۔مولانامودودیؒ کی تحاریر خصوصاً تفہیم القرآن کو پڑھنااور نوجوانوں تک اُن کی فکر کو منتقل کرنے کا کام موصوف نے بخوبی انجام دیا ۔تفہیم القرآ ن کو اپنے مطالعہ کا لازمی حصہ مانتے تھے ۔۲۰۱۱ء میں سوپور میں گیلانی صاحب کا ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں راقم کوبھی شامل ہو نے کا شرف حاصل ہوانے اپنے منفرد اور پرُ اثر انداز میں بھاری مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے دفتر میں بھی کسی کو پتہ نہیں کہ گیلانی کہاں ہے (چون کہ گیلانی صاحب اکثر گھر میں نظر بند رہتے تھے اور اس دن راتوں رات دفتر سے خاموشی سے سوپور کی اور نکل آئے تھے)ہم رات کی تاریکی میں نکلے اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی ۔تو میں یہ بات بتا دینا چاہتا ہوں کہ گھر میں نظر بند کرنے سے اور ہمیں عوام تک پہنچنے کا موقعہ نہ دینے سے ایک لاوا پکے گا بہت بڑا لاوا پکے گا اور وہ لاوا جب پھٹے گا آپ لوگوں کی کرسیاں نہیں رہیں گی ۔بلکہ میں کہوں گا کہ وہ کرسیاں تنکوں کی طرح پانی میں بہہ جائیں گی ۔چند باتوں کے بعد پھر فرمایا کہ ’’قرآن ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ۔اور ہزاروں لوگوں کے مجمع میں گیلانی صاحب نے پُر وقار انداز میں کہا کہ میں آپ سب جوانوں اور بزرگوں سے کہوں گا کہ آپ سب کے گھروں میں تفہیم القرآں ہونا چاہیے سارے لوگ ہاتھ اُٹھاو کون سی تفسیر پڑھو گے لوگوں نے زور دارانداز میں دونوں ہاتھ اوپر اُٹھا کے جواب دیا تفہیم القران یہ الفاظ گیلانی صاحب بار بار دہراتے رہے ۔اس کے بعد آگے فرمایا کہ میں نے بہت ساری تفاسیر کا مطالعہ کیا ہے ،مولانا ابوالکالم آزاد ؒ کی تفسیر بھی پڑھی ہے ،مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کی تفسیر بھی پڑھی ہے ،میں نے اشرف علی تھانوی کی تفسیر بھی پڑھی ہے سب تفسیریں اچھی ہیں لیکن تفہیم القرآن میں جس سادگی کے ساتھ آسان زبان میں علامہ مودودی ؒ نے دین سمجھایا ہے قرآن کا پیغام سمجھایا ہے قرآ ن کی روح سمجھائی ہے وہ بہرحال ایک بے نظیر تفسیر ہے ۔مولانا عامر عثمانی ؒ کی زبان میں عربی مبین کو انہوں نے اُردو مبین میں بدل دیا ہے ۔آگے زور دار آواز میں فرمایا کہ اس وعدے پہ قائم رہو گے نا کہ ہر ایک گھر میں تفہیم القرآن کا مکمل سیٹ ہونا چاہیے اور پھر اُس کو پڑھا کرو صرف اُسکو لائبریری کی زینت نہیں بنانا اسکو پڑھنا بھی ہے ۔‘‘یہ تھا مولانا مودودیؒ اور تفہیم القرآن کے ساتھ جنون کی حد تک لگائو۔

گیلانی صاحب مطالعہ کے ساتھ ساتھ تحریر و تقریر میں بھی اپنا لوہا منوا چُکے ہیں یوں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی تحریر اچھی اور موثر ہوتی ہے اور کسی کی تقریر لیکن گیلانی صاحب جموں کشمیر کے واحد سیاسی و سماجی راہنما تھے جو ان دونوں اصناف پہ دسترس رکھتے تھے ۔گیلانی صاحب کے مطالعہ شوق اور ادب نوازی پر ’’قصہ درد‘‘ کے مرتب ثروت جمال لکھتے ہیں کہ ’’آپ نے دوسرے سینکڑو ں ساتھیوںاور بزرگوں کے ساتھ جیل میں انفرادی مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھا ۔قرآن یا سیرت پاک ﷺ کے علاوہ آپ نے خاص طور پر مولانا محمد علی جوہر ؒ علامہ ابن تیمیہؒ اور مولانا مودودیؒ کی تصانیف سے بھر پور استفادہ کی کوشش کی ۔