ہوم << مجھے فیض احمد فیض سے ملنا ہے - رفیعہ شیخ

مجھے فیض احمد فیض سے ملنا ہے - رفیعہ شیخ

میں اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ میز پر نسخہ ہائے وفا کھلا رکھا تھا جس کے صفحات پر وقت کی گرد جم چکی تھی۔ باہر ہوا ساکت تھی، جیسے شہر کسی گہری نیند میں ڈوبا ہو، مگر میرے اندر ایک شور تھا، ایک بے قراری، ایک خلش، جو مجھے کسی انجانی سمت میں دھکیل رہی تھی۔
کتاب کے الفاظ میرے سامنے تھے، مگر یوں لگتا تھا جیسے وہ مجھ سے کچھ کہہ رہے ہوں، جیسے کوئی خاموش صدا مجھے اپنی جانب بلا رہی ہو۔ میں نے بے خیالی میں سرگوشی کی: "کاش، میں فیض احمد فیض سے مل سکتی۔"

یہ محض ایک خیال تھا، ایک خواب۔ مگر خواب بھی کبھی کبھار حقیقت میں ڈھل جاتے ہیں۔
دفعتاً، کمرے میں سردی کا احساس ہونے لگا کھڑکی بند تھی مگر پھر بھی ہوا کا ایک جھونکا محسوس ہونے لگا ٹیبل لیمپ کی روشنی میں دیواروں پر سایا لرزنے لگا ۔ کتاب کے صفحات خودبخود پلٹنے لگے، جیسے کسی نادیدہ ہاتھ نے انہیں چھو لیا ہو۔ میرے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی۔
پھر، جیسے کسی خاموش ساعت میں کوئی نامعلوم دروازہ کھلتا ہو کسی کی رعب دار آواز نے مجھے چونکا دیا
"تم مجھ سے ملنا چاہتی تھیں؟"
میری سانس رک گئی۔
میں نے دھیرے سے گردن موڑی۔
میرے سامنے ایک سایہ کھڑا تھا۔
ایک مانوس، مگر نامانوس چہرہ۔
ایک ایسا چہرہ، جو میں نے صرف تصویروں میں دیکھا تھا، جس کی نظمیں میں نے بے شمار بار پڑھی تھیں، جس کی شاعری میری روح میں کہیں رچ بس گئی تھی۔
فیض احمد فیض۔
میں دم بخود رہ گئی۔

یہ ممکن نہیں تھا۔ یہ حقیقت نہیں ہو سکتی تھی۔ مگر وہ وہاں تھے—اپنی پوری عظمت کے ساتھ، اپنی پوری شان کے ساتھ۔
انہوں نے آہستہ سے سگریٹ جلایا۔ دھوئیں کے مرغولے فضا میں تحلیل ہونے لگے، جیسے کسی نظم کے بکھرتے ہوئے مصرعے۔
"ممکن اور ناممکن کے درمیان صرف ایک خواب کا فاصلہ ہوتا ہے،" انہوں نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "تم نے چاہا، اور میں آ گیا۔"
میری آواز حلق میں اٹک گئی۔
یہ خواب تھا؟
یا حقیقت؟
یا پھر حقیقت اور خواب کے درمیان کوئی ایسی دنیا، جہاں وقت اپنی زنجیریں توڑ چکا تھا؟
میں نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا، "یہ… یہ کیسے ممکن ہے؟"
فیض صاحب نے گہرا کش لیا اور جواب دیا
"یہ دنیا الفاظ سے بنی ہے رفیعہ ۔ ہر شعر ایک دروازہ ہوتا ہے، جو کسی نہ کسی سمت کھلتا ہے۔ تم نے دروازہ کھولا، اور میں آ گیا۔ مگر یہ ملاقات تمہارے سوالوں کے بغیر ادھوری رہے گی۔ پوچھو، کیا پوچھنا چاہتی ہو؟"
میں جو اب تک بے یقینی کے عالم میں تھی ان سے سوال کرنے کی ہمت جمع کرنے لگی.
میں نے بے قراری سے پہلو بدلا۔ میرے اندر سوالوں کا ہجوم تھا، مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

