مادیت پرست مغرب کو خدا اور مذہب سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں خدا کی کیا ضرورت ؟
مغرب کے پراڈائم شفٹ میں جب وہ زندگی کے ہر ہر دائرے اور ہر ہر شعبے کو مادی فائدے کے پیمانے پر ماپنے کھڑے ہوئے تو ان کی نگاہ محدود سے محدود تر ہوتی چلی گئی اور جب انہوں نے حقائق کو جاننے کا واحد پیمانہ اپنی محدود تر عقل کی تجربہ گاہ کو سمجھ لیا تو وہ سیدھی راہ سے بھٹکتے چلے گئے اسی گروہ کی بابت قرآن کریم میں آتا ہے۔
اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةًؕ-فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(23)
دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرایا اور اللہ نے اُسے باوصف علم کے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اُسے کون راہ دکھائے تو کیا تم دھیان نہیں کرتے۔
یہی وہ گروہ ہے کہ جو اپنی جہالت کے سبب گمراہ نہ ہوا بلکہ اس کی علمیت نے اسے گمراہی کے راستے پر ڈال دیا۔
یہ مادی تصور حیات مختلف زاویوں سے انسان کو اپنی گرفت میں لیتا ہے کہیں پر کوئی ڈارون اسے ارتقاء کی راہ سجھاتا ہے اور یہ سبق پڑھاتا ہے کہ صرف مضبوط تر لوگوں کو جینے کا حق ہے تو کہیں پر کوئی مالتھس انہیں سمجھاتا ہے کہ جب تک اس انسانی دنیا کا ایک بڑا حصہ کم نہ کردیا جائے اور موجود لوگوں کی تعداد وسائل کے مقابلے میں محدود نہ ہوجائے بقاء ممکن نہیں کہیں پر کوئی فرائیڈ تمام تر انسانی جذبات و کیفیات کو نفسیاتی عوارض اور کمزوریوں سے جوڑ دیتا ہے کہیں پر ہابز کھڑا ہوتا ہے اور ایک بڑے عفریت لیوائیتھون کی جانب متوجہ کرتا ہے اور یہ سمجھاتا ہے کہ ایک فطری ریاست اسی وقت کھڑی ہو سکتی ہے کہ جب تک بڑے پیمانے پر قتل و خون نہ ہوجائے کہیں پر کوئی رسل تمام مابعد الطبیعیاتی امور کو واہمہ قرار دیکر ظاہر پرستی کی راہ ہموار کرتا ہے تو کہیں پر کوئی نطشے خدا کی موت کا اعلان کردیتا ہے ایسے میں جان سٹیورٹ مل اور جیریمی بینتھم یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ جس چیز کا کوئی مادی فائدہ نہ ہو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
انسانیت اور انسان کی تباہی کے فیصلے مشینیت زدہ اور مادیت پرست یورپ نے جس انداز میں کیے ہیں اور جو کچھ اقدار اور اخلاقی و اصولی پیمانے ان کی جانب سے سامنے آئے ہیں وہ اتنے رکیک اور پست سطح کے ہیں کہ مادیت زدہ انسانوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی کرتا ہے۔
جب ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ مذہب اور خدا کی ضرورت کیوں تو ہمارے بہت سے مفکرین ازخود دفاعی پوزیشن پر چلے جاتے ہیں اور شیشے کے گھر میں بیٹھ کر مذہب کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کرتے ان کے اندر اتنی جرات اور اعتماد ہی نہیں ہوتا کہ وہ اگلوں سے یہ پوچھ سکیں کہ میاں تم خود ہوائی قلعوں میں بیٹھ کر ہم سے سوال کرتے ہو، ہمارے ان مفاہمت پسند مفکرین کو کبھی یہ بات سوجھتی ہی نہیں کہ وہ سوال جو ایک مادیت پرست ملحد ہم سے پوچھ رہا ہے کم از کم اس سے اس کی اقدار کی بابت استفسار تو کیا جائے کم از کم اسے کٹہرے میں تو لایا جائے گویا کہ انہوں نے پہلے ہی ان اقدار کی برتری کو تسلیم کرلیا۔
