ہوم << خودی سے خودپرستی و سیاسی نرگسیت تک - نجم الحسن

خودی سے خودپرستی و سیاسی نرگسیت تک - نجم الحسن

نجم الحسن خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
علامہ اقبال کا یہ شعر بچپن سے سنتا آرہا ہوں. اس وقت خودی کو خود کی رضامندی اور فیصلہ سازی سے تشبیہ دی تھا۔ مڈل سکول کے ایک مضمون میں خودی اور خودسری کے دونوں الفاظ کو ایک ساتھ پا کر مخمصے کا شکار ہوئے مگر اردو کے استاد کی رہنمائی میں یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ بعد میں خود سری اور خود پرستی میں بھی فرق سمجھ میں آیا لیکن ایک دن گل نرگس کےمعنی سمجھنےکی کوشش میں لغت میں اس سے جڑے الفاظ کا بھی مطالعہ کیا تو نرگسیت کا پہلو ذہن میں رہ گیا۔ نتیجتا ایک باجی، جن کا نام بھی نرگس تھا، پر واشگاف الفاظ میں یہ بات باور کرانے کی کشش کی کہ آپ کے نام کا مفہوم ایک خاص قسم کی بیماری ہے، جس کی پاداش میں سر پر چپل کے کچھ نشانات آج بھی باقی ہیں۔ تاہم چپل کھانے سے ذہن کے کچھ دریچے ایسے کھلے کہ کم ازکم یہ بات واضح ہوئی کہ آئندہ کسی بھی لفظ کو لغت میں تلاش کرکے صرف اس کی لغوی معنی پر ہی ذہن مرکوز رکھنا چاہیے ورنہ بات سر پر چپل پڑنے تک پہنچ سکتی ہے۔
میڈیکل سائنس اور سائیکالوجی کے ماہر و طالبعلم بہتر جانتے ہیں کہ نرگسیت ایک نفسیاتی مرض ہے جس میں مبتلا شخص خود فریبی و خود پسندی کا اسیر ہو کر اپنے آپ سے اس قدر محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے علاوہ کوئی اور نہ بہتر لگتا ہے اور نہ ہی اپنے خلاف کچھ سننے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اپنے آپ کو عظیم سے عظیم تر بنانے، دکھنے اور دکھانے کے لیے کسی بھی جائز و ناجائز طریق کار کو بروئے کار لانے سے دریغ نہیں کرتا۔ ایسے میں جب وہ اپنے ذاتی اثاثوں کے علاوہ دیگر ادارتی اور ریاستی و قومی اثاثے بھی استعمال کرنا شروع کردے، تو یہ عمل ایک مرض سے بڑھ کر جرم بن جاتا ہے، جوعوام کے استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔ اس بیماری نما جرم کواگر ”سیاسی نرگسیت“ کے نام سے گردانا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ عوام کا پیسہ ذاتی اشتہار بازی کے لیے استعمال کرنا صرف غیراخلاقی و غیرقانونی ہی نہیں بلکہ غیرمذہبی بھی ہے۔ سیاسی نرگسیت ان ممالک میں زیادہ وسیع پذیر اور رائج ہے جہاں اخلاق اور احتساب کو کبھی سنجیدگی سے لینے کی مخلصانہ طور پر کوشش نہیں کی گئی۔ اس ضمن میں کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جرم کا ارتکاب زیادہ تر وہی لوگ کرتے ہیں جو اختیارات کے مالک ہوتے ہیں چاہے وہ کسی ملک کا صدر ہو، وزیر ہو، کسی بڑے عہدے کا قلمدان رکھنے والا جج، وکیل یا کوئی سرکاری افسر ہو، سب ایک ہی جیسا رویہ رکھتے ہیں۔ خودپرستی اور سیاسی نرگسیت کی تاریخ بہت پرانی ہے جو فرعونوں سے لے کر یونانی حکومتوں تک اور مسلمان بادشاہوں سے لے کر نئے دور کے صدور اور مقتدر حلقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے لے کر تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک سب اس مرض میں مبتلا ہیں، اور پاکستان بھی اس فہرست سے ہرگز باہر نہیں۔
متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے کئی بڑے بڑے نام اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ Lyndon B. Johnson, Theodore Roosevelt, Andrew Jackson, Franklin D. Roosevelt, and John F. Kennedy جن میں ماضی کے بھی قابل ذکر ہیں ۔Donald Trump کے ساتھ ساتھ آج کل کے پاکستان کے ماضی قریب پر نظر ڈالی جائے تو کئی بڑے نام اس زمرے میں آتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پاکستان میں ایٹمی توانائی کو فروغ دینے کے حوالے سے جانا جاتا ہے، بہت کم لوگ ہیں جو انہیں سائنس میں سیاسی نرگسیت کے بانی کے طور پر جانتے ہیں۔ کئی درجن لیبارٹریاں جیسے کہ خان لیبارٹریز، سکول، ہسپتال، اور پلے گراونڈ ان کے نام کیے گئے۔ غلام اسحاق خان یونیورسٹی، چوہدری پرویز الہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان، شریف ہسپتال لاہور، شریف میڈیکل سٹی لاہور، شریف ٹرسٹ میڈیکل سٹی ہسپتال رائیونڈ، نواز شریف کڈنی ہاسپٹل سوات اور سونے پہ سہاگہ گورنمنٹ نواز شریف ٹیچنگ ہسپتال لاہور اس کی صرف چند مثالیں ہیں. وزیراعظم (نوازشریف) یوتھ لون اسکیم اور اسی بےنظر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام جیسی سکیمیں، عمارات اور فلاحی کاموں کے نام پر جو پیسہ خرچ اور وصول کیا جاتا ہے، وہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
