شہر کے پسماندہ علاقے کی تنگ گلیوں میں واقع وہ چھوٹا سا گھر جہاں بارہ سالہ نبیل اپنی ماں، نسرین، اور چھوٹی بہن کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والد ایک حادثے میں جان بحق ہو چکے تھے۔ نسرین بیوہ ہو کر گھروں میں کام کرتی تھی تاکہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف ایک تھا، اپنے بچوں کو اس مقام تک پہنچانا جہاں انہیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
نبیل کا خواب تھا کہ وہ بڑا ہو کر انجینئر بنے، مگر غربت کے سایے میں پلنے والے خواب اکثر ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس کی جوتی کے تلے میں سوراخ تھا، اور کتابوں کے صفحات اکثر جوڑ جوڑ کر رکھے گئے تھے۔ لیکن ان سب محرومیوں کے باوجود نبیل کے اندر کچھ خاص تھا . ایک چمک، ایک لگن، جو عام بچوں سے مختلف تھی۔ وہ اکثر چھت پر جا کر تاروں کی طرف دیکھتا اور سوچتا،
“کاش میری زندگی بھی کسی ستارے کی طرح روشن ہو جائے۔”
نبیل ایک سرکاری اسکول میں پڑھتا تھا۔ اسکول کی عمارت خستہ حال، دیواریں چٹخی ہوئی اور فرنیچر پرانے زمانے کا، لیکن اس اسکول میں کچھ ایسی خوشبو تھی جو ہر آنے والے استاد کو یا تو تھکا دیتی یا جگا دیتی تھی۔
ایک دن خبر آئی کہ اسکول میں نئے استاد کا تبادلہ ہوا ہے۔ ان کا نام تھا سر تیمور۔ وہ ایک درمیانی عمر کے، پر وقار شخصیت کے حامل، اصول پسند لیکن نرم دل انسان تھے۔ ان کا تعلق ایک بڑے شہر کے مشہور اسکول سے تھا، مگر انہوں نے خود درخواست دے کر اس اسکول میں تبادلہ لیا تھا۔
جب سر تیمور پہلی بار کلاس میں آئے، ان کے چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں روشنی تھی۔ انہوں نے بچوں کو دیکھا، ان کے پھٹے کپڑے، چپ چاپ چہرے، اور بیزار سی نظریں۔ مگر ان کے چہرے پر نا امیدی نہیں بلکہ عزم تھا۔
“میرا نام تیمور ہے، اور میں صرف استاد نہیں، ایک دوست ہوں.”
انہوں نے کہا، اور بچے چونک گئے۔ وہ استاد جو نہ چیخ رہا تھا، نہ سزا دے رہا تھا، بلکہ مسکرا کر بات کر رہا تھا؟
نبیل ابتدا میں خاموش مزاج تھا۔ سوال پوچھنے سے گھبراتا، کیونکہ اکثر اس کے سوالات کا مذاق اڑایا جاتا۔ وہ ایک دن ریاضی کا ہوم ورک مکمل نہ کر سکا تو سوچا کہ سزا ملے گی۔ مگر سر تیمور نے کہا،
“نبیل، اگر تمہیں سوال سمجھ نہیں آیا تو ہم دوبارہ سمجھاتے ہیں، مگر یہ مت ڈرو کہ غلطی کرنے سے تم کمزور بن جاؤ گے۔ غلطی تمھیں سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔”
اس دن کے بعد نبیل بدلنے لگا۔ وہ اسکول وقت پر پہنچتا، زیادہ سوال کرتا، اور شام کو سر تیمور کے دئیے گئے اضافی اسائنمنٹس پر محنت کرتا۔ سر تیمور نے نہ صرف نبیل کی تعلیمی رہنمائی کی بلکہ اسے وقت کی قدر، خوداعتمادی اور معاشرتی شعور بھی دیا۔ وہ اکثر بچوں کو کہتے:
“تعلیم صرف کتابوں کا علم نہیں، یہ اپنی شناخت کو پہچاننے اور اپنے مقصد کو جاننے کا ذریعہ ہے۔”
