ہوم << تصویر ٹھیک کیجیے، نقشہ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا – اکرام الحق عزام
600x314

تصویر ٹھیک کیجیے، نقشہ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا – اکرام الحق عزام

چند روز قبل گھر واپسی کے دوران ایک ٹیکسی میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔ رسمی گفتگو کے بعد اچانک ڈرائیور صاحب گویا ہوئے:
’’سر! ایک بات بتائیں، اس ملک نے ہمیں کیا دیا ہے؟‘‘

اس سوال کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے مسائل، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور دیگر مشکلات پر ایک طویل تقریر شروع کر دی۔ شاید وہ یہ توقع کر رہے تھے کہ میں بھی ان کی ہر بات پر اثبات میں سر ہلاتا جاؤں، لیکن میں نے ان سے ایک سوال پوچھا:
’’آپ نے اب تک اس ملک کے لیے کیا کیا ہے؟‘‘
یہ سنتے ہی ان کی گفتگو رک گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر طبقے کے پاس شکایات کا ایک طویل دفتر موجود ہے۔ ہر شخص یہ پوچھتا نظر آتا ہے کہ ملک نے اس کے لیے کیا کیا، لیکن بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے اپنے معاشرے، اپنے شہر اور اپنے وطن کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے۔

بلاشبہ ہمارے ملک کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ معاشی مشکلات، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، ناانصافی اور دیگر چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن صرف شکایتیں کرتے رہنا مسائل کا حل نہیں۔ کسی بیمار شخص کے پاس بیٹھ کر اگر ہر آنے والا یہی کہتا رہے کہ اب اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس کی بیماری اور بڑھ جائے گی۔ قوموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔ منفی سوچ، مایوسی اور مسلسل تنقید کسی معاشرے کو آگے نہیں بڑھا سکتی۔

مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک شخص مطالعے میں مصروف تھا جبکہ اس کا چھوٹا بیٹا بار بار اسے تنگ کر رہا تھا۔ اس نے ایک اخبار میں شائع شدہ دنیا کا نقشہ لیا، اسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور بچے سے کہا کہ اسے دوبارہ جوڑ کر لاؤ۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ بچہ کئی گھنٹے مصروف رہے گا، مگر چند ہی منٹ بعد بچہ واپس آگیا۔ نقشہ مکمل طور پر درست تھا۔
باپ نے حیرت سے پوچھا: ’’بیٹے! تم نے اتنی جلدی یہ کیسے کر لیا؟‘‘
بچے نے جواب دیا: ’’ابو! نقشے کے دوسری طرف ایک انسان کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ میں نے پہلے اس تصویر کو درست کیا تو دنیا کا نقشہ خود بخود ٹھیک ہو گیا۔‘‘

یہ واقعہ ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ اگر ہم ایک ترقی یافتہ، پُرامن اور خوشحال پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کو سنوارنا ہوگا۔ دیانت داری، ذمہ داری، برداشت، قانون کی پابندی، محنت اور مثبت سوچ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب فرد درست ہوگا تو خاندان، معاشرہ اور ریاست بھی درست سمت میں گامزن ہوں گے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم عام ہو، انصاف میسر ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں، امن قائم ہو اور نفرتوں کی جگہ اخوت اور محبت کو فروغ ملے۔ لیکن یہ خواب صرف حکومتوں کے سہارے پورا نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، کیونکہ جب انسان خود کو بدلنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو معاشرے کا نقشہ بھی خود بخود درست ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

واقعی، اگر تصویر درست ہو جائے تو نقشہ خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment