ہوم << علم الکلام-منطق کے جال میں قید سوچ -عائشہ نورین اشبل

علم الکلام-منطق کے جال میں قید سوچ -عائشہ نورین اشبل

کہتے ہیں کہ الفاظ کی خوبصورتی اور دلیل کی چمک بسا اوقات حقیقت پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ سچائی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی دھندلی محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کیسے کچھ لوگ مشکل الفاظ، فلسفیانہ موشگافیاں، اور منطقی پیچیدگیوں کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ ان کی بات ناقابلِ تردید لگنے لگتی ہے؟ لیکن اگر حقیقت پر نظر ڈالیں، تو وہ کچھ اور ہوتی ہے!

یونانی فلسفہ بھی اسی طلسم پر مبنی تھا—الفاظ کا ایسا جادو، جہاں دلیل کمزور ہو تب بھی مضبوط دکھائی دے، اور سچائی بالکل سامنے ہو کر بھی اوجھل رہے۔ آپ کسی شخص کو قائل کرنا چاہتے ہیں؟ بس الفاظ کو اس قدر الجھا دیں کہ وہ سوچنے کے قابل ہی نہ رہے، اور اصل سوال کہیں کھو جائے. لیکن یہ مسئلہ صرف یونانی فلسفے تک محدود نہ رہا—یہ وہ پھندا تھا جس میں متکلمین (Theologians) جا پھنسے۔ انہوں نے یونانی منطق کی جادوگری کو اسلامی عقائد پر لاگو کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا حقیقت صرف الفاظ کو خوبصورت ترتیب دینے سے دریافت ہو سکتی ہے؟ یا پھر سچائی کا انحصار مشاہدے، تجربے اور وحی پر ہوتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس پر ہم آج گفتگو کریں گے۔

یونانی فلسفے کا سحر: سوچ کی غلامی کیسے پیدا کی گئی؟
یونانی فلسفیوں نے حقیقت (Reality) کو سمجھنے کے بجائے، حقیقت/ریالٹی کے باہر جا کر مجرد تصورات ( abstract ideas) کو مباحث کا مرکز بنا دیا۔ یا پھر منطق کا ایک مخصوص ڈھانچہ کھڑا کر دیا، جس کے ذریعے ہر چیز کو تعریفوں (Definitions) اور قیاسات (Deductive Logic) میں قید کر دیا گیا۔ یہ ایسا جال تھا جہاں الفاظ کو حقیقت پر فوقیت دے دی گئی، اور دلیل کو مشاہدے سے علیحدہ کر دیا گیا۔ نتیجہ؟ کمزور نظریات بھی "عقلی" محسوس ہونے لگے، جبکہ اصل حقیقت کہیں پیچھے رہ گئی۔

مثال:
اگر میں کہوں،
1. سبھی فلسفی لوگ مرغبانی کرتے ہیں، " (Premise 1)
2. سقراط ایک فلسفی ہے، (premise 2)
3. لہٰذا سقراط مرغبانی کرتا ہے (نتیجہ)

یہ نتیجہ منطقی طور پر درست نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں سقراط مرغبانی کرتا تھا یا نہیں، اس کا تعین منطق یا الفاظ نہیں بلکہ مشاہدہ کرے گا۔ کہ کیا واقعی سقراط مرغبانی کرتا ہے یا نہیں۔ یہاں مسئلہ یہ تھا کہ منطقی درستگی کو حقیقت کی ضمانت سمجھ لیا گیا—حالانکہ حقیقت جاننے کے لیے مشاہدہ ضروری ہے، محض منطق نہیں۔ پر افسوس کہ اس طریقہ پر سوال اٹھانے کے بجائے متکلمین نے اسی طریقہ سے متاثر ہو کر اسی طریقے کو اسلامی عقائد کو ثابت کرنے پر لاگو کر دیا۔