الحاد کے اخلاقی پیمانے
ویسے تو الحادی اقدار کوئی متفق علیہ معاملہ نہیں ہیں یہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور مخمصہ در مخمصہ کا شکار ہیں جدیدیت سے مابعد جدیدیت تک اور یوٹیلیٹیرین سے ایگیلی ٹیرین ازم تک ان کا ہر ہر فلسفہ آپس میں متصادم ہے لیکن اگر ان کی کوئی بنیاد تلاش بھی کرلی جائے تو وہ اتنی کمزور ہے کہ اس پر کوئی عمارت کھڑی کرنا ممکن ہی نہیں۔ مثال کے طور پر ایک مادیت پرست ذہن ایک تمثیل پیش کرتا ہے ، فرض کیجیے کہ یہ دنیا ایک مکان ہے اور اس دنیا میں موجود چیزیں ہماری ضرورت پوری کرتی ہیں اس مکان میں موجود چیزوں کی ضرورت و اہمیت کا تعین کیسے کیا جائے یہ ایک صوفہ ہے جس پر ہم بیٹھتے ہیں ، یہ گھڑی ہے جس میں ہم وقت دیکھتے ہیں ، یہ ایک چولہا ہے جس پر کھانا پکتا ، پورچ میں کھڑی کار سفر میں استعمال ہوتی ہے ، لاؤنج میں رکھا فریج کھانے کو محفوظ رکھتا ہے ۔
اب اس مکان کے ایک گوشے میں کوئی مذہبی علامت ہے تو اس کی اہمیت کا تعین کیسے کیا جائے گا ؟
یہیں پر توقف کیجیے کیا یہ تصویر اسی طرح ہے کہ جس انداز میں پیش کی گئی ہے اب اس منظر کو ہم پھر سے دیکھتے ہیں اور اشیاء کی قیمت کا تعین کرتے ہیں۔
کیا ڈرائنگ روم میں رکھا ہوا صوفہ لاؤنج میں رکھے ہوئے فریج سے زیادہ قیمتی ہوگا ؟ بظاہر تو ایسا دکھائی نہیں دیتا۔
کیا پورچ میں کھڑی کار لاؤنج میں رکھے فریج سے زیادہ قیمتی ہوگی ؟ بظاہر تو ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
کیا تجوری میں رکھا سونا پورچ میں کھڑی کار سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے ؟ ممکن ہے کہ اس کی مالیت کار سے زیادہ ہو۔
کیا سٹڈی روم میں موجود لیپ ٹاپ کے اندر محفوظ ڈیتا ان سب چیزوں سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے ؟ یہ ڈیٹا کی نوعیت پر بیس کرتا ہے۔
لیکن کیا کوئی مادی فائدہ ہی قیمت کا تعین کرتا ہے ؟
اب ہم ایک دوسرا منظر نامہ پیش کرتے ہیں اس گھر کے کسی ایک کمرے کی دیوار پر مونا لیزا لگی ہوئی کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کی کیا قیمت ہے ؟
بعض کے نزدیک ایک بلین ڈالر ۔۔
اسی گھر میں ایک شرٹ ہے جو لیونل میسی یا رونالڈو نے کسی کلب کے میچ میں پہنی تھی اس کی کیا قیمت ہے ؟
پس معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز کی قیمت اس کے مادی فائدے کی ہی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی جذباتی یا پھر جمالیاتی حیثیت بھی ہوا کرتی ہے یہاں پر مادی فائدے سے بڑھ کر جذباتی یا جمالیاتی پیمانوں پر قیمت کا تعین ہو رہا ہے۔
