ایبسٹن فائلز جو نہ صرف عالمی سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ یہ کوئی معمولی خبر نہیں، بلکہ ایک ایسی کہانی ہے جو طاقت، سیاست، اور رازوں کے گرد گھومتی ہے۔ تو چلیے، اس پہیلی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک ایسی داستان جو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ رہی ہے۔
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ ایپسٹین فائلز ہیں کیا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی مالیاتی سرمایہ کار تھا، جس پر سنگین جرائم کے الزامات تھے۔ 2019 میں جیل میں اس کی موت پراسرار حالات میں ہوئی، اور اس کے بعد اس کے دستاویزات جن میں فلائٹ لاگز، عدالتی کاغذات، اور رابطوں کی فہرست شامل ہیں رازوں کا ایک خزانہ بن گئیں۔ ان فائلوں میں بڑے بڑے ناموں کے تذکرے ہیں، اور لوگ برسوں سے یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ آخر ان میں کیا چھپا ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ 2025 میں یہ فائلیں اچانک کیوں موضوع بحث بن گئیں؟ کہانی شروع ہوئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم میں وعدہ کیا کہ وہ ایپسٹین فائلز کو عوام کے سامنے لائیں گے، بشمول ایک نام نہاد “کلائنٹ لسٹ”۔ لوگوں کو امید تھی کہ بڑے انکشافات ہوں گے۔ لیکن فروری 2025 میں جب پہلی قسط جاری کی گئی، تو دستاویزات نامکمل تھیں، بہت سارے حصوں پر سیاہی پھیر دی گئی تھی۔ بس، یہیں سے تنازع کھڑا ہوا۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا طاقتور لوگوں کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے؟
جون 2025 میں ایلون مسک نے ایکس پر ایک پوسٹ کی، جس میں بغیر کسی ثبوت کے کہا کہ ٹرمپ کا نام ایپسٹین فائلز میں شامل ہے۔ یہ پوسٹ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کے ذہنوں میں نئے سوالات جنم لینے لگے۔ اگرچہ مسک نے بعد میں وہ پوسٹ ہٹا دی، لیکن اس سے تنازع اور بڑھ گیا۔ لوگ پوچھنے لگے کہ کیا واقعی کوئی بڑا راز دبا دیا جا رہا ہے؟
یہ معاملہ اب صرف دستاویزات تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک مکمل سیاسی کھیل بن گیا۔ ٹرمپ کے اپنے حامی، جنہیں میگا کہتے ہیں، اب ان سے ناراض ہیں کہ وعدہ کیوں پورا نہیں کیا گیا؟ دوسری طرف، ڈیموکریٹس، جن میں جیمی راسکن اور رو کھنہ جیسے رہنما شامل ہیں، فائلوں کو مکمل طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جولائی 2025 میں ڈیموکریٹس نے کانگریس میں ووٹنگ کے ذریعے فائلوں کو کھولنے کی کوشش کی، لیکن ریپبلکنز نے اسے روک دیا۔ اس سے عوام کا غصہ اور بھڑک اٹھا۔
جب راز کھلتا نہیں، تو قیاس آرائیاں خود بخود جنم لیتی ہیں۔ ایکس پر کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ فائلیں طاقتور شخصیات کو بچانے کے لیے چھپائی جا رہی ہیں۔ کیوانن جیسے گروہ اسے عالمی سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ایپسٹین کی ایک متاثرہ، اینی فارمر، نے بھی کہا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی کھیل بنانے کے بجائے سچ کو سامنے لایا جائے۔
آج، 24 جولائی 2025 کو، یہ معاملہ ابھی تک الجھا ہوا ہے۔ عدالتیں اور امریکی ادارے جیسے ایف بی آئی ان فائلوں کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن عوام کا صبر جواب دے رہا ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ایپسٹین کے نیٹ ورک میں کون کون شامل تھا؟ کیا واقعی کوئی بڑا نام سامنے آئے گا، یا یہ سب ایک سیاسی تماشا ہے؟
ایپسٹین فائلز کی داستان محض ایک اسکینڈل نہیں، بلکہ انسانی ضمیر، طاقت کے کھیل اور چھپی ہوئی سچائیوں کی ایک گتھی ہے۔ یہ ایک ایسی پہیلی ہے جس کے ہر ٹکڑے کے پیچھے ایک گہرا راز چھپا ہے راز جو صرف افراد کے نہیں، بلکہ پورے نظام کے چہرے سے نقاب ہٹاتے ہیں۔ یہ سوال کہ آیا یہ فائلیں کبھی مکمل طور پر منظرِ عام پر آئیں گی، ہمیں صرف تجسس میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اس نظام عدل، میڈیا، اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ کیا یہ محض حادثہ تھا یا ٹرمپ جیسے سیاسی کردار کو قابو میں رکھنے کی ایک سوچی سمجھی چال ایک ہنی ٹریپ جسے موساد جیسے ادارے نے بڑی مہارت سے بچھایا؟
اگر ایسا ہے تو یہ محض ایک فرد کی زوال پذیری نہیں بلکہ ریاستوں کے بیچ طاقت کی جنگ کا شطرنجی چال ہے، جہاں ہر مہرہ وقتی ہے اور ہر چال مہلک۔ وقت اس گتھی کو ضرور سلجھائے گا، لیکن تب تک یہ کہانی ہمیں آئینہ دکھاتی رہے گی کہ طاقت، خواہش، اور سچائی کے بیچ کی جنگ ہمیشہ انسان کے وجود سے بڑی ہوتی ہے۔



تبصرہ لکھیے