“امی، امی”
وہ چیختا ہوا گھر میں داخل ہوا۔
“کیا ہوا فہد؟کیوں چلا رہے ہو؟” امی کی کچن سے آواز آئی۔
“امی آپ نے مجھے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا، کیوں آپ ہر جگہ جاکر جھوٹ بولتی ہیں؟”
فہد پھٹ پڑا تھا۔
“یہ طریقہ ہے ماں سے بات کرنے کا؟ آخر ایسا کیا کر دیا میں نے؟” امی کی دُکھ بھری استفہامیہ آواز آئی۔
بتایا تو خالہ ہنسنے لگی”، فہد بالکل رونے والا ہو گیا۔
” آپ نےخالہ کو جا کے کیوں بولا کہ میرا بی گریڈ آیا ہے؟”
” کہتی ہیں کہیں فیل تونہیں ہوگئے جو ماں بیٹا جھوٹ پہ اُتر آئے ہو۔ وہ کچھ کہہ رہی تھی تم کچھ بول رہے ہو۔ ماں پہ ہی گئے ہو”، بتاتے بتاتے فہد روہانسا ہوگیا.
“بیٹا میں تو تمہاری محبت میں ہی ایسا کہہ آئی” امی کی دھیمی سی آواز آئی۔
“معاف کر دیں آپ ایسی محبت سے.” فہد نے ہاتھ چوڑے اور چلا گیا۔
امی کا دل دُکھ سے بھر گیا۔
“ایک تو اولاد کیلئے جھوٹ بولو، گناہ بھی مول لو، اور پھر اوپر سے باتیں بھی سنؤ۔”
یہ صرف ایک گھر کی نہیں ہر گھر کی کہانی ہے۔ آج کل سبھی والدین اسی کام میں لگے ہیں۔ اپنے بچوں کی باتوں کو دوسروں کے سامنے بڑھا چڑھا کے بولنا اور اکثر تو محبت میں ایسی باتیں بھی اپنی اولاد سے منسوب کرتے ہیں جو بچوں نے سوچی بھی نہیں ہوتیں۔ بچے سیکھنے کی عمر سے گزر رہے ہوتے ہیں تو وہ بھی دیکھا دیکھی انہیں عادتوں کو اپنا لیتے ہیں اور پھر جھوٹ کا ایک پورا سسٹم چل پڑتا ہے۔ “ماں کی گود پہلی درس گاہ” محض محاورہ نہیں یہ ایک حقیقت ہے۔ بچوں کو سچ کی عادت صرف اِسی طرح سکھائی جا سکتی ہے جب آپ خود اُن کے سامنے سچ بولیں۔ اور پھر اولاد کی محبت کیا اتنی بڑھ گئی ہے آپ کے دل میں کے اِس کے سامنے خدا اور رسول کی محبت بھی خدا نخواستہ (نعوذباللہ) ہیچ ہے؟
کیا ہم نے دل سے آللہ کو نکال کے اولاد کو سجا لیا ہے یہ تو پھر سیدھی سادھی بت پرستی ہوئی۔
آپ(ﷺ) نے فرمایا کہ:
” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اُس کے نزدیک اُس کے باپ، اُس کے بیٹے اور دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں “(بخاری،مسلم،مشکوۃ)۔
حتی کے اللہ پاک نے خود قرآن پاک میں فرما دیا:
“بے شک تمہاری اولاد اور تمہارے اموال فتنہ ہیں۔” (التغابن آیت 13 پارہ 28)
اولاد اِس لیئے فتنہ نہیں کے وہ بری ہے بلکے اُس کی یہی محبت فتنہ ہے۔ تو اپنا ایمان بچایئں اپنے بچوں کو بہترین تربیت دیں اور یاد رکھیں،
“حد سے بڑی محبت، چاہیے کسی بھی دُنیاوی چیز کی ہو آپ کی دشمن ہے۔”



تبصرہ لکھیے