مولانا حمید الدین فراہی ؒ کی منفرد نوعیت کے تفسیری مواد سے بھی آپ نے استفادہ کی کوشش کی ۔اس کے علاوہ آپ نے ادبیات کے زمر ے میں اقبالیات ،منشی پریم چنداور نسیم حجازی کے قریب قریب سارے تاریخی ناول مطالعہ میں رکھے ہیں ۔‘‘گیلانی صاحب جموں کشمیرکے واحد مزاحمتی قائد ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں بلکہ مزاحمت سے باہر بھی جو کشمیر میں ادیب یا سیاسی رہنما ہیں وہ اتنا علمی سرمایہ اپنے پیچھے نہیں چھوڑ سکے جتنا گیلانی صاحب نے چھوڑا ہے ۔چالیس سے زاید کتابوں کے مصنف گیلانی صاحب کی تین جلدوں پہ مشتمل اُ ن کی آب بیتی ’’وُلر کنارے ‘‘ اُن کی زندگی اور فکر کو سمجھنے کے لئے خاصی مددگارثابت ہو سکتی ہے ۔

محترم گیلانی صاحب کی لغت میںسمجھوتے( کمپرومائز) کا لفظ نہیں تھا نہ وہ اپنے کارکنان کو وضع کردہ اُصولوں سے سمجھوتا کرنے دیتے تھے ۔اُن کا جو عزم تھا وہ اُس پہ چٹان کی رہے ۔اسی وجہ سے اُن کو تحریک حُریت کا وجود بھی عمل میں لانا پڑا ۔ اغیار نے ہزاروں کوششیں کی کہ اُنکے عزم کو توڑا جائے یا اُن کوکمزور کیاجائے اُن پہ دبائو اور قیدو بند کی سختیاں بھی کی گئی بلکہ درجنوں بار اُن کی جان لینے کے لئے بم اور باردو کا استعمال کیا گیالیکن ناکامی و نامرادی طاغوت کے حصے آئی اور سید مودودی ؒ کے وارث سید علی گیلانی سرخرو ہو گیے ۔اُن کے اس عزم و ہمت کو کوئی چیز آج تک تو ڑ نہ سکی سوائے ایک موت کے ۔ اپنے اُصولوں اور اپنے موقف پہ ڈتے رہنا ایک قائد اور اچھے راہنما کی نشانی ہوتی ہے ۔ نیلسن مینڈیلا کاماننا تھا کہ قید و بند آزادی کی جدوجہد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،لیکن جب گیلانی صاحب کی زندگی پہ نظر ڈالتے ہیں تو وہاں قید و بند کا کوئی خوف دیکھائی نہیں دکھتااور نہ ہی آزادی کی جدوجہد میں کوئی رکاوٹ ۔گیلانی صاحب سے بہت بار بہت سے لوگوں نے خریدنے کی کوشش کی تاہم وہ اس چٹان جیسا عزم رکھنے والے کو خریدنے میں ناکام ہو گئے ۔گیلانی صاحب ہی کا کہنا ہے کہ ’’بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایک آدمی نے ۲۴ ؍مارچ ۲۰۰۲ء کو اُن کو اپروچ کرنے کی کوشش کی ۔وہ مجھے جانتا تھا کیوں کہ اُس نے میری جموں میں تفتیش کی ہے جب میں قید تھا۔اُس نے کہا کہ میری مدد کریں کشمیر میں امن کی خاطر ،جواباً گیلانی صاحب نے کہا کہ کشمیریوں کے پاس امن کی خاطر ساری وجوہات موجود ہیں ،لیکن یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ بھارت کے ہاتھ میں ہے اُن کو چاہے اس تنازعہ کا حل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے نکالیں ۔وہ خفیہ ایجنسی کا افسر چاہ رہا تھا کہ حُریت والے انتخابات میں حصہ لیں ،گیلانی صاحب نے جواباً کہا کہ ہمارے انتخاب لڑنے سے مسئلہ کا حل نہیں نکل ہوسکتا ہم نے یہ طریقہ ۱۹۸۷ء میں اپنایا تھا لیکن ناکامی ہی ہاتھ لگی۔ پھر وہ آفیسر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میں گیلانی صاحب کو منا نہ سکا۔‘‘ از(پیراڈائز آن فائر)

