مدینہ کی فتح کا حال جب فخری پاشا تین سال تک اتحادیوں اور شریف فوجوں کے سامنے ڈٹا رہا لیکن اس نے ہتھیار نہ ڈالے اور اس سیاہ دن کا قصہ جب فرانسیسیوں نے استنبول پر قبضہ کرلیا ۔ تنویر واسطی نے [english] The Defence of Medina, 1916-19[/english] میں لکھا ہے کہ ”مدینہ میں ترک فوج کی سالاری فخرالدین پاشا کے پاس تھی، جسے تاریخ فخری پاشا اور اس کے عرب اتحادی اور برطانوی مخالف شیر صحرا [english] the Lion of the Desert [/english] کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مدینہ پر قبضہ کے لیے شریف مکہ کو تقریبا تین سال تک خون بہانا پڑا۔ برطانوی فوج فخر الدین پاشا کو تین سال تک مدینہ کا دفاع کرنے پر حیرت سے دیکھتی ہے “۔
اکتوبر ۱۹۱٦ء میں شریف مکہ کا بیٹا فیصل برطانوی فوج کی مدد سے شمال کی جانب سے مدینے پر حملہ آور ہوا۔ مشرقی سمت سے شریف حسین کے دوسرے بیٹے عبداللہ اور جنوبی سمت سے تیسرے بیٹے علی بن حسین نے مدینے کا محاصرہ کر لیا۔ جو تین سال تک جاری رہا ۔ ان کے ساتھ برطانوی اور فرانسیسی افسران اور فوج کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر فخر الدین پاشا نے نہ صرف مدینے کا دفاع کیا بلکہ حجاز ریلوے کو بھی آپریشنل حد تک محفوظ رکھا۔ مدینہ فتح کرنے کے لئے تین سال تک ہر ممکن کوشش کی گئی۔ ۱۹۱۷ء میں ۱۳۹ اور ۱۹۱۸ ء میں سو کے قریب بڑے حملے کئےگئے ۔ ۳۰اپریل ۱۹۱۸ء تک تین ہزار بم مدینے پر برسائے گئے، لیکن اتحادی فخری پاشا کو شکست دینے اور اس کے ساتھیوں حوصلے پست کرنے میں ناکام رہے۔ اہل مدینہ نے بھی فخری پاشا کا بھر پور ساتھ دیا . تیس اکتوبر ۱۹۱۸ء کو ترکی نے ہتھیار ڈالے اور ۱۱ نومبر ۱۹۱۸ء کو فرانس کے شہر کومپئین میں جرمنی نے بھی کومپئین معاہدے پر دستخط کر کے باقاعدہ شکست تسلیم کر لی ۔ ہنگری ، بلغاریہ اور آسٹریا پہلے ہی ہتھیار ڈال چکے تھے ۔
۱۱نومبر کو پہلی جنگ عظیم کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا ۔ لیکن فخری پاشا نے ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کر نے سے انکار کر دیا. اب پوری دنیا میں صرف فخری پاشا ہی وہ واحد شخص تھا جو اتحادیوں کے عزائم کے رستے کی رکاوٹ بنا ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا تھا۔ ۳۱ اکتوبر کو ترکی کےخلیفہ وحیدالدین محمد سادس نے فخر الدین پاشا کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا مگر فخر الدین پاشا نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور ۱۰ جنوری ۱۹۱۹ء تک بغیر کسی بیرونی مدد کے صرف تین ہزار سپاہئیوں کے ساتھ پچاس ہزار کے اتحادی لشکر کے خلاف ڈٹا رہا ۔ پیٹر ای فرانسس [english] Peters, Francis[/english] نے اپنی کتاب [english] Mecca: A Literary History of the Muslim Holy Land[/english] میں بیان کیا ہے کہ [english] He refused to hand over his sword even upon the receipt of a direct order from the Ottoman minister of war. The Ottoman government was upset at his behavior and the Sultan Mehmed VI dismissed him from his post. He refused to do so and kept the flag of the Ottoman Sultan flying in Medina until 72 days after the end of the war. He replied to an ultimatum from British General Reginald Wingate on 15 December 1918 with the words: “I am a Muhammadan. I am an Ottoman. I am the son of Bayer Bay. I am a soldier I will not surrender till my last breath [/english]
