600x314

جوائنٹ فیملی میں حدود، خود غرضی یا خود شعوری؟ – عارف علی شاہ

تم تو شادی کے بعد بدل گئی ہو!
اب تو ہر وقت پرائیویسی مانگتی ہو!
ہم تو ہمیشہ سب کچھ سانجھا رکھتے ہیں!

یہ جملے صرف الفاظ نہیں، بلکہ وہ معاشرتی طعنے ہیں جو آج بھی ان خواتین پر برسائے جاتے ہیں جو شادی کے بعد جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے اپنی شناخت، ذاتی سکون یا اپنے وقت کی مالک بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف ذاتی زندگی کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوچ کا عکاس ہے جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں نسل در نسل سرایت کیے ہوئے ہےجہاں ذاتی حدود کوخود غرضی، الگ سوچ کو مغروری، اور انکار کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم کو محبت، قربانی، اور اجتماعیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایک ہی چولہے پر کھانا پکایا جائے، سب ایک ساتھ کھائیں، ایک ہی برتن میں پانی پیا جائے، ایک ہی ٹی وی دیکھا جائے، اور رائے بھی مشترکہ ہو۔ اگر کوئی اس کے برعکس کچھ چاہے، تو وہ الگ تھلگ انا پرست یا بدتمیز قرار پاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سب کچھ سانجھا رکھنا ہی محبت کی معراج ہے؟ کیا اپنے لیے وقت مانگنا یا خاموشی سے اپنی ذات کی پرورش کرنا واقعی کوئی جرم ہے؟ اور کیا ہم نے کبھی سوچا کہ حدود صرف دوری پیدا نہیں کرتیں، بلکہ تحفظ بھی دیتی ہیں؟

قرآنی تعلیمات یہی ہے کہ زندگی کی ہر چیز کی ایک حد ہونی چاہیے۔ فرمایا گیا:
“تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ”(البقرہ: 229)
یہ اللہ کی حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو ان سے آگے بڑھے وہی ظالم ہے۔

یہ آیت اگرچہ طلاق کے احکام میں نازل ہوئی، لیکن اصول یہاں عام ہےاللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں حدود مقرر کرنے کا حکم دیا ہے، چاہے وہ عبادات ہوں یا معاملات، احساسات ہوں یا رشتے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی خود ایک کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کے گھروں میں بے وقت داخل ہونے سے روکا گیا، یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ کو بھی ادب سکھایا گیا کہ نبی ﷺ کے کمروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں۔ فرمایا گیا:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ.(الاحزاب: 53)

اگر اللہ کے محبوب ﷺ کی نجی فضا کا اتنا احترام فرض ہے تو ایک عام انسان کے لیے ذاتی سکون، خاموشی، اور خلوت کا مطالبہ کیوں مغروری سمجھا جائے؟

جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے اکثر خواتین کا یہ کہنا کہ ،میں شام کے بعد تھوڑا وقت اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں، بعض افراد کے لیے ناقابل قبول بات بن جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب تو سسرال والوں کے لیے وقت ہی نہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت کی تنظیم اور ذاتی وقت کی اہمیت ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ ایک عورت ماں، بیوی، بہو اور بیٹی کے کرداروں میں تب ہی انصاف کر سکتی ہے جب اسے خود سے جڑنے کا موقع دیا جائے۔ جب کوئی خاتون کہتی ہے کہ میں سب کی رائے سنوں گی مگر فیصلہ خود کروں گی تو یہ ایک بالغ ذہن کی نشانی ہے، نہ کہ انانیت کی۔ یہی وہ خودمختار سوچ ہے جس کی اسلام میں حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف”(صحیح مسلم)
طاقتور مؤمن (جس کا ذہن، ارادہ اور فیصلہ مضبوط ہو) اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔

اسی طرح جسمانی حدود کی بات کریں تو یہ کہنا کہ میرے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دستک دی جائے یا میری کچھ ذاتی چیزیں ہیں یہ مطالبات صرف ذاتی سکون کے نہیں بلکہ انسانی وقار کے مظاہر ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی تعلیم دی کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تین بار اجازت مانگو، نہ ملے تو لوٹ جاؤ۔