بھارت کے سابق را چیف اے ایس دولت نے اپنی کتاب’’ دے واجپائی ا یئر‘‘ میں گیلانی صاحب کو اپنے عزم کا پختہ لیڈر لکھا ہے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’جب کوئی حُریت کے متعلق کہتا یا سوچتا ہے تو اُس کے سامنے گیلانی ہوتا ہے اور وہ ہمارے لیے اچھی خبر نہیں ہوتی ہے۔اسی لیے تو سابقہ نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی گیلانی کے ساتھ بات چیت کے خلاف تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو اعتدال پسندوں تک محدود کیا تھا۔‘‘ اپنی کتاب میں اے ایس دولت نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے دیگر حُریت پسند راہنمائوں کو اپروچ بھی کیا اور کسی حد تک اُن کو انگیج کرنے میں کامیابی ملی لیکن ایک واحد سید علی گیلانی ہے جس کو ہم انگیج نہیں کر پائے ۔تاہم وہ طاغوت کے لئے سانپ سے بھی زیادہ ہوشیار اور اپنوں کے لئے کبوترکی طرح نرم تھے، ایک خاص بات بھی اُن میں تھی اپنی سیاسی زندگی کو ایک کھلی کتاب کی مانند عوام کے سامنے رکھا تھا جو اُن کے دل میں تھا وہی وہ اپنی زبان سے ادا کرتے تھے جب بھی مسئلہ کشمیر کے متعلق کسی سے ملنا ہوتا یا کہیں کوئی پروگرام ہوتا تو پہلے عوام کو مطلع کرتے ۔ہر لمحہ ملت اسلامہ کے متعلق سوچتے لکھتے اور بولتے تھے ۔اخبارات کا مطالعہ کرنا ،حالات و واقعات پر نظر رکھنا پھر اُسی کے مطابق ایکشن کرنا کوئی گیلانی صاحب سے سیکھیں ۔۲۰۱۶ء کی بات ہے میں نے جموں کشمیر کے ایک رووزنامہ ’’کشمیر عظمی‘‘ میں ایک مضمون’’ مطیع الرحمان نظامی‘ؒ‘‘ کی شہادت کے متعلق لکھا ۔یہ مضمون شایع ہونے کے بعد میں ایک دن گھر سے شہر کی اور گاڑی میں محو سفر تھا کہ اچانک میں نے جیب سے اپنا موبائل فون نکالا تو ایک پیغام پڑھنے کو ملا جس میں کچھ اس طرح کے الفاظ تھے ’’میں سید علی گیلانی کاذاتی مشیر ہوں پیر سیف اللہ ( جو اس وقت تہار جیل میں پابند سلاسل ہیں ) اور گیلانی صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے فون رسیو کریں۔جیسے ہی میں نے یہ الفاظ دیکھے پہلے تو میں یقین نہیں کر پایا پھر پسینے سے شرابور ہو گیا اور آنکھوں سے آنسوں کی جھڑی لگ گئی ۔گاڑی سے اُترنے کے بعد میں نے اسی نمبر پہ واپس فون ملا کے بات کی تو قائد محترم کے ذاتی مشیر نے اپنا تعارف کروا کے کہا یہ لیجیے آپ سے گیلانی صاحب بات کرنا چاہتے تھے ۔میں حیران و پریشان کہ قائد محترم سے میں بات کرنے کے لئے وہ زبان کہاں سے لائوں ؟جو اُن سے ہم کلام ہو سکے بہر حال اسی ہڑبڑاہٹ میں گیلانی صاحب کو سلام کیاکے بعد انہوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا اور پھر روتے ہوئے کہا کہ آپ کا مضمون پڑھنے کے دوران میری آنکھوں سے آنسوںآ گئے ! میںہکا بکا اُس پتھر کی طرح بس قائد محترم کے مبارک الفاظ سُنتا رہا لیکن میری کیفیت کچھ اور ہی تھی جس کو بیان کرنے سے میں مکمل طور پر قاصر ہوں۔ میں یقین ہی نہیں کر پار ہا تھا کہ کیا واقعتاً میں عزم کے پہاڑ اور قلندری مزاج کے حامل راہنما سے بات کر رہا ہوں یا یہ محض ایک خواب ہے۔اس کے بعد چند ملاقاتوں کا بھی مجھے شرف حا صل ہوا ہے وہ اکثر پیشانی اور ہاتھ کو چومتے تھے میں جب ملنے گیا تو ہاتھو کو بوسا اور پھر میں بھی اُن کے ہاتھ کو بوسا دیا پھر بہت ساری باتیں ہوئی اوراپنی ملاقاتوں میں اکثر نوجوانوں کی مطالعہ قرآن تفہیم القرآن کی روشنی میں کرنے کو کہتے ساتھ ساتھ اُردو زبان کے فروغ و اشاعت کے لئے یہ کہتے کہ ہمارا جو علمی سرمایہ ہے وہ برصغیر میں اُردو زبان میں ہی ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس زبان کو بچائیں اس زبان کے خلاف اغیار کی اورسے بہت ساری سازشیں رچائی جا رہی ہیں جن کا توڑ ہمیں کرنے کی ضرورت ہے۔