یہ کیسا لمحہ تھا؟
یہ کہاں کی دنیا تھی؟
کیا واقعی فیض احمد فیض میرے سامنے موجود تھے یا یہ محض میرے لا شعور کی کوئی چال تھی؟
انہوں نے ایک لمحے کے لیے مجھے دیکھا، جیسے میرے اندر کی بے چینی کو محسوس کر چکے ہوں۔ پھر مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بولے،
"تم خاموش کیوں ہو؟ تم نے مجھ سے ملنے کی خواہش کی تھی، اور اب جب میں یہاں ہوں، تو تم سوال کرنے سے گھبرا رہی ہو؟"
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا۔
"درحقیقت، سوالات مجھ میں بے شمار ہیں، مگر میں نہیں جانتی کہاں سے آغاز کروں۔"
فیض صاحب نے سر ہلایا۔ "تو پھر آغاز وہیں سے کرو جہاں سے ہمیشہ ہوتا ہے—
بغاوت دکھ اور مشقت سے۔"

میں نے آنکھیں موند لیں، اور ایک ایسا سوال میرے لبوں پر آ گیا، جو شاید ہر اس شخص کے دل میں کبھی نہ کبھی آتا ہے، جس نے دنیا کے زخموں کو الفاظ میں سمویا ہو۔
"شاعری اور بغاوت… کیا ان میں کوئی فرق ہوتا ہے؟ یا یہ دونوں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں؟"
فیض صاحب نے کچھ دیر سوچا، جیسے کسی کھوئے ہوئے خیال کو لاشعور سے شعور میں واپس لارہے ہوں۔ پھر آہستہ سے بولے،
"شاعری خود ایک بغاوت ہے، اور بغاوت بذاتِ خود ایک شاعری۔ فرق صرف اظہار کا ہے۔ ایک وہ ہے جو لفظوں میں قید کر دی جاتی ہے، اور ایک وہ ہے جو سڑکوں پر بہا دی جاتی ہے۔ مگر دونوں میں ایک ہی روح ہوتی ہے—ایک ہی تڑپ، ایک ہی آگ۔"
میں نے بے اختیار کہا، "مگر دنیا نے شاعری کو محض الفاظ کا کھیل سمجھ لیا ہے، ایک تفریح، ایک مشغلہ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ شاعری اپنی تاثیر کھو چکی ہے؟ کیا واقعی شاعری دنیا کو بدل سکتی ہے؟"
فیض صاحب کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہے، جیسے میرے سوال کا بوجھ تول رہے ہوں۔ پھر ایک گہری سانس لی اور کہا،
"دنیا میں کچھ بھی اپنی تاثیر نہیں کھوتا، اگر وہ سچ ہو۔ شاعری محض الفاظ نہیں، یہ ایک خواب ہے، ایک انقلاب ہے، ایک چراغ ہے جو چاہے مدھم ہو جائے، مگر بجھتا نہیں۔ تم کہتی ہو کہ شاعری دنیا بدل سکتی ہے؟ میں کہتا ہوں، دنیا میں جو بھی بدلا ہے، شاعری ہی کے سبب بدلا ہے۔ انقلاب صرف بندوقوں سے نہیں آتے، خیالات سے آتے ہیں، اور خیالات کی ماں شاعری ہے۔"
میں نے چونک کر انہیں دیکھا۔
"مگر پھر بھی، جو ظلم، جو ناانصافیاں آپ نے اپنی شاعری میں دکھائیں، وہ آج بھی زندہ ہیں۔ تو کیا شاعری ناکام رہی؟ کیا یہ محض ایک خوبصورت خواب تھا جو حقیقت میں کبھی نہ ڈھل سکا؟"
فیض صاحب مسکرائے۔ ان کی آنکھوں میں وہی مسکراہٹ تھی جو شاید سقراط کے ہونٹوں پر رہی ہوگی، جب اس نے زہر کا پیالہ اٹھایا تھا۔
"کیا تم سمجھتی ہو کہ کوئی خواب ناکام ہو سکتا ہے؟ خواب کبھی ناکام نہیں ہوتے، بس کبھی کبھی دیر سے پورے ہوتے ہیں۔ یہ دنیا صدیوں سے خواب دیکھتی آ رہی ہے، کبھی کوئی خواب پورا ہو جاتا ہے، اور کبھی کسی خواب کی تکمیل کے لیے کئی نسلیں درکار ہوتی ہیں۔ مگر خواب مرتے نہیں، وہ زمین کے نیچے دب جاتے ہیں، اور پھر کسی دن ایک کونپل کی صورت پھوٹتے ہیں۔"
میں نے مدھم آواز میں کہا، "تو پھر آپ کے خواب بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہیں اور کونپل پھوٹنے کے منتظر ہیں