اب ایک اور منظر نامہ پیش کرتے ہیں اچانک کوئی پینڈامک نمودار ہوتا ہے اور اس گھر کے میکنوں کر اب گھر میں ہی موجود غذائی ذخیرے پر گزارہ کرنا ہوگا تو کیا وہ آٹا ، دال ، چاول ، چینی ، دودھ تمام تر مادی ، جذباتی اور جمالیاتی چیزوں سے زیادہ قیمتی نہ ہو جائیں گے ؟
تو کیا زندہ رہنا سب سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔
پھر ایک اور منظر نامہ دیکھیے اسی گھر میں کسی کو اچانک ہارٹ اٹیک ہوتا ہے تو ان تمام چیزوں سے زیادہ وہ گولی اہم نہ ہوجائے گی کہ جو دل کے دورہ کے وقت زبان کے نیچے رکھی جاتی ہے ؟
اب یہاں پر ایک ہیومنسٹ کھڑا ہوتا ہے اور وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سب سے اہم چیز خود انسان ہے، تو کیا اس کا یہ دعویٰ درست ہے ؟
ایک مادیت پرست انسان بوڑھے والدین کو صرف اسلیے گھر سے نکال دیتا ہے کہ اب ان کی کوئی مادی قیمت نہیں رہی بلکہ وہ ایک لائیبلیٹی بن چکے ہیں تو کیا انسان واقعی اہم ہے ؟
اب آپ کے سامنے ایک اور منظر نامہ پیش کرتے ہیں ایک معروف سرجن کے پاس پانچ مریض آتے ہیں ایک کو آنکھوں کی ، ایک کو دل کی ، ایک کو جگر کی ، ایک کو گردوں کی اور ایک کو دماغ کی ضرورت ہے ان میں سے ایک ڈاکٹر ہے ، ایک انجینئر ہے ، ایک نیوکلیر فزکس سے منسلک ہے ، ایک معروف اکانومسٹ ہے ، ایک سپیس سائنس کا بندہ ہے ہر ہر شعبے کا فرد قیمتی اور اہم ہے اب اس ڈاکٹر کے پڑوس میں ایک ایسا شخص ہے کہ جس کا کوئی روزگار نہیں وہ زیادہ تر اپنے گھر میں رہتا ہے اس کی کوئی معاشی حیثیت نہیں اس کی کوئی معاشرتی افادیت نہیں اور اس کے نہ ہونے سے اس مادی دنیا کو کوئی بھی علمی ، فکری ، اخلاقی ، مالی ، جمالیاتی نقصان نہیں ہوگا اس کا کوئی رشتے دار بھی نہیں تو اس شخص کی کوئی جذباتی اہمیت بھی کسی کے لیے نہیں ہے۔
تو کیا وہ سرجن اس کا دل ، اس کا دماغ ، اس کی آنکھیں ، اس کے گردے اس کا جگر زیادہ اہم زیادہ فعال زیادہ ضرورت مند افراد کو لگا سکتا ہے ؟
اگر لگا سکتا ہے تو اس کے اقداری پیمانے کیا ہیں ؟
اگر نہیں لگا سکتا تو اس کے اقداری پیمانے کیا ہیں ؟
اور اگر ہم بعض اخلاقی پیمانوں پر اسے غلط کہیں تو وہ اخلاقی پیمانے کیا ہیں ؟ کیا شخصی آزادی کا پیمانہ ؟
تو اگر اس پیامنے پر وہ شخص ایک مخصوص قیمت کی بنیاد پر اپنی خوشی سے اپنے اعضاء ان لوگوں کو دے دے تو کیا یہ درست ہوگا ؟
اور اگر یہ درست ہوگا تو ان اعضاء کے بغیر اس شخص کیلے وہ قیمت کس طرح مفید ہوگی ؟
اب ایک اور منظر نامہ تخلیق کیجیے اس شخص کی ایک بیٹی ہے اور اسے اس بیٹی سے بہت محبت ہے اور وہ ان اعضاء کو بیچ کر اپنی بیٹی کے مستقبل کو محفوظ کر سکتا ہے تو کیا ایک پیمانہ محبت بھی ہے ؟
اور اگر وہ شخص اس امید پر کہ وہ قیمت اس کی بیٹی کو مل ہی جائے گی اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو کیا ضروری ہے کہ وہ سرجن وہ قیمت اس بچی کو دے ہی دے ؟ کیا یہ صرف گڈ فیتھ نہیں ہے!