پیٹر نے مزید لکھا ہے کہ
اسلحے اور خوراک کی عدم دستیابی اور ترک گورنمنٹ کی مدد کے بغیر بھی وہ ڈٹا رہا ۔ جب فخری پاشا کے خلاف ہر طرح کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو حسین بن علی نے اس کے چند آدمیوں کو خرید لیا جنہوں نے سازش کر کے ۹ جنوری ۱۹۱۹ ء کو اسے گرفتار کیا اور حسین بن علی کے سامنے پیش کر دیا ۔
۱۳ جنوری ۱۹۱۹ء کو شریف مکہ کی فاتح افوج مدینے میں داخل ہوئیں اور انھوں نے 12 دن تک مدینے میں لوٹ مار کی۔ لیکن جانے سے پہلے فخری پاشا نے مدینہ کے میوزیم میں موجود تمام نوادرات ، صحابہ اور رسول اکرم صلعم کی تمام متبرکات کو ایک ٹرین پر لادا اور انھیں بحفاظت ترکی پہنچانے میں کامیاب ہو گیا جہاں وہ آج بھی توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہیں ۔ گرفتاری کے بعد فخری پاشا کو پہلے قاہرہ اور پھر مالٹا منتقل کیا گیا جہاں وہ ۱۹۲۱ء تک جنگی قیدی کی حثیت سے قید رہا ۔ رہائی کے بعد وہ واپس ترکی آیا اور کمال پاشا کی کمانڈ میں ترکی کی جنگ آزادی میں یونانیوں اور فرانسیسیوں کے خلاف لڑتا رہا ۔ اس کا انتقال ۲۲نومبر ۱۹۴۸ء میں اسکی شہر[english] Eskişehir[/english] میں ہوا ۔ اسے اس کی خواہش پر استنبول میں دفن کیا گیا ۔
فخری پاشا مرنے کے بعد بھی ترکوں کے لئے فخر کی علامت بن کر زندہ ہے اور عرب آج سو سال بعد بھی اس کی مزاحمت بہادری اور ان نوادرات اور متبرکات کی ترکی منتقلی بھولے نہیں ہیں اور اس کی مزاحمت بھی ایک کانٹے کی طرح عربوں کے دل میں بدستور چبھی ہے اس کا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب دسمبر ۲۰۱۷ء میں متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ عبد الله بن زايد النهيان نے فخر الدین پاشا پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے دورِ اقتدار میں مدینہ المنورہ میں اسلامی مصاحف ومتبرکات و نودرات کا سِرقہ (چوری ) کیا تھا۔.
تو ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اماراتی وزیرِ خارجہ النهيان کو جواب دیتے ہوئے پوچھا”کہ النھیان کو کس چیز نے خراب کیا؟ تیل کے پیسے نے اُسے خراب کیا ہے۔ بدتمیز آدمی ! جب میرے باپ دادا مدینہ المنوّرہ کا دفاع کر رہے تھے تو تمھارے باپ دادا کہاں غائب تھے؟ کس کے ساتھ کھڑے تھے ؟ پہلے تمھیں اس بات کا حساب دینا ہوگا۔ چند دن کے بعد ہی ترکی کی حکومت نے دار الحکومت انقرہ کی اس سڑک کا نام تبدیل کر کے اسے فخر الدین پاشا کے نام سے منسوب کر دیا ۔جس پر متحدہ عرب امارات کا سفارتخانہ واقع ہے ۔
سمجھوتہ مدروس