علم الکلام کا تاریخی پس منظر
دوسری صدی ہجری تک قرآن اور احکامِ شریعت کو سادہ اور براہِ راست انداز میں سمجھا جاتا تھا۔ جب مسلمانوں کا یونانی فلسفے سے واسطہ پڑا، جس میں عقل کو سب سے اعلیٰ ذریعہ سمجھا جاتا تھا، تو متکلمین بجائے یہ ڈیفائین کرنے کے کہ عقل کیا ہوتی ہے، کیسے کام کرتی ہے، اس کی حدود کیا ہیں، اور سوچنے کے طریقے کو واضع کرتے، متکلمین نے یونانی فلسفے کے اسی منطق کو اپنا کر عقائد کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یاد رہے یہاں عقائد سے مراد قرآن کی وہ اخبارات ہیں کہ جن کو ہم علم غیب کے نام سے جانتے ہیں کہ جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے جیسے جنت، جہنم، روز محشر کے حالات، جن، فرشتے، کائنات کیسے بنائی گئی، اس دنیاوی زندگی کے بعد کیا ہوگا اور عالم غیب میں کیا کیا ہوتا ہے وغیرہ۔

یہاں بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ "عقل" کو سمجھنے سے پہلے ہی اس پر یونانی طرز کا سانچہ مسلط کر دیا گیا۔ نتیجتاً متکلمین منطقی قیاسات، اور علت و معلول کے مجرد مباحث (Abstract discussions of cause and effect) میں الجھ کر غیر فطری صورت اختیار کر گئے۔ یعنی ان معاملات پر عقلی حکم لگانے لگے کہ جن معاملات تک عقل کی اصل کوئی رسائی ممکن نہیں ہے۔ یعنی صرف تخیلات (imagination ) کی بنیاد پر بظاہر عقلی جال بننے لگے۔ اب کیونکہ یونانی طریقہ خود غلطی کا شکار تھا، یہی وجہ تھی کہ علم الکلام خود اندرونی تضادات کا شکار ہو گیا، اور مختلف مکاتبِ فکر پیدا ہوئے:
1. معتزلہ: عقل کو وحی پر فوقیت دیتے ہوئے خدا کے عدل اور انسانی اختیار پر زور دیا۔
2. اشاعرہ: معتزلہ کے رد میں آئے، لیکن وحی اور عقل کو ایک فلسفیانہ منطق کے ذریعے جوڑنے کی کوشش کی۔
3. ماتریدیہ: اشعری اور معتزلی فکر کے درمیان ایک متوازن موقف اپنانے کی کوشش کی۔
4. جبریہ: یہ نظریہ کہ انسان کا کوئی اختیار نہیں اور تمام افعال پہلے سے مقدر ہیں۔
5. قدریہ: انسان کے مکمل اختیار کے قائل ہوئے، یہاں تک کہ خدا کے قضا و قدر (Divine Decree) کے تصور کی نفی کرنے لگے۔

ان کے علاوہ مرجئہ، کرامیہ، ظاہریہ، باطنیہ اور دیگر مکاتب فکر بھی موجود تھے، لیکن زیادہ تر بحث انہی پانچ مکاتب کے درمیان رہی۔

علم الکلام کے مسائل
1. حقیقت سے کٹا ہوا طرز استدلال- بحث وہاں کی گئی جہاں مشاہدہ ممکن نہیں تھا:
متکلمین کے تمام مکاتب حقیقت (reality) کو سمجھنے کی بجائے فلسفیانہ استدلال اور منطق میں الجھ کر وہی غلطی کر بیٹھے جو یونانی فلسفہ خود کر چکا تھا: یعنی حقیقت سے کٹ جانا۔ یہی وجہ ہے کہ علم الکلام میں ایسے سوالات اٹھائے گئے جو عام آدمی کے لیے ناقابلِ فہم تھے، جیسے: کیا خدا کے علم اور قدرت میں فرق ہے؟ کیا خدا کی صفات حادث ہیں یا قدیم؟ کیا افعالِ انسانی خدا کی تخلیق ہیں یا انسان خود انہیں تخلیق کرتا ہے؟ وغیرہ. یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بند کمرے میں بیٹھ کر اندازے لگائے کہ کچھ دیر پہلے باہر برف باری ہوئی یا نہیں۔ یہاں محض منطقی استدلال سے کوئی نتیجہ نکالنے کے بجائے، باہر جا کر دیکھنا یا مشاہداتی دلیل جیسے برف کو زمین پر گرےدیکھنا، درجہ حرارت کا گرنا، وغیرہ ٹھیک نتیجہ تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں حواس کے ذریعے سے مشاہدے کی ضرورت ہے۔