اب غور فرمائیے کہ ایک مادیت پرست ذہن کے پاس انسانیت کی سطح پر کوئی بھی متفق علیہ پیمانہ اس درجے کا موجود ہی نہیں کہ وہ کسی بھی شے کی حقیقی قیمت کا تعین کر سکے یہاں تک کہ انسان کی قیمت بھی۔
تو پھر وہ کس جرات کے ساتھ مذہب اور خدا کی کوئی قدر اور کوئی قیمت متعین کرنے کا سوال پوچھ سکتے ہیں اور کس پیمانے پر اسے ماپ سکتے ہیں مالی ، جذباتی ، جمالیاتی وہ کون سا ایسا مکمل پیمانہ ان کے پاس موجود ہے کہ وہ مذہب اور خدا کی قیمت کا تعین کر سکیں۔
ہاں آخر میں ان کے پاس صرف گڈ فیتھ بچتا ہے اور یہی مذہب کا بنیادی مقدمہ ہے۔
تصور خدا اور کاملیت کی تلاش
ایک بار ایک ملحد نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا وہ یوٹیلی ٹیرین تھا اور خدا کی اخلاقیات کی حدود متعین کررہا تھا ، اس نے پوچھا کہ وہ کیا وجہ ہے کہ خدا نے اس کائنات اور حضرت انسان کو کمزوریوں کا مجموعہ بنایا کیا خدا اتنا ہی کمزور ہے کہ وہ اس کائنات کو کامل بھی نہ بنا سکا ؟
جب وہ یہ سوال کر چکا تو میں نے اس سے پوچھا کہ خدا کی اس کائنات میں یا خود انسان میں تمہیں جو خامیاں دکھائی دیتی ہیں اگر خدا کے تصور کو درمیان سے نکال دیا جائے تو پھر تم ان خامیوں یا کمیوں کی کون سی توجیہ کرو گے کیا فطرت ہی اپنی بنیاد میں خامی زدہ ہے ؟ بڑی دیر سوچنے کے بعد بھی اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا پھر اس نے دوسرا سوال پوچھا کہ اگر خدا کے ہونے یا نہ ہونے ہر دو صورت میں اس کائنات یا انسان کے اندر کوئی نہ کوئی خامی دکھائی دیتی ہے تو پھر ہم خدا کے تصور کو تسلیم کریں یا نہ کریں اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ تو اس پر میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ انسان آخر کامل ہونے کا متلاشی ہی کیوں ہے وہ اس دنیا کو جنت کیوں دیکھنا چاہتا ہے اس کی یہ خواہش کیوں ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے اسے کوئی بیماری نہ ہو اس کی ہر ہر خواہش پوری ہو فطرت انسانی اپنی بنیاد میں خامی زدہ ہونے کے باوجود کاملیت کی متلاشی کیوں ہے کیا یہ تمام سائنسی تگ و دو یہ سارا کاروبار دنیا اسی کاملیت کی تلاش میں تو نہیں تو اس پر اس نے اس بات کا اقرار کیا کہ ایسا ہی ہے تو میں نے اس کے سامنے ایک نکتہ رکھا میں کہا کہ کبھی اس بات پر غور کرو کہ کیا کوئی وجود ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جو کامل ترین ہو اور ہم وقتی طور پر اس وجود سے دور ہو چکے ہیں لیکن ہم اس ایک کامل وجود کی تلاش میں ہوں ہمارے ارد گرد مادیت کا ایک ڈھیر ہونے کے باوجود بھی ایک احساس نارسائی کیوں موجود ہے وہ کون ہے کہ جسے پالینے کی جستجو ہمیں چین نہیں لینے دیتی ؟ بودھ سے لے کر مسیح تک کیا یہ ایک ہی طلب ایک ہی غم ایک ہی تلاش تو نہیں ہے اس بات پر وہ خاموش رہا تو میں نے اس کے سامنے ایک فطری نکتہ رکھا ہم نے اس دنیا کو تضادات سے سمجھا ہے خوشی غم سچ جھوٹ طاقتور کمزور خوبصورت بدصورت سرد گرم خیر و شر تو کیا انسان کا ہونا اس بات پر دلیل نہیں کہ کوئی خدا بھی ہے اور اگر ہے تو ہمارے اندر اس کو پالینے کی طلب عین فطری نہیں تو ہمارا ناقص ہونا کیا اس امر کو لازم نہیں کہ کوئی کامل بھی ہے اور ہماری اس کائنات کا عارضی ہونا کیا اس بات کو لازم نہیں کہ کہیں کوئی دنیا دائمی بھی ہے اور یہاں پر ہمارا معدوم ہو جانا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ کہیں پر ہم لافانی بھی ہوں گے اور یہاں پر ہماری گفتگو ختم ہوگئی مجھے اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اس کے اندر سوچ کا ایک در وا ہو چکا ہے۔