کراچی کے سائٹ ایریا میں واقع فلائی اوور جسے سندھ حکومت نے 547 ملین روپے کی خطیر رقم سے بنا کر ”حبیب بینک فلائی اوور“ کے نام سے منسوب کرنا تھا، مگر لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب گورنر صاحب نے اس کا افتتاح کیا تو دفعتا سامنے ”افضا الطاف فلائی اوور“ جگمگا رہا تھا۔ فلائی اوور کو الطاف حسین کی بیٹی کے نام سے منسوب کرنے کا واحد مقصد الطاف حسین کے لیے لوگوں کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنا اور اس سے اپنی وفاداری ثابت کرنا تھا۔ اس طرح کے منصوبے اور نام سیاسی کاسہ لیسی، خوشامد خوری اور تماشائی عوام کی خاموشی کی ایک مثال ہے۔ ”باچاخان فلائی اوور“ پارٹیوں کی خود پرستی کی ایک اور مثال ہے، جس کا اصل نام ”بنارس فلائی اوور“ بھی بتایا جاتا ہے۔ بےنظیر بھٹو بین الاقوامی ائیرپورٹ ایک اور مثال ہے جس کا پرانا نام اسلام آباد بین الاقوامی ائیرپورٹ تھا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ موجودہ حکومت نے اس کا نام ”عبدالستار ایدھی“ رکھ چکی ہے۔ بیگم نصرت بھٹو ائیرپورٹ پیپلز پارٹی کا ایک اور شاہکار ہے۔ خیبرپختونخواہ میں اے این پی حکومت نے کئی ایسے منصوبے شروع کیے اور انھیں بلا کسی عذر کے پارٹی کی بقا کے لیے استعمال کیا گیا جیسا کہ باچا خان ائیرپورٹ جس کا پرانا نام پشاور ائیرپورٹ تھا۔ جامعہ باچاخان یا باچاخان یونیورسٹی، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی اور الطاف حسین یونیورسٹی جیسے کئی تعلیمی مراکز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پشاور میں مفتی محمود فلائی اوور کی بد قسمتی دیکھیں کہ اس کی تعمیر کا حکم نامہ دو حکومتوں نے جاری کیا، پہلی دفعہ ایم ایم اے (2002-2007) اور دوسری دفعہ عوامی نیشنل پارٹی (2008-2003)، تیسرے دور حکومت (2015ء) میں تکمیل کو پہنچا۔
سوال یہ ہے کہ کیوں اس طرح عمارات، تعلیمی و سماجی اور معاشرتی مراکز کو ان لوگوں کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے جنہوں نے ذاتی طور پر اس پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ کیا ہو؟ حکمران جب چاہیں سستی شہرت کے حصول کےلیے، مختلف پراجیکٹس کو اپنے نام کی پروجیکشن کےلیے قومی دولت کے ضیاع میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ اخبارات اٹھا لیجیے، صفحات ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کی نرگسی تصاویر سے بھرے پڑے ہیں۔ ٹی وی اشتہارات کی بھی یہی کیفیت ہے. ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جہاں عوام کے وسائل کو ذاتی نمود و نمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس ضمن میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مال تمہارا مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں۔ اس ملک میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو بڑے بڑے کارنامے کیے بیٹھے ہیں لیکن ان کا کوئی نام لیوا نہیں، کوئی جانتا تک نہیں۔ حکمرانوں، سیاسی رہنمائوں اور ان کے کارندوں کا کوئی حق نہیں بنتا کہ بنا کسی محنت کے قوم کے وسائل کو اپنے نام سے منسوب کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کےخود پسندانہ، خوشامدانہ اور خود غرضانہ مقاصد کے لیے عوام کے پیسے سے بنائی گئی عمارات اور پراجیکٹس کو کسی بھی سیاسی شخصیت یا سرکاری ملازم کے نام سے منسوب کرنے پر قانونی و آئینی طور پر پابندی عائد کی جائے۔

Comments

Click here to post a comment