یہاں ہمیں پھر سے اپنی پچھلی تحریر (کیا دماغ حقیقت جاننے کے لئے کافی ہے) کی طرف جانا ہوگا، جہاں ہم نے حقیقت (Reality) کو مثال سے سمجھایا تھا۔

"کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ میں وہ تحریر کس جگہ بیٹھ کر لکھ رہی تھی؟"
اور ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ یہ ممکن نہیں جب تک کہ کسی نے مجھے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو، یا کسی مشاہداتی ذریعے سے تصدیق نہ کی ہو۔ اس مثال کے ذریعے سے ہم نے یہ اخذ کیا تھا کہ جو چیز براہ راست حواس یا حسی امداد میں استعمال ہونے والے آلات کے مشاہدے میں آ سکے وہ ہماری حقیقت یا ریالٹی ہے۔ اگر کوئی چیز براہ راست یا آلات کی مدد سے ہمارے حواس کے مشاہدے میں نہ آئے، اس چیز پر ہمارا دماغ عقلی طور پر سوچنے یا حکم لگانے سے قاصر ہے۔ اس پر صرف تکے تو لگائے جا سکتے ہیں، جو چاہے درست نتیجے پر پہنچائے یا نا پہنچائے، لیکن ہم اس کو عقلی نتیجہ نہیں کہہ سکتے۔

یہی حقیقت کو جاننے کا بنیادی اصول ہے—محض قیاسات، تکے، اور تخیلات حقیقت تک لازمی طور پر نہیں پہنچا سکتے۔ مگر متکلمین نے یہی غلطی کی، اور ان امور پر بحث چھیڑ دی جو حواس سے ماورا تھے۔ بالکل یہی کام تو وہ لوگ بھی کرتے ہیں کہ جو خدا کی مورتیاں بناتے ہیں ۔ بغیر خدا کو دیکھے یا مشاہدہ کئے ایسے بت/اشکال بناتے ہیں کہ جسکی سوائے انکے اپنے قیاس،تخیل، اور تکے کے انکے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ تو اپنے قیاس،تخیل، تکے سے بت کی شکل میں خدا کا خود سے تصور قائم کرنے والے غلط اور علم الکلام والے درست کیسے؟؟

اس مثال کو دیکھیے کہ کیسے اللہ کی صفات پر علم الکلام والے بحث کرتے ہیں

معتزلہ کا موقف:
1. اگر اللہ کی صفات اس کی ذات سے الگ ہوں تو یہ تعددِ قدما (Multiplicity of Eternal Beings) ہوگا، جو توحید کے خلاف ہے۔ (Premise 1)
2. توحید میں کسی بھی قسم کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ (Premise 2)
3. لہٰذا، اللہ کی صفات اس کی ذات سے الگ نہیں ہو سکتیں۔ (نتیجہ)

اب اشعریہ نے دوسری منطق پیش کی:
1. اللہ کی صفات قرآن میں موجود ہیں جیسے سمع، بصر، علم، قدرت۔ (Premise 1)
2. اگر ہم کہیں کہ یہ صفات اللہ کی ذات سے الگ نہیں، تو یہ معتزلہ کے نظریے کی تائید ہوگی جو باطل ہے۔ (Premise 2)
3. لہٰذا، صفات "بلا کیف" (یعنی بغیر کسی کیفیت کے) اللہ کی ذات کے ساتھ موجود ہیں، نہ الگ ہیں اور نہ عین ذات (نتیجہ)

لیکن اس بحث پر سر کھپانے سے پہلے کیا کسی نے ایک بار رک کر سوچا کہ جن موضوعات پر ہم بات کر رہے ہیں کیا ہماری حقیقت (Reality) ہیں؟ ہم نے نہ اللہ رب العالمین کو دیکھا، نہ سنا، اور نہ ہی ہمارے حواس یا حسی امداد کے آلات اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اللہ رب العالمین کی ذات اور صفات پر ایمان کو "ایمان بالغیب" کہا گیا ہے۔ یعنی یہ ایسی سچائی ہے جو انسانی حواس کے دائرے سے باہر ہے۔ تو جب کوئی سچائی ہمارے حواس ہی میں نہیں آ سکتی، تو اس پر جو بھی کہا جائے گا وہ تکے مارنے کی علاوہ اور کیا کوگا؟