۳۰ اکتوبر ۱۹۱۸ ء کو یونان کے شہر مدروس پر لنگر انداز ایک بحری جہاز ایچ ایم ایس ایگمنین [english]HMS Agamemnon[/english] کے عرشے پر ترکوں اور برطانوی فوج کے درمیان عارضی جنگ بندی کے لئے ایک امن سمجھوتہ ہوا جسے تاریخ میں سمجھوتہ مدروس [english]Armistice of Mudros [/english]کہتے ہیں. اس میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے بحری امور کے وزیر رؤف بے کی زیر قیادت سہ رکنی وفد اور اتحادیوں کی طرف سے برطانوی ایڈمرل سمرسیٹ آرتھر گف-کالتھورپ کے درمیان شرائط طے پائیں۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے امن سمجھوتہ ایک عارضی معاہدہ ہوتا ہے جس کے نفاذ کے بعد مستقل امن کے لیے معاہدے کی شرائط طے کی جاتی ہیں اور ان کی باقاعدہ توثیق کی جاتی ہے اور فریقین کے دستخط ہوتے ہیں۔ لیکن اس سمجھوتے کے فوراً بعد اتحادی فوجوں نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ترک علاقوں پر قبضہ شروع کر دیا ۔ ۱۲ نومبر ۱۹۱۸ ء میں فرنچ فوجوں نے قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا ۔ ۸ فروری ۱۹۱۹ ء کے دن فرنچ جرنیل فرنچیٹ ڈی ایس پیری[english] Franchet d’ Esperey[/english] سفید گھوڑے پر سوار ہو کر رومانوس گیٹ سے بالکل اسی انداز میں فتح کے شادیانے بجاتا شہر میں داخل ہوا جیسے ۲۹ مئی ۱۴۵۳ء کے دن سلطان فاتح داخل ہوا تھا ۔ سلیمان نظیف ایک ترک شاعر اور CUP کا بڑا فعال ممبر تھا اس نے سیاہ دن[english] Dark Day “Kara Bir Gün[/english]کے نام سے لکھے اپنے ایک آرٹیکل میں بیان کرتا ہے کہ[english] The French general’s arrival to the city opened a wound in the hearts and in the history of Turks and Muslims—a wound that continues to bleed today[/english] گو کہ فرنچ تاریخ دان ایڈم ایلڈم [english]Edhem Eldem[/english] نے اپنی کتاب میں اس کو ایک من گھڑت واقعہ قرار دیا ہے لیکن زیادہ تر ترک تاریخ نویس اس کو پوری شدومد سے بیان کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ترک جریدے نے فرنچ جرنیل کی وہ فوٹو بھی اپنے شمارے میں شئیر کی ہے جس میں اسے گھوڑے پر سوار شہر میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگلے ہی دن برطانوی فوجیں بھی شہر میں داخل ہو گئیں اور اٹلی کی افواج نے گلاٹا پر قبضہ کر لیا ۔ قسطنطنیہ پر اتحادیوں کا قبضہ ۱۹۲۳ء تک قائم رہا ۔ یونان نے بھی اس بند ربانٹ سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے بلقان کا بیشتر علاقہ ہتھیا لیا ۔ جنوری ۱۹۱۹ء میں عثمانی فوجوں نے باقاعدہ طور پر شکست تسلیم کر لی اور ہتھیار ڈال دیے ۔
یہ سمجھوتہ انتہائی ظالمانہ اور یک طرفہ تھا ۔ سلطنت عثمانیہ کے سوا باقی دیگر محوری طاقتوں (جرمن) کے ساتھ طے کیے جانے والے معاہدوں کا نفاذ تقریباً مکمل طور پر ہوا اور ان پر دیانتداری سے عمل درآمد بھی کیا گیا ۔ لیکن سمجھوتہ مدروس کی شرائط انتہائی سخت و ظالمانہ تھیں۔اور اتحادیوں نے پہلے دن سے ہی ترکوں کے خلاف اس کی خلاف ورزی شروع کر دی تھی ۔ اسی وجہ سے اس سمجھوتے کے فوراً بعد مصطفٰی کمال پاشاکی زیر قیادت ترکی کی جنگ آزادی شروع ہو گئی اور یوں اس کا نفاذ عارضی ثابت ہوا ۔ اور یہ محض کاغذ کا ٹکڑا ہی رہا اور اس سمجھوتے کی معاہدہ بننے کی نوبت ہی نہ آئی ۔
(جاری ہے )
(یہ مضمون میری نئی آنے والی کتاب “ اہل وفا کی بستی “ کا حصہ ہے جو فلسطین اور اسرائیل کے سفر کی یاد داشتوں پر مشتمل ہے)



تبصرہ لکھیے