ٹرمپ شکست کے بعد کلبازیاں کھا رہا ہے
نفرت اتنی بڑھی ہے کہ اپنی جاں بچا رہا ہے
فاتح کو اِدھر اُدھر کی ٹرمپ باتیں سنا رہا ہے
ایران ہے کہ ٹرمپ کے، قابو نہیں آ رہا ہے
ٹرمپ بولے وہ بحری ٹریفک جاری رکھے
سعودی اجازت نہ دے، بہانے بنا رہا ہے
ہرمز ہمارا، ہم ہی اس کی، حفاظت کریں گے
ایران گزرنے والوں سے ٹال مانگ رہا ہے
جنگ ہم نے جیتی، نقصان کا ہرجانہ اِدھر رکھو
پھر معاہدہ ہوگا،ایران صدائیں لگا رہا ہے
ہرمطالبے کے بعد اک دھمکی دی جاتی ہے
ایران ہوا میں اُڑائے، ندامت اُٹھا رہا ہے
پچاس برس سے تم نے، ایران کو ستائے رکھا
ٹرمپ بھیگی بلی، ایران بدلے چکا،رہا ہے
ایران اپنی ہی شرائط پر کوئی معاہدہ کرے گا
اسرائیل امریکا جارحیت کاپھل پا رہا ہے



تبصرہ لکھیے