قرآن اللہ رب العالمین کی ذات کو یوں بیان کرتا ہے: "اس جیسا کچھ بھی نہیں!" (الشوریٰ: 11). یعنی اللہ رب العالمین کی ذات انسانی عقل، علم اور تجربے سے ماورا ہے، اور اس پر فلسفیانہ بحث و مباحثہ لاحاصل ہے۔ اسی طرح، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔"(الأنعام: 59). یعنی جو چیزیں غیب سے ہوں اور انسانی حواس میں آ ہی نہیں سکتیں، ان پر محض لفظی مباحثے اور منطق کے جال بننے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ عقل کا کام حقیقت کا ادراک کرنا ہے، نہ کہ حقیقت کو گھڑنا۔

اسی طرح جنت و جہنم کے بارے میں بھی ہمارا علم محدود ہے۔ حدیثِ قدسی میں ارشاد ہوتا ہے: "میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا۔" (صحیح بخاری: 3244)

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز مشاہدے میں ہی نہیں آتی، تو کیا محض منطقی قیاس آرائی (Logical Premises) کے ذریعے اسے سمجھا جا سکتا ہے؟ پچھلی تحریر میں ہم نے اس پر تفصیل سے بات کی کہ جیسے کوئی بغیر مشاہدے کے درست جواب نہیں دے سکتا کہ میں یہ تحریر کس جگہ بیٹھ کر لکھ رہی ہوں چاہے کتنے ہی منطق لڑا لئے جائیں اسی طرح جب اللہ رب العالمین اور آخرت سے متعلق معاملات کو خود قرآن و حدیث میں "غیب" کہا گیا ہے، ان امور پر محض قیاس آرائی اور تکے ہمیں سچائی تک نہیں پہنچا سکتے۔ تو ان پر منطق اور فلسفے کے ذریعے بحث کرنے کی کوشش بے نتیجہ ہوگی۔ اس لیے علم الکلام میں ان موضوعات پر کی گئی بحثیں محض مفروضوں کا میدان بن کر رہ گئیں، جن سے زیادہ تر الجھن ہی پیدا ہوئی۔

2. منطقی مغالطے
علم الکلام میں اکثر استدلال محض مجرد عقلی قضایا اور قیاسی اصولوں پر مبنی ہوتا ہے، جو حقیقت پر مبنی ہونے کے بجائے ایک مفروضاتی نظام تشکیل دیتا ہے۔ اس میں قیاس استثنائی، قیاس اقترانی اور تجریدی تعریفات جیسے اصول شامل کیے گئے، جن کا حقیقت/ریالٹی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ متکلمین نے بہت سے معاملات کو "منطقی طور پر ثابت شدہ" سمجھ لیا، حالانکہ وہ حقیقت میں مشاہدہ اور تجربے سے ثابت نہیں ہوتے تھے۔ پچھلی تحریر میں وضاحت کی تھی کہ بعض اوقات Premises کی قید میں استدلال کرنے سے اصل حقیقت نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
مثال:
اگر میں کہوں،
1. اچھے طالب علم ہمیشہ زیادہ نمبر لیتے ہیں۔ (Premise 1)
2. زید کے نمبر کم آئے ہیں۔(Premise 2)
3. لہٰذا، زید اچھا طالب علم نہیں ہے۔ (نتیجہ)
یہاں Premises کی اندرونی منطق تو درست نظر آتی ہے، مگر اس استدلال میں ایک بنیادی غلطی یہ ہے کہ زید کے نمبر کم ہونے کی دیگر وجوہات (جیسے صحت، گھریلو مسائل، یا امتحانی طریقہ کار) کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہی بنیادی مسئلہ علم الکلام میں بھی پیدا ہوا۔ بہت سے موضوعات کو مجرد عقلی قیاسات کی بنیاد پر پرکھنے کی کوشش کی گئی، جبکہ حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔ متکلمین نے ایسے موضوعات پر قیاسی مقدمات قائم کر دیے، جن کا ہماری حقیقت/ریالٹی سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اس کی ایک بڑی مثال جبر اور اختیار کا مسئلہ ہے۔