مسئلہ خیر و شر اور الحاد
حقیقت تو یہ ہے کہ خیر و شر کا ہر تصور مذہب نے ہی پیش کیا ہے مذہب سے ہٹ کر اس تصور کی کوئی تاریخ موجود نہیں ہے۔
فطرت انسانی نے کبھی خیر و شر کا تعین نہیں کیا چونکہ ایک ملحد خاص کر نیچری ملحد کے نزدیک انسان بھی اپنی بنیاد میں حیوان ہی ہے یا پھر حیوان کی ترقی یافتہ شکل ہی ہے تو سوال یہ ہے کہ جب وہ سروائیول آف دی فٹسٹ کے تصور کو مانتے ہیں تو اس کی موجودگی میں کسی بھی اخلاقی یا اصولی تصور کو کیسے تسلیم کر سکتے ہیں۔
اب اس نکتے کو مثال سے سمجھاتا ہوں جنگل کا شیر کسی اخلاقی پیمانے کا پابند نہیں ہوتا ہرن کا شکار اس کی فطرت ہے اگر وہ کسی اخلاقی پیمانے پر شکار چھوڑ دے تو یہ اس کی فطرت کے مخالف ہوگا اور اس کی بقاء بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
ایک نیچری ملحد از خود ایک اخلاقی پوزیشن تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے مثال کے طور پر وہ ایک ایک نیچری اور سبزی خور ملحد ہے تو اس کے نزدیک جانوروں کا کھانا ظلم ہے مگر رکیے کیا بلی کا چوہے کو کھا جانا بھی جرم ہے ؟
مخمصہ در مخمصہ اگر جانوروں کا کھانا جرم ہے تو پودوں کا کھانا جرم کیوں نہ ہوا کیا پودے جاندار نہیں ہیں ؟
ویسے تو ماس نہ کھانے کا تصور بھی انہوں نے مذہب سے ہی مستعار لیا ہے،
خیر و شر کے اخلاقی تصور کی کوئی بھی بنیاد مذہب سے ہٹ کر ممکن ہی نہیں انسانی شعور کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہمیشہ یہ تصور مذہب کی طرف سے ہی آیا ہے۔
غیر مذہبی یا غیر شعوری وجود کی کوئی بھی اخلاقی پوزیشن نہیں ہو سکتی ایک شیر ، بکری ، چوہا ، بلی ، گاجر ، مولوی یا پھر ایک ایپ ایک نیندر تھا یا ایک ملحد جب وجود کی بقاء کے فکری قانون کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر وہ خیر و شر کی کسی اخلاقی پوزیشن کے طالب کس طرح ہو سکتے ہیں ؟
الحاد کا تصور آزادی
کلی آزادی یہ ہمیشہ انسان کی خواہش رہی ہے مگر کیا کیجئے انسان مقید ہے آپ لاکھ انکار کیجئے حیلے بہانے تراشیں لیکن آپ مجبور ہیں
انسان قیدی ہے , انسان کا
انسان قیدی ہے اپنے مادی وجود کا
انسان قیدی ہے اپنے جذبات و احساسات کا
انسان قیدی ہے اپنے ماحول کا
انسان قیدی ہے اپنے افکار کا
کہیں خونی رشتے آپ کے پیر کی دیوار ہیں تو کہیں ریاستی قوانین آپ کے راستے کی رکاوٹ کہیں آپ کا کمزور وجود آپ کی خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام تو کہیں آپ کے جذبات آپ کی فکری پرواز میں مزاحم
کیا خوب کہا ہے شاعر نے
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
خدا کا آپ سے ایک ہی مطالبہ ہے دیکھو میری غلامی میں آجاؤ اور آپ کی یہی رٹ میں نہ مانوں.
غور کیجیے! کیا آپ اپنے ارد گرد موجود مادی حدود و قیود کو توڑ سکتے ہیں؟ اس لا محدود پھیلی ہوئی کائنات میں آپ کی پرواز کہاں تک ہے، پھر آپ کی جسمانی کمزوریاں کیا آپ ہمیشہ جاگ سکتے ہیں یا ہمیشہ سو سکتے ہیں کیا آپ غم خوشی دکھ تکلیف سے مبرا ہو سکتے ہیں. پھر آپ پر زمینی حدود کی پابندیاں یہ پاکستان ہے یہ ہندوستان یہ امریکہ یہ انگلستان یہ کوریا یہ جاپان . کبھی کسی ملحد نے اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ ہاں جہاں مذاہب کی حدود کی بات آئی پھر میں نہ مانوں کی تکرار . آپ کی مرضی مت مانئے آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے . پھر ہر شخص دوسرے شخص کا قیدی میری آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے آپ کی ناک شروع ہوتی ہے. ایسا کیوں؟ جناب آپ کی آزادی وہاں کیوں ختم نہیں ہوتی جہاں مذہب کی حد شروع ہوتی ہے . کبھی آپ بچے تھے تو آپ کے ماں باپ نے آپ کی پرورش کی استادوں نے آپ کو پڑھایا کتابوں میں لکھے نے آپ کو سکھایا دنیا کے مشاہدے نے آپ کو سمجھایا . تو سوال یہ ہے کہ آپ کہاں ہیں آپ کون ہیں آپ کی اپنی حیثیت کیا ہے . ایک عظیم الشان فطری کارخانے کے ایک کارندے جو اس مشین میں چل رہا ہے اور اس کا اس مشین سے نکلنا ممکن ہی نہیں
