600x314

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ – احمد فاروق

تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی باطل نے حق پر یلغار کی، اللہ تعالیٰ نے حق کے دفاع کے لیے اپنے بندوں کو چن لیا۔ بیسویں صدی میں اُمت مسلمہ جن فکری، سیاسی اور تہذیبی چیلنجز سے دوچار تھی، ان کے سامنے ایک ایسا مردِ درویش کھڑا ہوا، جس نے نہ صرف باطل کو بےنقاب کیا بلکہ ملت کو بیدار کرنے کی ایک بھرپور، بامقصد تحریک کی بنیاد رکھی۔ وہ مردِ مجاہد تھے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ۔

سید مودودیؒ کا پیغام اور نظریہ
سید مودودیؒ نے قرآن و سنت کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مربوط، ہمہ گیر، اور مکمل نظام ہے۔ اسلام انسان کی انفرادی، اجتماعی، معاشی، سیاسی، عدالتی، تعلیمی، اور تمدنی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی نظریہ اُس وقت کے طاغوتی نظاموں اور سیکولر سوچ کے حامل طبقوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ جہاں طاغوت سید مودودیؒ کے افکار سے لرزہ بر اندام تھا، وہیں لبرل، سیکولر اور مغرب زدہ مسلمان بھی اُن کے فکر کے شدید مخالف تھے۔

کیونکہ سیدؒ نے بڑی جرأت و حکمت سے دین و سیاست کی تفریق کو مسترد کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ
“اسلام کو اگر سیاست سے الگ کر دیا جائے تو وہ محض ذاتی عقائد و عبادات تک محدود ہو جاتا ہے، جو کہ قرآن و سنت کے خلاف ہے”۔

جماعت اسلامی: وحدتِ اُمت کا عملی مظہر
سید مودودیؒ نے فرقہ واریت اور گروہ بندیوں کے بجائے امتِ مسلمہ کی وحدت کو اپنا نصب العین بنایا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی بنیاد ایسے پلیٹ فارم کے طور پر رکھی جہاں کسی بھی مکتبۂ فکر کا مسلمان ۔ خواہ وہ اہل حدیث ہو، دیوبندی، بریلوی، شیعہ یا اہل سنت ۔ شمولیت اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اسلام کے جامع نظامِ زندگی پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ جماعت ایک ایسی منظم تحریک ہے جو شخصیت پرستی یا وراثتی قیادت سے مکمل طور پر پاک ہے۔ جماعت اسلامی میں قیادت کا انتخاب بیلٹ پیپر کے ذریعے، مکمل جمہوری انداز میں ہوتا ہے ۔ یونین کونسل کی سطح سے لے کر مرکزی قیادت تک۔

جماعت اسلامی کے امیر: خدمت، اخلاص اور قربانی کی مثالیں
جماعت اسلامی کی قیادت ہمیشہ ایسی شخصیات کے ہاتھ میں رہی جن کی زندگیاں اخلاص، قربانی اور استقامت کی روشن مثال تھیں:

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ :بانی اور نظریہ ساز، جنہوں نے اسلام کے سیاسی و سماجی تصور کو نئی زندگی بخشی۔
میاں طفیل محمدؒ : جنہوں نے مودودیؒ کے بعد تحریک کو مضبوطی سے تھاما۔
قاضی حسین احمدؒ : جن کی ولولہ انگیز قیادت نے نوجوانوں کے دلوں میں تحریک کا شعلہ روشن کیا۔
سید منور حسنؒ: بے باک، سادہ، مگر نظریاتی مزاحمت کا استعارہ۔
سراج الحق : جنہوں نے خدمتِ خلق کو شعار بنایا۔
حافظ نعیم الرحمن: موجودہ امیر، جو کراچی کی گلیوں میں عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں۔

ان تمام امیروں میں کوئی خاندانی یا رشتہ داری کا تعلق نہیں تھا۔ یہ سب قیادت پر نہیں، کردار پر منتخب کیے گئے۔ یہی جماعت اسلامی کی انفرادیت ہے، کہ یہاں قیادت موروثی نہیں بلکہ اہلِ فکر، باکردار اور مخلص افراد کو دی جاتی ہے۔

کارکنان کی تربیت:
سید مودودیؒ کی سب سے بڑی کامیابی اُن کا تحریکی تربیت کا انقلابی نظام تھا۔ انہوں نے ایسے کارکن تیار کیے جو نہ مال کے غلام تھے، نہ دنیا کے طلبگار۔ وہ صرف ایک مقصد کے لیے جیتے تھے: اللہ کے دین کو زمین پر غالب دیکھنا۔ وہ مسجد کے خادم بھی تھے، دعوت کے مبلغ بھی، خدمت خلق کے داعی بھی اور سیاسی میدان کے سرفروش بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں جہاں بھی باطل کے خلاف کوئی نظریاتی مزاحمت نظر آتی ہے، وہاں سید مودودیؒ کے فکر سے جڑے افراد صفِ اول میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چاہے عرب دنیا ہو یا برصغیر، یورپ ہو یا افریقہ سید مودودیؒ کی فکر ایک عالمگیر تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے نہ صرف ایک فکر دی، بلکہ ایک مکمل، منظم، اور مؤثر تحریک کی بنیاد رکھی۔ ان کی بصیرت، اخلاص اور جدوجہد آج بھی ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کرتی ہے۔ جماعت اسلامی اُن کا وہ عملی خواب ہے جو آج بھی طاغوت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا ہے۔ یہ تحریک آج بھی اُنہی اصولوں پر قائم ہے: ایمان، اخلاص، قربانی، نظم، اور اللہ کی رضا کی طلب۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے نہ طاغوت جھٹلا سکتا ہے، نہ مغرب کا نظامِ باطل اور نہ لبرل و سیکولر ذہنیت۔