مثال: جبر اور اختیار
یہاں تین بڑے مکاتبِ فکر نے تین مختلف دلائل دیے، اور ہر ایک اپنی جگہ "منطقی" معلوم ہوتا ہے، مگر ان میں باہمی تضاد پایا جاتا ہے۔
جبریہ کا استدلال:
1. اگر انسان کو اختیار دیا جائے، تو وہ خود خالق بن جائے گا۔ (Premise 1)
2. خالق صرف اللہ ہے، اور کوئی دوسرا خالق نہیں ہو سکتا۔ (Premise 2)
3. لہٰذا، انسان کے تمام افعال اللہ کے پیدا کردہ ہیں، اور انسان مجبورِ محض ہے۔ (نتیجہ)

معتزلہ کا استدلال:
1. اگر انسان مجبور ہے تو اس پر جزا و سزا غیر منصفانہ ہوگی، یعنی اللہ تعالیٰ عادل نہیں ہوگا۔ (Premise 1)
2. اللہ عدل و انصاف والا ہے، اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (Premise 2)
3. لہٰذا، انسان کے افعال اس کے اپنے پیدا کردہ ہیں، اور اسے مکمل اختیار حاصل ہے۔ (نتیجہ)

قدریہ کا استدلال:
1. اگر اللہ ہر چیز کا فیصلہ پہلے سے کر چکا ہے، تو پھر بندے کا عمل بے معنی ہوگا۔ (Premise 1)
2. قرآن میں ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ (Premise 2)
3. لہٰذا، قضا و قدر کا کوئی حقیقی وجود نہیں، بلکہ انسان اپنے تمام افعال کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ (نتیجہ)

یہ تینوں نظریات منطقی دلائل پر مبنی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
● اگر جبریہ کا نظریہ درست ہو تو سزا و جزا بے معنی ہو جاتی ہے۔
● اگر قدریہ کا نظریہ درست ہو تو اللہ کا قادرِ مطلق ہونا مشکوک ہو جاتا ہے۔
● اگر معتزلہ کا نظریہ درست ہو تو اللہ کی قدرت محدود ہو جاتی ہے۔

یہ تضاد درحقیقت اس وجہ سے پیدا ہوا کہ متکلمین نے حقیقت کو مجرد منطقی قیاسات میں مقید کر دیا، جبکہ انسانی اختیار اور تقدیر کا مسئلہ زیادہ پیچیدہ اور حقیقت پر مبنی مشاہدے کا محتاج تھا۔ نیز ہماری عقل کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا ادراک نہیں کر سکتی، اس لیے اللہ کے عادل، منصف، اور خالق ہونے سے جو بھی عقلی حکم نکالا جائے گا وہ غلط نتیجہ تک ہی لے کر جائے گا۔ یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علم الکلام میں منطقی استدلال بظاہر درست نظر آتے ہیں، مگر وہ حقیقت کو پوری طرح نہیں سمو سکتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متکلمین نے ایسے موضوعات کو بحث کا مرکز بنایا جو انسانی حواس اور مشاہدے سے ماورا تھے۔ قیاسی استدلال (Logical Reasoning) کے اصولوں پر مبنی پیچیدہ مقدمات قائم کیے گئے، لیکن ان میں حقیقت کی بجائے مجرد تصورات (Abstract Concepts) کو بنیاد بنایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معاملات کو منطقی قیود میں جکڑ کر اصل حقیقت کو نظر انداز کر دیا گیا۔

نہ صرف قضا و قدر پر طویل فلسفیانہ مباحث کی گئی بلکہ اللہ رب العالمین کی صفات کی ازلیت یا حدوث (صفات قدیم ہیں یا حادث؟)، جنت و جہنم کی حقیقت، روح کی ماہیت، اللہ کے علم اور انسانی اختیار کا تعلق، اور ملائکہ کے وجود کی نوعیت جیسے موضوعات پر بھی ایسے قیاسی استدلالات کیے گئے جو انسانی مشاہدے میں نہیں آ سکتے۔ یہی اصول قرآن و حدیث میں بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو ایسے موضوعات میں نہیں پڑنا چاہیے جن کا اسے علم نہیں اور اس کی ہدایت اور عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور اس چیز کے پیچھے مت پڑو جس کا تمہیں علم نہیں، (الاسراء: 36). اسی طرح نبی کریمﷺ نے فرمایا: انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ (سنن ترمذی: 2317)

