باغ لانگے خان کی طرف لگے چھوٹے گیٹ کے پاس بنی تین کمروں میں سے آخر میں بیٹھی کلاس ششم سی کے پہلے دن کا منظر….. تیس سے چالیس بچے، جو داخلہ ٹیسٹ دے کر میرٹ پہ اس سیکشن میں داخلے کے اہل ثابت ہوئے تھے . مختلف پرائیویٹ سکولوں سے آئے ننھے منے معصوموں میں سے کچھ اونگھ رہے تھے.
اور کچھ ایک دوسرے کو سادگی سے تکے جا رہے تھے کہ اچانک کلاس روم میں بھاری اور گرجدار آوازگونجی،
“او میری زندہ قوم کے اونگھتے جوانو ، کیسے ہو؟”
یہ تھی ششم سی یعنی ہماری کلاس کے انچارج سعید بلوچ صاحب کی پہلی جھلک . کہ ہم بھی ان اونگھتے بچوں میں سے ایک تھے جو ان کی آواز سن کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے اور انھیں ٹکر ٹکر دیکھنے لگے. خیر، سب بچوں سے تعارف اور مختصر انٹرویو کے بعد مستقل بینچز آلات کیے گئے ہمیں پہلا بینچ ملا کہ دیکھنے میں لگتے ہی چھوٹے اور معصوم سے تھے.
اور پھر شروع ہوا پڑھائی کا سلسلہ….. سعید بلوچ صاحب کے ڈنڈے ، ڈانٹ اور شفقت کا ایسا تال میل کہ پہلے دن والے زندہ قوم کے اونگھتے جوان پڑھائی میں شاہین سے بن گئے اور سیکشن سے اور بی کو آنکھیں دکھانے لگے
جن کے کمرے ساتھ ساتھ ہی تھے. ششم اے کے انچارج حافظ عبد الرحمٰن صاحب اور ششم بی کے صاحب جان صاحب تھے. کیا ہی خوبصورت مقابلہ بازی تھی کہ جس کا مرکزی پہلو صرف اور صرف پڑھائی میں قابلیت تھی ۔ کلاس ششم کا زیادہ عرصہ تو سکول کو “ایکسپلور ” کرنے میں لگ گیا کہ عمارت بڑی ہی اتنی تھی.
دو وسیع و عریض گراؤنڈ ، ہاسٹل کی بلڈنگ جہاں کلاسز لگتی تھیں ۔ پھولوں سے سجے گراسی قطعات الگ ڈرائنگ کلاس کے لیے وسیع ہال ، وڈورک اور الیکٹرک ورک شاپس ، کنٹین ، اور طویل برآمدوں میں سجی مڈل اور ہائی کلاسز ، واللہ ایک الگ ہی سلطنت تھی بلکہ اب بھی ہے لیکن اس وقت الگ ہی جاہ و جلال تھا. بہرحال، چھٹی کلاس کے مہربان لیکن ڈسپلن کے سخت سعید بلوچ صاحب کی محنت و تربیت نے ہمیں اس قابل ضرور کر دیا کہ ہفتم کلاس میں جانے کے بعد ہم اس سلطنت کے اونگھتے سپاہی نہیں بلکہ تیزطرار مجاہد بن کر اس کی کھلی فضاؤں میں قلانچیں بھرنے لگے.
اور پھر شروع ہوا ایک سنہری دور، جس کی شمعیں ہماری یادوں میں ہمیشہ روشن رہیں گی. اور اس کی روشنی سے فیس بک کو بھی جھلملاتے رہیں گے کہ شاید ششم سی کا کوئی اونگھتا پنچھی جیتا جاگتا اپنے کو مل جائیں.



تبصرہ لکھیے