رفتہ رفتہ نبیل نے صرف اسکول میں نہیں، گھر میں بھی خود کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ وہ اپنی ماں کی مدد کرتا، بہن کو پڑھاتا اور خود رات گئے تک مطالعہ کرتا۔ اس کی ماں اکثر اس کے لیے رات کو چائے بناتی اور دعاؤں میں سر تیمور کا نام ضرور لیتی۔
امتحانات قریب آئے۔ نبیل نے دن رات ایک کر دیا۔ سر تیمور نے امتحان سے پہلے ایک ہفتہ وار سیشن رکھا، جس میں وہ بچوں کو صرف تعلیمی سوالات ہی نہیں، زندگی کے اصول بھی سکھاتے۔
“کامیابی صرف اچھے نمبرات سے نہیں ملتی، بلکہ اچھے انسان بننے سے ملتی ہے۔ اگر تم میں انسانیت نہیں، تو تمہارا علم کسی کام کا نہیں۔”
نتیجہ آیا۔ نبیل نے بورڈ کے امتحان میں پورے شہر میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اسکول کے بچے، اساتذہ، یہاں تک کہ علاقے کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔ وہ نبیل جو کبھی خاموش رہتا تھا، آج سب کی زبان پر تھا۔
نبیل کو ایک نجی ادارے کی طرف سے اسکالرشپ ملی، اور اس نے انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
یونیورسٹی میں داخل ہونے کے بعد نبیل کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑے شہروں کے بچے زیادہ خود اعتماد اور وسائل سے بھرپور تھے، جب کہ نبیل کے پاس صرف علم، تربیت اور سر تیمور کی نصیحتیں تھیں۔
ایک دن یونیورسٹی میں ایک پروجیکٹ مقابلہ ہوا۔ نبیل نے تنہا ایک سولر لائٹ ڈیزائن کی، جو کم قیمت اور دیہی علاقوں کے لیے موزوں تھی۔ اس پروجیکٹ نے مقابلہ جیت لیا۔ میڈیا پر اس کا نام آیا، انٹرویوز ہوئے، اور حکومت نے اس ایجاد کو اپنانے کا عندیہ دیا۔
نبیل نے اس موقع پر جو تقریر کی، وہ دلوں کو چھو گئی:
“آج اگر میں یہاں کھڑا ہوں تو اس کا کریڈٹ میرے استاد، سر تیمور، کو جاتا ہے۔ انہوں نے مجھے خواب دیکھنا سکھایا، ان خوابوں پر یقین کرنا سکھایا، اور ان کے پیچھے دوڑنا بھی۔ تعلیم نے مجھے بدلا، لیکن استاد نے میری دنیا بدل دی۔”
سالوں بعد نبیل ایک معروف انجینئر بنا۔ ایک دن اس نے ایک پرانی فائل نکالی جس میں اسکول کا ایک گروپ فوٹو تھا۔ اس تصویر میں ایک ہاتھ نبیل کے کندھے پر تھا — سر تیمور کا ہاتھ، جس نے نہ صرف نبیل کا راستہ ہموار کیا، بلکہ اس کا یقین بھی مضبوط کیا۔
وہی نبیل، جو کبھی کتابوں کے لیے ترستا تھا، آج ایک فاؤنڈیشن چلا رہا تھا جو غریب بچوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کرتی تھی۔ اس فاؤنڈیشن کا نام تھا: “روشنی”
سر تیمور کے اس جملے سے ماخوذ، جو وہ اکثر کہتے تھے:
“تم سب روشنی ہو، بس جلنے کا حوصلہ رکھو۔”
نبیل آج بھی کہتا ہے،
“اگر تعلیم مجھے بدل سکتی ہے، تو سر تیمور نے میری دنیا بدل دی۔” کیوں کہ
“A good education can change anyone. A good teacher can change everything.”



تبصرہ لکھیے