غرض ایک معمولی انسان کے مضمون کو پڑھنے کے بعد اتنے بڑے راہنما کا فون پہ بات کرنا پھر ملاقا ت کے دوران تو جہ سے بات سُننا اور سوالات کا جواب دینا یہ کسی عام انسان کا کام نہیں ہو سکتا بلکہ اس طرح کی محبت اور شفقت غیر معمولی شخصیت کے مالک انسانوں سے ہی مل سکتی ہے ۔

یہی وہ قائد ہیں جوگزشتہ چودہ سال سے ایک ہی جگہ گھر میں نظر بند رہنے کے بعد یکم ستمبر کو جموں کشمیر کی مظلوم قوم کو سواگوار کر گیے ۔مرحوم قائد کی جسد خاکی کو اُن کی وصیت کے مطابق مزار شہدا میں دفن بھی نہیں کرنے دیا ۔بلکہ جیسے ہی وہ انتقال فرما گئے تو پوری وادی میں فورسز کا جھال بچھا دیا گیا انٹرنیٹ اور فون کی سہولیات کو معطل کر کے کشمیر ی عوام کو اپنے محبوب رہنما کے آخری دیدار سے محروم کر دیا ۔اُن کے دونوں بیٹوں کا کہنا تھا کہ فورسز اہلکار زبرستی لاش ہمارے گھر سے لے گیے اور اُن کے دونوںفرزند اپنے والد کے جنازے میں بھی شامل نہیں ہو پائے ۔اہلخانہ کے مطابق گیلانی صاحب نے وصیت کی تھی کہ مجھے مزار شہدا میں دفن کر دیا جائے ۔رپورٹس کے مطابق گیلانی صاحب کے بڑے بیٹے نعیم گیلانی نے پولیس سے کہا تھا کہ ہم انہیں صبح دفن کریں گے تب تک باقی رشتہ دار بھی پہنچیں گے اور وہ اپنے قائد کو آخری بار دیکھ بھی لیں گے تاہم پولیس نے اُن کی اس گزارش کو نکار دیا۔اور لاش کو مبینہ طور اُس کے گھر والوں سے چھین لے گئے ۔وہیں فیس بُک پہ ایک ویڈئو بھی وائرل ہوئی جس میں نعیم گیلانی پولیس کو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنے والد کے ساتھ کچھ وقت گزارنے دیں اور نعش پاکستانی پرچم میں لپٹی ہوئی بھی صاف دیکھائی دے رہی تھی ۔انتظامیہ کی ان ساری حرکات پہ ہند نواز کشمیری لیڈروں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کے قائدین نے بھی اس عمل کی مذمت کی اور کہا کہ آخری رسومات کا حق دیا جانا چاہے ۔نعیم گیلانی کے مطابق اُن کے صرف ایک رشتہ دار نے جنازے میں شرکت کی ۔اورجنازے میں ایک سو افراد نے شرکت کی جن میں کچھ پولیس اہلکار اور کچھ مقامی لوگ تھے ۔پولیس نے بھی ایک بیان دیا کہ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ یہ رات کو انتقال کر گئے اور ہم بھی تیار تھے ۔ماہرین کے مطابق گزشتہ دو سالوں سے پولیس اس تیاری میں تھی کہ گیلانی کے انتقال کے بعد کس طرح سے حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اس کے متعلق اُنہوں نے’’ ماک ڈرلز‘‘ بھی انجام دی تھیں ۔غرض کشمیر کے نہ جُھکنے والے اور نہ بکنے والے قائد انقلاب سید علی گیلانی ؒکو فورسز کے کڑے پہرے میں رات کی تاریکی میں سُرد لحد کر دیا گیا ۔کشمیر کی تحریک میں اب ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پُر ہونا فا الحال مشکل نظر آ رہا ہے کیوں کہ سب کو ساتھ چلانے والا اپنے مخالفین سے بھی ہمدردی رکھنے والا ایسا قائد بار بار زمین پہ نہیں آتے ۔اب اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ کشمیر کی لُٹی پٹی قوم کو اس کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے ۔آمیں۔
٭٭٭