ان نصوص سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں ان بحثوں میں پڑنے سے منع کرتا ہے جن کا ہمارے عمل، ہدایت، اور نجات سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ غیر ضروری فلسفیانہ سوالات میں الجھنے کے بجائے، سادہ، عملی اور حقیقت پر مبنی جوابات دینے کو ترجیح دیتے تھے۔ جب ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے تقدیر کے متعلق پیچیدہ اور غیر ضروری سوال کیا، تو انہوں نے سختی سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہی وہ مباحث ہیں جنہوں نے پچھلی امتوں کو گمراہ کیا تھا۔ اسی طرح، ایک شخص حضرت علیؓ کے پاس آیا اور پوچھا کہ انسان کے پاس اختیار ہے یا وہ مجبور ہے؟ حضرت علیؓ نے اسے کہا کہ ایک پاؤں اٹھاؤ ،جو اس نے اٹھا لیا۔ اور پھر دوسرا اٹھانے کو کہا مگر اس کے لئے دوسرا پاؤں اٹھانا ممکن نہیں تھا۔ تو اس کو مشاہدے کے ذریعے اے سمجھایا کہ ہم اچھے سے جانتے ہیں کیا ہمارے اختیار میں ہے اور کیا اختیار سے باہر تو فلسفیانہ گفتگو کا کیا فائدہ؟ یعنی حقیقت کو سمجھنے کے لیے فلسفیانہ موشگافیوں کی بجائے مشاہدہ کافی ہے، اور ان مباحث میں الجھنا محض وقت اور ذہنی صلاحیت کا ضیاع ہے۔

3. وحی کی بجائے منطق کو بنیاد بنانا
عقل سے حاحل ہونے والا علم کے دو بنیادی ماخذ ہیں۔
1. حسی مشاہدے (Sensory Perception) سے اشیاء کا ادراک → یعنی وہ چیزیں جو براہِ راست حواس یا آلات کی مدد سے دیکھی، سنی، یا محسوس کی جا سکتی ہیں۔
2. وہ علم جو مبنی پر عقل ہے (یعنی نقلی) → ایسی معلومات جس کی صداقت قطعی ذرائع سے حاصل ہو۔ وحی بھی اس میں شامل ہے۔ (اس پر اگلی تحاریر میں مفصل بات ہو گی)
لیکن علم الکلام کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ متکلمین نے ایمانیات کو وحی کی بجائے مجرد منطق پر ثابت کرنے کی کوشش کی، جس نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

مثال: وجودِ خدا پر متکلمین کا استدلال
متکلمین کی عام دلیل:
1. ہر چیز کا ایک سبب ہوتا ہے۔ (premise 1)
2. کائنات ایک چیز ہے۔ (premise 2)
3. لہٰذا، کائنات کا بھی ایک سبب ہونا چاہیے، جو خدا ہے۔ (نتیجہ)
لیکن اس منطق کا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ملحد (atheist) اگر یہی اصول اپنائے، تو وہ سوال کر سکتا ہے کہ اگر ہر چیز کا کوئی سبب ہوتا ہے، تو پھر کائنات کے خالق کا بھی کوئی سبب ہونا چاہیے؟ اور اسکے خالق کے خالق کا بھی کوئی سبب ہونا چاہئے؟ اس طرح لامحدود تسلسل (infinite regress) کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے، جہاں "پیدا کرنے والے کا پیدا کرنے والا کون ہے؟" جیسے سوالات جنم لیتے ہیں، جو عقل کو ایک بے نتیجہ دائرے میں الجھا دیتے ہیں۔ جبکہ قرآن اس مسئلے کو ایک مختلف زاویے سے حل کرتا ہے: "کیا وہ کسی چیز کے بغیر پیدا ہو گئے؟ یا وہ خود خالق ہیں؟" (الطور: 35). اسی طرح اللہ رب العالمین فرماتے ہیں: "زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، اور تمہارے اپنے اندر بھی، تو کیا تم غور نہیں کرتے؟" (الذاریات: 20-21)