فیض صاحب نے میری آنکھوں میں جھانکا، جیسے میرے سوال کے پیچھے چھپے کسی اور سوال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ پھر انہوں نے ایک نظم کے چند مصرعے دہرائے، جنہیں سن کر میرے دل کی دھڑکن رک سی گئی۔
"آج بازار میں پا بجولاں چلو"
چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں آ
ج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست اَفشاں چلو، مست و رقصاں چلو
یہ نظم…
یہی نظم تو تھی جو بغاوت کا استعارہ بنی، جسے سن کر ایک صدی کانپ اٹھی، جسے پڑھ کر قید خانے تنگ ہو گئے، جس کے حرفوں پر زنجیریں پڑ گئیں مگر وہ زنجیریں خود ٹوٹ گئیں۔
میں نے مدھم آواز میں کہا، "یہ نظم… آپ نے کب لکھی تھی؟"
فیض صاحب نے لمحہ بھر کو آنکھیں موند لیں، جیسے کسی کھوئی ہوئی رات کو یاد کر رہے ہوں۔ پھر آہستہ سے بولے،
"یہ نظم میں نے اس وقت لکھی تھی، جب لفظوں کے پاؤں میں بیڑیاں تھیں، جب سچ بولنا جرم تھا، جب ہر آزاد خیال کو زنداں میں ڈال دیا جاتا تھا، جب عدالتیں انصاف کے بجائے ظالموں کی محافظ بن چکی تھیں۔ یہ نظم میں نے خود کے لیے نہیں لکھی تھی، بلکہ ان سب کے لیے لکھی تھی جو آج بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔"
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔، جیسے تاریخ ہمارے گرد منڈلا رہی ہو۔
میں نے آہستہ سے پوچھا، "کیا آپ کو کبھی خوف محسوس نہیں ہوا؟ جیل، اذیت، قید—کیا آپ کبھی ڈرے نہیں؟"
فیض صاحب مسکرا دیے۔ ان کی مسکراہٹ میں وقت کی ساری تلخی گھلی ہوئی تھی۔
''خوف کھونے کا ہوتا ہے۔۔۔میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا، سوائے سچ کے، اور سچ کبھی کھویا نہیں جا سکتا۔ جیل میں زنجیریں میرے ہاتھوں میں تھیں، مگر میرے قلم پر کوئی زنجیر نہیں ڈال سکا۔"

