ہوم << رابعہ سانحے کے تین سال - شاہ اجمل فاروق ندوی

رابعہ سانحے کے تین سال - شاہ اجمل فاروق ندوی

اجمل فاروق ندوی آج سے ٹھیک تین سال پہلے 14؍اگست 2013ء کو مصر کے رابعہ چوک (Square) اور نہضہ چوک پر مصر کی تاریخ کا بدترین سانحہ پیش آیا تھا۔ مصر کی پہلی قانونی اور جمہوری حکومت کو ختم کرکے فوجی اقتدار قائم کرنے کے خلاف ملک میں زبردست عوامی احتجاج ہو رہے تھے۔ ہزاروں لوگ مصر کے دو بڑے چوکوں (رابعہ اور نہضہ) پر بیٹھ گئے تھے۔ ظالموں نے محسوس کیا کہ اگر یہ ہزاروں لوگ اسی طرح بیٹھے رہے تو ہمارا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ چنانچہ 14؍اگست 2013ء کو جمہوری حکومت کے غدار فوجیوں نے ہزاروں عوام کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس کے بعد اپنے آقاؤں کا اشارہ ملتے ہی پہلے آنسو گیس چھوڑی گئی۔ جب لوگوں کا اِدھر اُدھر دیکھنا مشکل ہوگیا تو گولہ باری شروع کردی۔ کچھ ہی دیر میں کئی ہزار لوگ مرد، عورتیں، لڑکے، لڑکیاں، بوڑھے اور بچے خاک و خون میں لوٹ گئے۔ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اسی پر بس نہیں۔ مختلف بہانوں سے لاشوں کے ایک ڈھیر میں آگ بھی لگائی گئی اور مُردوں پر بلڈوزر بھی چڑھائے گئے۔ غرض یہ کہ یہ سانحہ اتنا وحشیانہ اور ظالمانہ تھا کہ مصر کی گزشتہ کئی صدیوں کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس بدترین سانحے کو تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ شہداء اپنے رب کے دربار میں حاضر ہوگئے، لیکن اُن کے اعزہ و اقربااُسی عزم و ثبات کے ساتھ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ رابعہ اور نہضہ اسکوائر پر موجود اہل ایمان کو منتشر کردیا گیا، لیکن ہزارہا ہزار مومنوں نے آج بھی جیل خانوں کو آباد کر رکھا ہے۔ بہ ظاہر قانونی و جمہوری حکومت ختم کر دی گئی، لیکن لاکھوں عوام کے دلوں پر ڈاکٹر محمد مرسی (صدر جمہوریہ مصر) کی حکمرانی اب بھی باقی ہے۔
مصر میں پہلی جمہوری حکومت کو گرانے کے بعد دنیا بھر میں اہل ایمان نے پرزور احتجاجات کیے تھے، لیکن نہ جانے کیوں اب ہمارے ہاں اس موضوع پر شاذ ونادر ہی کچھ دیکھنے یا سننے کو ملتا ہے۔ تین سال پہلے جن افراد نے اپنی شعلہ بیانی سے اور جن تنظیموں نے اپنے زبردست احتجاجی مظاہروں سے ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا، سمجھ میں نہیں آتا کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہ سب خاموش کیوں ہوگئے؟ حالاں کہ حق کی حمایت کوئی عارضی یا ہنگامی چیز نہیں، ایک مسلسل عمل ہے۔ اسے جاری رہنا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان تین برسوں کے درمیان آنے والے اتار چڑھاؤ اور اہم واقعات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا اور اُن پر تحریر و تقریر کے ذریعے درست موقف واضح کیا جاتا۔ افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ بہر حال، سب کی اپنی اپنی مصلحتیں اور مفادات ہیں۔ کسی کو کیا کہا جاسکتا ہے؟
ہم چاہتے ہیں کہ اس سانحے کے متعلق چند حقائق کو نکات (Points) کی شکل میں پیش کردیا جائے۔ یہ وہ نکات ہیں، جن میں اب کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم ان نکات کو اپنے ذہن میں بھی رکھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں:
1۔ مصر میں مرسی حکومت کے تختہ پلٹ کی سازش ایک صہیونی سازش تھی، جو اسلام کے سیاسی نظام کے مقبول ہونے کے خوف اور ایک مضبوط مسلم ریاست کے اسرائیل کے لیے خطرہ بننے کے خوف کی وجہ سے صہیونیت کی سرپرستی میں رچی گئی تھی۔
2۔ اس سازش کو رچنے کے لیے مصر کے باہر سے سعودی عرب، کویت، دبئی، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے۔ امت کی یہ دولت حکومت گرنے کے سانحے سے پہلے اعلیٰ عہدے داروں کو خریدنے، عوام کے خلاف وحشیانہ کارروائیاں کرنے، عہدے داروں کے ذریعے حکومت پر مختلف دباؤ ڈلوانے، نام نہاد علماء کے ذریعے قرآن وحدیث کے خلاف فتوے جاری کرانے اور ملک میں مسلسل احتجاجات کرانے کے لیے لٹائی گئی۔ پھر جب حکومت گرا دی گئی تو یہ دولت غیرقانونی حکومت کے استحکام میں خرچ کی گئی۔