قرآن ایسی بہت سی آیات کے ذریعے حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، اور مشاہدے کی ڈاریکشن دیتا ہے، کہ خالق کے خالق جیسے مسئلوں کے پیچھے الجھنے کی بجائے خود پر اور اپنے اردگرد، انسان کی پیدائش، اس زمین پر پھیلی حیات، اور پوری کائنات پر غور کرو جو ہمارے مشاہدے میں آ سکتے ہیں اور یہ سوچو کہ یہ خودبخود کیسے وجود میں آسکتے ہیں۔ اور ان تمام کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہم عقلی طور پر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انسان، حیات، اور کائنات عاجز اور محدود ہیں، اسی لیے مخلوق ہیں اور ان کا کوئی پیدا کرنے والا یعنی خالق ہونا چاہیے۔ اب جس نے اسکو پیدا کیا وہاں ہماری عقل کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتی کیونکہ وہ ہستی ہمارے حواس کے مشاہدے سے باہر ہے اور وہاں ہمیں یا تو وہ ہستی خود آکر اپنا تعارف کروائے گی یا کسی بھروسے مند ذریعے سے ہم تک اپنا تعارف بھیجے گی۔ لیکن متکلمین نے اس کائنات کے خالق تک پہنچنے کے لئے وحی میں موجود دلائل اور انکی بنیاد کو سمجھنے کی بجائے فلسفہ اور منطق کو بنیاد بنایا، جس کی وجہ سے وہ زیادہ تر غیر ضروری موشگافیوں میں الجھ گئے۔

تو کیا متکلمین کی کوششیں غلط تھیں؟
بعض احباب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ میں متکلمین کے کام پر تنقید کر کے ان کی نیت پر سوال اٹھا رہی ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ بحث نیت کی نہیں بلکہ طریقہ کار کی ہے۔ متکلمین کی کوششوں اور ان کی اخلاص پر مبنی جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اور اللہ رب العالمین یقینا ان کی نیتوں کا صلہ دے گا۔ مزید یہ کہ، ان کے فکری تجربات کے نتیجے میں بعد میں آنے والوں کو ان کے طریقہ کار کی کمزوریوں کو پہچاننے اور عقل کی درست تشریح تک پہنچانے میں مدد ملی تو ہم ان کی نیتوں پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان کا منہج بنیادی طور پر غلط اصولوں پر مبنی تھا۔ انہوں نے عقل کی اصل تعریف اور دائرہ کار کو سمجھے بغیر، یونانی فلسفیوں کے نظریے کو بنیاد بنا کر اسلام کی تفہیم کی کوشش کی—جس کے نتیجے میں وہ تضاد اور پیچیدگی کا شکار ہو گئے۔

یہ صرف میرا ذاتی تجزیہ نہیں، بلکہ ہمارے آئمہ اربعہ نے بھی علم الکلام کے بارے میں شدید تنقید کی ہے:
● امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک، عقائد کی بنیاد قرآن و سنت پر ہونی چاہیے، اور غیر ضروری فلسفیانہ مباحث میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
● امام مالکؒ نے علم الکلام میں مشغول ہونے کو بدعت قرار دیا اور فرمایا کہ ایمان سادہ اور واضح ہوتا ہے، اسے فلسفیانہ مغالطوں میں الجھانے سے صرف انتشار پیدا ہوگا۔
● امام شافعیؒ علم الکلام کو سخت ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے:
"اگر علم الکلام انسان کے لیے ضروری ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ سب سے پہلے اسے سکھاتے۔ لیکن نہ صحابہؓ نے اس میں بحث کی، نہ تابعین نے، تو میں اسے علم نہیں بلکہ جہالت شمار کرتا ہوں۔"
● امام احمد بن حنبلؒ نے علم الکلام کو ابتدء میں ٹھیک سمجھا لیکن اس کے فتنے اور اثرات دیکھ کر اس کی شدید مخالفت کی اور فرمایا کہ جو چیز اللہ نے واضح نہیں کی، اس پر بحث کرنا فضول ہے۔ جب معتزلہ نے ان پر خلقِ قرآن کے مسئلے میں جبر کیا، تو انہوں نے انکار کر دیا اور ثابت قدم رہے۔