رات گہری ہو رہی تھی۔ ٹیبل لیمپ کی روشنی میں کمرہ کسی خواب کا منظر پیش کر رہا تھا فیض صاحب کی آنکھوں میں ایک ایسی روشنی تھی جو صرف ان لوگوں کے نصیب میں ہوتی ہے، جنہوں نے بیک وقت محبت کی حدت اور جلاوطنی کی سردمہری کو محسوس کیا ہو۔
میں نے بے چین ہو کر پہلو بدلا، اور وہ سوال زبان پر آ گیا جو میرے دل میں مدتوں سے قید تھا:
"کیا محبت بھی ایک بغاوت ہے؟"
فیض صاحب نے کچھ لمحے مجھے غور سے دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے کہا،
"محبت سب سے بڑی بغاوت ہے، ۔ سچ سے محبت، خوابوں سے محبت، انسانیت سے محبت، اور وہ محبت جو دلوں کے نہاں خانوں میں پلتی ہے، وہ سب سے خطرناک ہوتی ہے۔ ہر محبت کسی نہ کسی طرح اس نظامِ کہنہ کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ اور شاید اسی لیے محبت کرنے والوں کو ہمیشہ سزا دی گئی ہے—کبھی زلیخا کے قید خانے میں، کبھی مجنوں کی ویرانی میں، اور کبھی وطن سے جلاوطنی میں۔"
یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک پرانا دکھ ابھر آیا، جیسے کسی نے ان کے ماضی کی گہرائیوں میں چھپے زخموں کو چھو لیا ہو۔ مجھے معلوم تھا کہ ان کی شاعری میں محبت محض ایک ذاتی تجربہ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا آفاقی جذبہ تھا جس میں وطن، انقلاب، اور خواب سب گندھے ہوئے تھے۔
میں نے آہستہ سے کہا، "تو کیا یہی وجہ تھی کہ آپ کی شاعری میں محبت کا رنگ ہمیشہ اداسی میں لپٹا ہوا محسوس ہوتا ہے؟ جیسے ایک ایسا وصل، جو کبھی مکمل نہ ہو سکا۔ جیسے ایک ایسا خواب، جو ہمیشہ ادھورا رہا۔"
فیض صاحب نے آنکھیں موند لیں، جیسے کسی کھوئے ہوئے لمحے کو چھونے کی کوشش کر رہے ہوں۔ پھر مدھم آواز میں بولے،
"محبت جب تک ادھوری رہے، تب تک وہ امر رہتی ہے۔ اور شاعری صرف اسی محبت کو محفوظ کر سکتی ہے جو ہمیشہ ایک خواب بنی رہے، جو کبھی مکمل نہ ہو، جو ہمیشہ ایک کمی کا احساس بن کر دل میں موجود رہے۔ تم نے میری نظم پڑھی ہوگی... 'ہم کہ ٹھہرے اجنبی'؟"
میں نے فوراً سر ہلایا۔
"جی، یہ نظم تو گویا جلاوطنی کی صدا ہے، ایک ایسے عاشق کی پکار جو اپنے ہی شہر میں بیگانہ ہو گیا ہو۔"
فیض صاحب نے دھیرے سے مسکرا کر سر ہلایا، کئی گہرے کش لیے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد مدھم آواز میں نظم کے چند مصرعے دہرائے:
"ہم کہ ٹھہرے اجنبی، اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد"
یہ اشعار سن کر میرے اندر ایک عجیب سی ٹھنڈک اتر گئی۔ میں نے بے اختیار کہا،
"یہ اجنبیت… کیا یہ صرف محبوب سے تھی؟ یا پھر… اپنے وطن، اپنے لوگوں، اپنے خوابوں سے بھی؟"
"اجنبیت سب سے بڑی سزا ہے، اور یہ سزا صرف محبوب سے دوری پر نہیں ملتی۔ جلاوطنی صرف جسم کی نہیں ہوتی، کبھی کبھی انسان اپنی زمین پر رہ کر بھی جلاوطن ہو جاتا ہے، اپنے ہی لوگوں میں رہ کر بھی اجنبی محسوس کرتا ہے۔ اور سب سے کربناک جلاوطنی وہ ہوتی ہے، جب تم اپنے ہی خوابوں میں اجنبی ہو جاؤ، جب تمہاری شاعری تمہاری اپنی نہیں لگتی، جب تمہارے لفظ بھی تم سے بیگانہ ہونے لگیں۔"

کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ باہر کہیں کوئی پرندہ رات کی خاموشی کو چیر کر چیخا، جیسے یہ سوال صرف میرا نہیں، بلکہ ہر ذی روح کا تھا۔
میں نے ہلکی سی آواز میں کہا، "تو کیا آپ خود اپنی شاعری میں اجنبی ہو گئے تھے؟"
فیض صاحب نے کچھ لمحے سوچا، پھر ایک ٹھنڈی سانس لی۔
"شاعر کبھی اپنی شاعری میں اجنبی نہیں ہوتا۔ مگر دنیا… دنیا اسے بیگانہ کر دیتی ہے۔ جب میں نے یہ نظم لکھی، تو میں صرف اپنے محبوب سے نہیں، بلکہ اپنے وطن، اپنے خوابوں، اپنے نظریات سے بھی اجنبی محسوس کر رہا تھا۔ میں نے اس ملک کے لیے خواب دیکھے تھے، میں نے چاہا تھا کہ یہ زمین، جو زنجیروں سے آزاد ہوئی، وہ ذہنوں کی زنجیروں سے بھی آزاد ہو۔ مگر جب میں نے دیکھا کہ میرے خوابوں کو بیچ دیا گیا، میرے لفظوں کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا، تو مجھے احساس ہوا کہ میں اس سرزمین کا نہیں رہا، اور یہ سرزمین میری نہیں رہی۔ تب میں نے یہ نظم لکھی…"
میں نے بے اختیار کہا، "تو کیا ہر محبت آخر میں تنہائی ہی بن جاتی ہے؟"
فیض صاحب مسکرا دیے، مگر ان کی آنکھوں میں ایک گہری اداسی تھی۔
"محبت کبھی تنہا نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ کسی نہ کسی دل میں زندہ رہتی ہے، ۔ ہاں، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ محبت ختم ہو گئی، کہ ہر چیز فنا ہو گئی۔ مگر اصل محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک اور رنگ میں ڈھل جاتی ہے—کبھی شاعری میں، کبھی خواب میں، کبھی کسی گمنام اجنبی حسینہ کے دل میں، جو کسی ویران کمرے میں بیٹھ کر یہ سوچتی ہے کہ 'مجھے فیض احمد فیض سے ملنا ہے'۔"
یہ کہتے ہوئے وہ ہلکا سا ہنسے، مگر ان کی ہنسی میں ایک ایسا دکھ تھا جو صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں، جو محبت اور بغاوت کے سنگم پر کھڑے ہوں۔

رات ختم ہورہی تھی کھڑکی سے صبح کی سپیدی نمودار ہونے کو تھی
۔ فیض صاحب کی نگاہیں کسی نامعلوم نقطے پر مرکوز تھیں، جیسے کسی دور دراز کی حقیقت کو ٹٹول رہی ہوں۔ میں نے آخری بار ان کی طرف دیکھا، اور وہ سوال زبان پر آ گیا جو میرے دل میں مدتوں سے قید تھا:
"کیا آپ کو لگتا ہے کہ لفظ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں؟ کہ شاعری کبھی مرتی نہیں؟"
فیض صاحب مسکرا دیے۔ وہی مدھم مسکراہٹ جو صدیوں کے دکھ اور خوابوں کی روشنی کا امتزاج تھی۔
"لفظ مر نہیں سکتے،۔ وہ مٹی میں دب سکتے ہیں، کاغذوں پر جل سکتے ہیں، قیدخانوں میں خاموش ہو سکتے ہیں، مگر فنا نہیں ہو سکتے۔"
میں نے دھیرے سے کہا، "مگر شاعر تو مر جاتے ہیں؟"
فیض صاحب نے لمبا سانس لیا،۔ہاں، شاعر مر جاتے ہیں۔ جسم مٹی ہو جاتا ہے، آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، مگر جو شاعری سچائی پر مبنی ہو، جو محبت اور بغاوت کی کوکھ سے جنم لے، وہ کبھی نہیں مرتی۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی دل میں زندہ رہتی ہے، کسی نہ کسی آنکھ میں خواب بن کر پلتی ہے، کسی نہ کسی بغاوت کا نعرہ بن جاتی ہے۔"