3۔ اس سازش کو رچنے میں اندرونی طور پر بالخصوص وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی، شیخ الازہر شیخ احمد الطیب، مفتی مصر مفتی علی جمعہ اور النور پارٹی کے رہنماؤں کو خریدا گیا۔ ان سب کو اہل ایمان کا خون بہانے، ملک سے غداری کرنے، اسلام کے خلاف صہیونیت کی کھلی حمایت کرنے اور اپنے ایمان کو طاقِ نسیاں پر رکھنے کے لیے آمادہ کیا گیا۔ یعنی اہل ایمان کے بے دریغ خون بہانے اور اُن پر سخت مظالم ڈھانے کے گھناؤنے جرم میں صہیونی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اوپر ذکر کیے گئے تمام ممالک کے حکمراں، عبدالفتاح سیسی، شیخ احمد طیب، مفتی علی جمعہ اور توحید کی علم بردار النور پارٹی کے قائدین بھی پوری طرح سے شامل ہیں۔ اس ناپاک جرم میں شامل مجرموں کوان شاء اللہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
4۔ تختہ پلٹنے کے حادثے سے پہلے مرسی حکومت کے خلاف ہونے والے اکثر مظاہرے فرضی تھے اور کرائے کے لوگوں کے ذریعے کرائے جاتے تھے۔ پھر عالمی میڈیا اُن کو بہت بڑا بنا کر پیش کرتا تھا۔ بجلی کٹوا کر بجلی کی قلت کا پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا۔ اقتصادی بدحالی کا ہوّا کھڑا کرکے نوجوانوں کو بے کاری سے ڈرایا جاتا تھا۔ اسی طرح حسنی مبارک کے طویل اور آزمائشی دور کی تمام کمیوں کی تلافی چند دنوں میں کرنے کا احمقانہ مطالبہ کیا جاتا تھا۔
5۔ مصر میں قائم موجودہ حکومت ایک غیرجمہوری حکومت ہے۔ یہ حکومت اسرائیل کی نمائندہ ہے۔ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم ہوئی ہے اور یہی کام انجام دیتی ہے۔ یاد رہے کہ اس حکومت کے لیے ہونے والے غیر قانونی انتخابات میں صرف سات فی صد عوام نے حصہ لیا تھا۔
6۔ حکومت مصر کے غدار فوجی ڈکٹیٹر عبدالفتاح سیسی کی موجودہ غیر جمہوری حکومت میں ملک کی کرنسی تیزی سے گر رہی ہے، عام ضروت کی چیزوں مثلاً پٹرول، گیس وغیرہ کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، پراسرار لوگوں کے ذریعے اسلام پسند لوگوں کے پراسرار قتل کے واقعات بہ کثرت پیش آرہے ہیں، نئے نئے قید خانے تعمیر کرائے جا رہے ہیں، ہزاروں لوگ بے تکے مقدمات کے ذریعے جیلوں میں ڈالے جاچکے اور ڈالے جارہے ہیں، پڑوسی ملک فلسطین کے ساتھ تمام مخلصانہ تعلقات ختم کر لیے گئے ہیں، کئی ہزار علماء، واعظین اور قراء کو مختلف سرکاری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں مسلسل حکومت مخالف احتجاجات ہو رہے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ صرف 2015ء کے ابتدائی تین ماہ میں 15 سو احتجاجی مظاہرے ہوچکے تھے۔
7۔ امام یوسف القرضاوی (قطر)، صدر مصر ڈاکٹر محمد مرسی اور دوسرے بزرگ اخوانی قائدین سمیت متعدد افراد کو ایسے ایسے مقدمات میں پھنسا کر اس بے وقوفانہ انداز میں مقدمات چلائے گئے اور موت کی سزائیں سنائی گئیں کہ ایک کم عمر بچہ بھی سرکاری ججوں کی حماقتوں پر قہقہہ لگائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان اسلامی قائدین کی سزائے موت کے فیصلوں پر ’’مفتی مصر‘‘ نے بھی اپنے ’’مبارک دستخط‘‘ ثبت کیے ہیں۔
مصر کی موجودہ صورت حال سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ رابعہ اور نہضہ اسکوائرز کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ اُن کا مقدس خون اہل ایمان کے دلوں کی کھیتی کو سیراب کر گیا۔ جس کے نتیجے میں اہل ایمان کال کوٹھریوں میں ہونے کے باوجود بھی سربلند ہیں اور باطل برسراقتدار ہونے کے باوجود ناکام و شکست خوردہ۔ وقت کے ساتھ ساتھ مصر میں تمام صہیونی ایجنٹ کمزور پڑتے جائیں گے۔ اُن کی کمزوری کا مطلب ہوگا، حق اور اہل حق کی فتح و کامرانی۔ سلام ہو رابعہ اور نہضہ کے شہیدوں پر، جو عزم و استقلال کے ساتھ باطل کے خلاف ڈٹ گئے، ہنسی خوشی خاک و خون میں لوٹ گئے اور اہل حق کو جرأت وہمت اور صبر و ثبات کا لازوال پیغام دے گئے۔
سبق دیا ہے ہمیں تم نے سرفروشی کا
شہید ہوکے نئی زندگی عطا کی ہے
(شاہ اجمل فاروق ندوی، چیف ایڈیٹر ماہنامہ المؤمنات لکھنؤ ، ایڈیٹر ماہنامہ تسنیم، نئی دہلی)

Comments

Click here to post a comment