علم الکلام کا استعمال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ علم الکلام میں بحث کے نتیجے میں امت انتشار اور آزمائش میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اسی لئے تمام آئمہ علم الکلام کی مخالفت پر متفق تھے۔ابن رشد کی کتاب "تہافت التہافت" دراصل امام غزالی کی کتاب "تہافت الفلاسفہ" کا جواب تھی۔ امام غزالی نے فلسفیوں پر تنقید کی تھی کہ وہ عقل کو وحی پر فوقیت دیتے ہیں، اور ان کے بعض نظریات کو "کفر" قرار دیا تھا۔ ابن رشد نے امام غزالی کے رد میں کہا کہ "فلسفہ کو رد کرنے کے لیے بھی فلسفہ استعمال کرنا تضاد ہے”۔ یعنی اگر منطق اور فلسفہ غلط ہیں، تو پھر امام غزالی نے خود انہی اصولوں کو کیوں اپنایا۔

مختصرا، آئمہ اربعہ اور دیگر مفکرین یہ تو ڈیفائن نہ کر سکے کہ عقل کیسے کام کرتی ہے مگر وہ یہ ضرور جانتے تھے کہ متکلمین کا طریقہ استدلال درست نہیں اور اسے نہیں اپنانا چاہئے۔ انہوں نے علم الکلام کی مخالفت اس لیے نہیں کی کہ وہ "عقل دشمن" تھے، بلکہ اس لیے کی کہ متکلمین نے عقل کے استعمال کے درست اصول واضح کیے بغیر، یونانی فلسفے اور منطق کو بلا تنقید اپنا لیا تھا۔

نتیجہ
اس تحریر میں ہم نے یہ واضح کیا کہ علم الکلام کے مندجہ ذیل بنیادی مسائل ہیں:
● یہ حقیقت سے کٹ کر مجرد عقلی استدلال پر منحصر ہے۔
● اس میں منطقی قیود اور الفاظ کا غیر ضروری الجھاؤ پایا جاتا ہے۔
● وحی کی بجائے منطق کو بنیاد بنا کر ایمان کو فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھا دیتا ہے۔
● عقل، اور اس کے کردار کو عاضع کئے بغیر عقلی گھوڑے دوڑائے گئے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بجائے اس کے کہ متکلمین یونانی فلسفے، اور منطق کے استعمال کو غلط اور غیر عقلی ثابت کرتے، اس کی کمزوری واضع کرتے، اور سوچنے کے درست طریقہ کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے، انہوں نے یونانی فلسفے اور منطق ہی کی بنیاد پر پیدا ہونے والے سوالات کے اسی غلط بنیاد سے جوابات گھڑنا شروع کر دیے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر سوچنے کا طریقہ درست نہ ہو، تو فلسفہ، منطق ،اور علم الکلام جیسے علوم انسان کو حقیقت کے ادراک کی طرف لے جانے کے بجائے، سچائی سے دور کر سکتے ہیں۔اس لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حقیقت کو محض منطق کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا—بلکہ عقل کے درست استعمال اور سوچنے کے صحیح اصولوں کو جاننا ضروری ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ:
● عقل کیا ہوتی ہے؟
● عقل درحقیقت کیسے کام کرتی ہے؟
● کیا عقل کی حدود متعین ہیں؟
● کیا ہر چیز کو عقل سے جانچنا ممکن ہے؟
● کیا سوچنے کا بھی کوئی "صحیح" طریقہ ہوتا ہے؟

اور ان شاء اللہ اگلی تحریر میں ہم انہی سوالات کا تفصیلی جائزہ لیں گے—کہ عقل کیسے کام کرتی ہے اور سوچنے کے درست اصول کیا ہیں۔

Comments

Avatar photo

عائشہ نورین

عائشہ نورین سنگاپور میں مقیم ہیں۔ میڈیسن میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ زندگی کا بیشتر حصہ سائنس اور طبی تحقیق میں گزرا ہے۔ انسان، حیات اور کائنات کی پیدائش کے مقصد جیسے بنیادی حل طلب سوالات کی جستجو میں رہتی ہیں۔ منطق، فلسفہ اور استدلال کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اسے تقلید بلکہ اندھی پیروی سمجھتی ہیں۔ اس کھوئی ہوئی عقل کی تلاش کی جستجو ہے، جو صرف کتابی دلائل میں نہیں، بلکہ حقیقت کے براہِ راست مشاہدے میں پوشیدہ ہے۔

Click here to post a comment