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صبح کی ہوا کے جھونکے نے کھڑکی کے پردے کو ہلایا، جیسے کوئی غیر مرئی ہاتھ وقت کے پردے کو سرکانے کی کوشش کر رہا ہو۔
میں نے مدھم آواز میں کہا، "تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ جو خواب آپ نے دیکھے، جو نظمیں آپ نے لکھیں، وہ کبھی حقیقت بنیں گی؟"
فیض صاحب نے لمحے بھر کے لیے مجھے غور سے دیکھا، پھر دھیرے سے بولے:
"خواب ہمیشہ حقیقت بنتے ہیں، کبھی جلد، کبھی دیر سے۔ مگر کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں ڈھلنے کے بعد بھی خواب ہی لگتے ہیں۔ میں نے ایک ایسا ہی خواب دیکھا تھا—آزادی کا خواب۔ اور جب وہ حقیقت بنی، تو میں نے محسوس کیا کہ شاید خواب دیکھنا آسان ہے، مگر اسے جینا مشکل ہے۔ اور یہی سچ ہے—ہر خواب کا ایک امتحان ہوتا ہے، اور جو اس امتحان میں کامیاب ہو جائے، وہی اصل آزادی پاتا ہے۔"
میں نے آہستہ سے کہا، "تو کیا آزادی صرف ایک خواب ہے؟"
فیض صاحب نے سگریٹ کا آخری کش لیا، دھوئیں کا ایک ہلکا سا مرغولہ چھت کی طرف بلند ہوا، جیسے کسی پوشیدہ راز کا استعارہ ہو۔
"نہیں۔ آزادی ایک حقیقت ہے۔ مگر اس کا ایک اور پہلو بھی ہے—آزادی کی قیمت۔ جو قومیں، جو افراد اس قیمت کو سمجھتے ہیں، وہی حقیقی آزادی پا سکتے ہیں۔ باقی سب... فقط سراب میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

صبح ہونے لگی تھی کھڑکی کا پردہ اڑ رہا تھا باہر سے روشنی کمرہ روشن کرنے لگی تھی.
ہوا کا تیز جھونکا کمرے میں داخل ہوا اور فیض صاحب روشنی کے ہالے میں تحلیل ہوگئے.
سوال اب بھی باقی تھے جو شاید پھر کسی ایسی ملاقات کی وجہ بن جائیں۔

Comments

Avatar photo

رفیعہ شیخ

رفیعہ شیخ کا تعلق لاہور سے ہے۔ اجوکا تھیٹر سے اسکرپٹ رائٹنگ کا کورس کیا۔ الحمرا تھیٹرز کے لیے اسٹیج ڈرامہ ''میڈا عشق وی توں'' کے عنوان سے لکھا، جو بعد میں ناول کی صورت میں شائع ہوا۔ مختلف رسائل میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھتی ہیں۔ سینرجی بکس کے نام سے آن لائن بک اسٹور چلاتی ہیں۔

Click here to post a comment

  • جب تیسرا پیراگراف شروع ہوا تو بہت مجھے
    محسوس ہوا کے اک فارمولہ تحریرہے اسلیے میں نے جلدی جلدی اسکول کر کے پڑھنا شروع کردیا۔۔۔لیکن آخر تک آتے آتے الفاظ کی جادو گری نے وہ اثر کیا کے پھر شروع سے آخر تک دو مرتبہ پڑھ ڈالا

    بہت عمدہ تحریر ہے ہے ماشاءاللہ