آپ لاکھ کہیں میں آزاد ہوں لیکن کیا کیجیے
آپ صرف ایک غلام ہیں فطرت کے غلام
اب فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ کو کس کا غلام بننا ہے
اپنی بے لگام خواہشات کا یا پھر ایک سچے حقیقی رب کا
ایمان و الحاد کی فلسفیانہ و فکری بنیادیں
ایمان کا بنیادی مطالبہ ہی یہ ہے کہ کسی اندیکھی قوت کو تسلیم کیا جائے کہ جو عقل کے دائرے سے اوپر ہے ایمانیات تمام تر مابعد الطبیعیات یعنی سپر نیچرل سے متعلق ہیں ایمان یہ تقاضا کرتا ہے کہ موجودات سے ہٹ کر یا ان سے اوپر موجودات کے ایک دوسرے دائرے کو تسلیم کیا جائے کہ جو بظاہر دکھائی نہیں دیتا لیتا محسوس کیا جا سکتا ہے۔ عقل پرست یا موجودہ دور میں سائنس پرست الحاد کا دعویٰ یہ ہے کہ جو کچھ دکھائی دیتا ہے جس پر تجربہ ممکن ہے یا پھر جس کا تجزیہ ہو سکتا ہے وہی حقیقت ہے اور وہی موجود ہے یا پھر حقیقت وہی ہے کہ جس تک انسان پہنچا ہے۔
مذہبی دعوت بہت صاف اور واضح ہے کہ یہ کائنات ایک مخصوص مقصد کیلیے تخلیق کی گئی ہے اور یہ دنیا صرف ایک عبوری گزرگاہ ہے اس دنیا سے پرے ایک اور دنیا ہے کہ جو مستقل اور ہمیشہ رہنے والی ہے ، انسان کو اس دنیا یا اس دنیا میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اور انسان سے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچان کر اس کی اطاعت کرے بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ جو خالق کو پہچان کر اس کی اطاعت کرے وہی انسان ہے۔
دوسری جانب الحاد و تشکیک کے پاس سرے سے کوئی دعویٰ ہے ہی نہیں تشکیک تو خیر ایک غیر عقلی اور غیر فطری پوزیشن ہے لیکن الحاد یا موجودہ دہریت بھی مذہب کے مقابل صرف اور صرف الزامی کیفیت پر کھڑے ہیں آج تک معاصر الحاد و دہریت نے اپنی دعوت یا اپنا کوئی ذاتی دعویٰ پیش نہیں کیا بلکہ اس کی مکمل بنیادیں رد کی نفسیات پر قائم ہیں یعنی اگر مذہب نہ ہو تو الحاد کا وجود بھی باقی نہیں رہتا دوسرے لفظوں میں الحاد کو اپنی وجود کیلیے مذہب کہ ضرورت ہے کہ جسے وہ رد کر سکے۔
آپ کسی ملحد سے دریافت کریں کہ بتاؤ تمہاری بنیادی دعوت اور بنیادی دعویٰ کیا ہے ؟ تو وہ کبھی سیکولرزم کے پیچھے چھپے گا ، کبھی ہیومنزم کی آڑ لے گا ، کبھی فیمینزم کے پردے میں ظاہر ہوگا ، کبھی سائنٹزم کی دعوت دے گا ، کبھی وہ عالمگیری ہوگا ، کبھی ٹوٹیلیٹرین ہوگا ، کبھی رومانٹسزم دکھائی دے گا تو کبھی پریگمیٹک بن جائے گا لیکن یہ سب اسے کسی نہ کسی درجے میں ایک کریٹیکل تھنکر کی سطح سے اورپر نہیں لےجا سکتے۔ الحاد و دہریت کی سرے سے کوئی اخلاقی ، فکری ، نظریاتی ، تہذیبی ، ثقافتی یہاں تک کہ کوئی علمی بنیادیں نہیں ہیں یہ کوئی مستقل تصور حیات بھی نہیں ہے اسی لیے یہ دھوکا ضرور دیتا ہے اور مختلف تصورات ضرور پیش کرتا ہے لیکن اس کی بنیادی دعوت سرے سے کچھ بھی نہیں۔ اپنی اسی غیر فطری اپروچ کی وجہ سے ہزاروں سال کے فکری ارتقاء کے باجود آج بھی الحاد و دہریت مذہب سے دس قدم پیچھےہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمیشہ رہیں گے۔
تبصرہ لکھیے