جذباتی حدود بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ بعض خواتین ہر وقت ہر کسی کی سننے، سہنے اور سہارا بننے کی کوشش میں خود کو مٹا دیتی ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ میں سب کی بات سنتی ہوں، لیکن ہر وقت ہر مسئلے پر جذباتی مدد فراہم کرنا میرے لیے ممکن نہیں، تو اس پر طعنہ دینا کہ تمہیں کسی کے دکھ درد کا احساس نہیں خود ایک ناپختہ رویہ ہے۔ ہر انسان کی جذباتی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور ہر وقت sponge بن کر دوسروں کے جذبات جذب کرنا خود کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
رشتوں کی حدود بھی ایسی ہی ایک نازک مگر ضروری حد ہے۔ بیوی کا یہ کہنا کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان کچھ معاملات ایسے ہیں جو دوسروں سے شیئر نہیں کیے جا سکتے، عیب نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے:

“هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ”(البقرہ: 187)
بیویاں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیےیعنی پردہ، تحفظ اور راز داری۔

جب کوئی خاتون ان حدود کی بات کرتی ہے تو اکثر اس پر مذاق کیا جاتا ہے، اسےخود غرض ،مغرور یا بدلی ہوئی قرار دیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ Selfcare اور Selfishness میں فرق ہوتا ہے۔ اپنے سکون، صحت، یا شناخت کے لیے حدود قائم کرنا خود غرضی نہیں، بلکہ خود شعوری، خود ذمہ داری اور روحانی پختگی کی علامت ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا بہت اہم ہے کہ حدود دیوار نہیں ہوتیں جو انسانوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دیں، بلکہ وہ دروازے ہوتی ہیں جو مہذب طریقے سے کھلتے ہیں، عزت سے بند ہوتے ہیں، اور اندر رہنے والوں کو تحفظ دیتے ہیں۔ کسی گھر کے دروازے پر دستک دی جاتی ہے، اندر موجود افراد کے احساس کا خیال رکھا جاتا ہے۔

اسی طرح رشتوں میں بھی دستک دینی چاہیے۔ ہر وقت، ہر بات، ہر جذبے، ہر فیصلے میں گھس جانا رشتہ داری نہیں بلکہ حد شکنی ہے۔ جو لوگ آپ کی شناخت، وقت، سکون اور جذبات کا احترام کرتے ہیں، وہ رشتہ دار نہیں بلکہ ساتھی ہوتے ہیں۔ اور جو صرف روایت،قربانی یا خاندانی عزت کے نام پر آپ کو مٹاتے جائیں، وہ رشتہ نہیں بوجھ بن جاتے ہیں۔ اگر کوئی ان تبدیلیوں پر طعنہ دے کہ اب تو شادی کے بعد attitude آ گیا ہے تو اس کا جواب بس ایک مسکراہٹ ہے، اور دل میں ایک سکون کہ شاید یہ رویہ سب کے لیے نیا ہو، لیکن میرے لیے یہ میری ذہنی، جذباتی اور روحانی حفاظت کا ذریعہ ہے۔

زندگی کے ہر مرحلے پر boundaries تبدیل ہوتی ہیں۔ بچپن میں جو چیز اجازت تھی، وہ جوانی میں نہیں ہوتی۔ شادی سے پہلے جو آزادی تھی، شادی کے بعد اس کا ایک نیا توازن بنتا ہے۔ اسی طرح شوہر، بیوی، بچوں، والدین، نندوں، دیوروں سب کے بیچ ایک خوبصورت نظم تب ہی قائم ہوتا ہے جب ہم ایک دوسرے کی ذات کو مکمل قبول کریں، نہ کہ جذب کر لیں۔

مصنف کے بارے میں

عارف علی شاہ

عارف علی شاہ بنوں فاضل درس نظامی ہیں، بنوں یونیورسٹی میں ایم فل اسکالر ہیں، اور کیڈٹ کالج میں بطور لیکچرر مطالعہ قرآن اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصرحاضر کے چلینجز کا ادراک اور دینی لحاظ سے تجاویز و رہنمائی کا پہلو پایا جاتا ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment