ہوم << مولوی بیزاریت۔ الطاف جمیل شاہ

مولوی بیزاریت۔ الطاف جمیل شاہ

( مولوی بیزاریت کا بڑھتا ناسور اور اس کے اسباب پر چند باتیں عرض ہیں ممکن ہے آپ اس سے اختلاف کریں لیکن امید ہے اصلاح کے لئے آپ اپنے خیالات سے آگاہ کریں گے. )

معاشرے میں پھیلے تعفن و بدبودار افکار جڑ پکڑتے جارہے ہیں. تہذیب و شائستگی کا جنازہ اٹھایا جارہا ہے. پوری قوم علمی ادبی ذوق سے یکسر لاتعلق ہوتی جارہی ہے . علوم اسلامیہ سسک رہے ہیں، قلب و جگر پھٹا جارہا ہے یہ سب دیکھ کرب، کہ اہل ایمان کے قافلے کے مسافر دن بہ دن قافلے سے بکھرتے جارہے ہیں.

اسلام جیسے ہمارے ہاں اک انجان سی تہذیبی و سماجی افکار کا نام رہ گیا ہے. ہمارے پاس علاج و معالجہ کے لئے ہر دن نت نئے حکیم و دانشور آتے جارہے ہیں جو مرض کی دوا تو نہیں پر امراض کا حجم بڑھا رہے ہیں. اور پوری قوت سے اپنے جدید افکار و نظریات کو اسلامی کہہ کر قوم پر مسلط کر رہے ہیں. اس تہذیبی جارحیت میں سب سے زیادہ تختہ مشق جو بن رہا ہے وہ بیچارہ مولوی ہے ، ٹوپی داڑھی شرعی وضع قطع بنائے رکھے. اس مخلوق کا جو حال ہمارے معاشرے نے کردیا ہے. اب صورت یہ بنتی جارہی ہے کہ مولوی نام سے دسیوں لطیفے معاشرے کے افراد کے ذہن میں آجاتے ہیں اور ان لطیفوں کے بیان کرنے کو ہر کوئی کار ثواب سمجھتا ہے. اس پر قہقہے بھی لگائے جاتے ہیں یہ ایک دلدوز حادثہ ہوا ہے کہ اہل ایمان کی قبیل کے بہت سے لوگ اس نفرت و کدورت کو ہوا دینے میں ایستادہ ہے. سو اس ماحول کے اسباب و علل کیا ہیں، آئے سمجھتے ہیں .

۱.مولوی کی غلطی
۲ .مولوی بیزاریت کے اسباب
۳۔ اسلامی تعلیمات سے بے خبری
۴۔ حب نبوی ﷺ سے محرومی
۵۔ مسلک پرستی
۶۔ جدیدت سے انسیت
۷۔ اسلام دشمن عناصر کا پروپیگنڈہ
۹. ذاتی عناد

پہلی بات مولوی حضرات سے ہی شروع کرتے ہیں. چند باتیں ایسی ہیں جو سبب ہوئیں، کہ عوام الناس کو اس نفرت میں نیکی دکھائی دی جو مولوی طبقہ کے خلاف عام کی جارہی ہے .جیسے مولوی حضرات میں ایک مخصوص قسم کی انانیت پروان چڑھ رہی ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو دین مبین کے خادمین ہیں. اس لئے بقیہ لوگوں سے ہم معزز و محترم ہیں سو یہ انداز ہی غلط ہے. عزت تو اللہ تعالٰی کی ذات کے لئے ہے اور انبیاء و مؤمنین کے لئے سو آپ خادم بنیں گے تو عوام میں آپ کی عزت ازخود بڑھے گی، آپ بااخلاق و باکردار ہوجائیں سادگی و پاکیزہ طبیعت کو لازم پکڑیں خود میں ایسی صفات پیدا کریں کہ آپ یکتا دیکھائی دیں.

ان صفات میں سوچنا کیا ہے نبوی ﷺ طرز زندگی کو لازم پکڑیں ۔ عوام میں گھل مل جائیں، ہمدردی الفت و محبت کو لازمی جز بنائیں اپنی زندگی میں، لوگوں سے حسن اخلاق و حسن ظن کے ساتھ وابستہ رہیں، ایسا نہ ہو کہ آپ خودنمائی کے فریب میں پڑھ کر اکیلے ہوجائیں اور پریشانیوں میں پھر آپ کے کوئی کام نہ آئے. معاشرے سماج کے مسائل کو سمجھیں اور ان پر بات کریں نرم مزاجی کے ساتھ تبلیغی فریضہ انجام دیں .اور مسنون عمل کو اختیار کرتے ہوئے ہر دن خوب دعائیں مانگیں کہ مولا آپ کے داعیانہ کردار و گفتار کو عوام میں مقبول بنائے، سو باتوں کی ایک ہی بات کہ خود کو اللہ کے سپرد کریں اور ڈٹ جائیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ کے میدان میں اللہ تعالٰی آپ کے لئے کافی ہوگا . اگر اللہ تعالٰی آپ سے کام لے رہا ہے تو شکر کریں اللہ کا، کہ آپ سے کام لے رہا ہے ورنہ پتہ نہیں گمراہی کی کس دلدل میں پڑے ہوتے .

اب چلیں چند باتیں اور کرتے ہیں. اول مولوی بیزاریت کا جو رجحان غالب ہوتا جارہا ہے اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ ایسے بھی ہیں جو اصل میں اسلام سے بیزار ہیں. اب گر وہ سیدھا اسلام پر طعن زنی کرتے تو عوام ان سے خائف ہوتی سو انہیں آسان سی راہ ملی کہ چلیں مولوی بیزاریت کو عوام میں مقبول کرتے ہیں.اسلام کی تعلیمات سے خود بہ خود ہمیں نجات ملے گی سو اب اکثر کہا جاتا ہے ، نماز کیوں نہیں پڑھتے، داڑھی کیوں نہیں، یا اسلامی وضع قطع کیوں نہیں تو ایسے لوگ ایک ہی جواب دیں گے میں تھوڑی ہی مولوی ہوں جو ایسا کروں. ایک طبقہ ایسا ہے کہ جسے اسلامی تعلیمات سے واقفیت نہیں ہے ، ان کی تربیت بھی اسلامی نہیں ہوئی ہے.

صالح ماحول بھی میسر نہیں آیا سو یہ بیچارے فریب کھا گے ہیں انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ مولوی سے بیزاریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ دین سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں. ایسے لوگوں کو جب ان خیالات کے ساتھ موجودہ زمانے کے کسی متشدد قسم کے دین دار سے واسطہ پڑھتا ہے وہ پوری قوت سے ان کے خیالات کو مسترد کرتا ہے اور ان بیچاروں کو اسلام دشمن کہہ کر مزید وسیع خلیج بنالیتا ہے. یہ علماء و فضلاء کی محبت و شفقت کے مستحق ہیں انہیں خوب سمجھائیں محبت و شفقت سے ان کے ذہن خود بہ خود آپ کو قبول کریں گئے خام ہیں پر اسلام سے انہیں محبت ہے.بس انہیں رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے .

حب نبوی ﷺ اسلامی تعلیمات کا جزو لازم ہے اس سے بے خبری یا لاتعلقی ہمارے معاشرے کا اب سب سے بڑا ناسور بنتا جارہا ہے. حب نبوی ﷺ کی جہات کو بیان کیا جانا آج سب سے بڑا فریضہ ہے. ہمارے ہاں ایک مصیبت یہ بھی ہوئی کہ توحید و شرک کو بیان کرتے ہوئے ہم نے توازن کھو دیا اور توحید و شرک کی تبلیغ اس انداز میں ہوئی کہ حب نبوی ﷺ کا جنازہ اٹھ گیا .ہمارے وہ پرانے بزرگ انپڑھ عوام محبت و عقیدت کا ایک جذبہ دلوں میں بسائے ہوئے تھے یہی سبب تھا کہ وہ مقدور بھر معلومات کے ساتھ دین مبین سے وابستہ تھے. اور موجودہ نسل حب نبوی ﷺ سے بے خبر ہے.

سو نتیجہ یہی کہ اب پوری نسل تہذیبی و سماجی زوال کی شکار ہوتی جارہی ہے اور جب نسل نو کو اپنے نبی ﷺ کے بارے میں صحیح معلومات ہی نہیں ہیں تو یہ توقع کیسے کی جائے کہ وہ مولوی بیزاریت سے بچیں گے. اس لئے سب سے اہم فریضہ یہی ہے کہ نسل نو کو اپنے نبی ﷺ کے سیرت، کردار ، گفتار ، داعیانہ اوصاف، شفقت و ہمدردی، قربانیوں کا اسباق ازبر کرائے جائیں تو امید رکھیں۔ کہ صبح اسلامی تعلیمات کی روشنیوں سے منور ہوگئی.مسلک پرستی میں مسلک و منہج کے مخالف نہیں لیکن مسلکی تشدد کا بھی قائل نہیں ہوں آپ کو اختیار کے کہ قران و سنت کی روشنی میں آپ کیسے زندگی گزارتے ہیں.

موجودہ دور میں مخالفین سے اس قدر اسلام مخالف پروپیگنڈہ کامیاب نہیں ہوا ،جتنا مسلکی منافرتوں کے سبب یہ عوام میں عام ہوا اور مولوی بیزاریت کاایک بہت بڑا محرک بھی یہی ہے کہ مسلکی جنگ مسلکی مناظرے اس شدت سے انجام دیے گئے کہ اصل کام ہی غائب ہوگیا .صورت حال ایسی بنی کہ ایک مسلک والے دوسرے مسلک والے سے بغض و عناد نفرت کی ہر حد سے گزر گئے. سو دین بیزاری سے لیکر مولوی بیزاریت کا عوام میں یہ بھی ایک سبب ہوا لوگ آئے روز کی ہنگامہ آرائی سے بیزار ہوگے اور ان مسلکی غازیوں کی رسہ کشی کو ہی عین اسلام سمجھ کر اسلام سے ہی بیزار ہوگی. اس سلسلے میں یہاں کی تمام جماعتوں کے پاس غازیوں کی کافی مقدار ہے جو خوب داد و تحسین وصول کرنے کے لئے کسی کی بھی کسی بھی وقت عزت و وقار کو داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔

یہ ایسے غازی ہیں کہ اپنے مخالف کو کسی بھی انداز میں یہ لوگ رسوا کرنا عین اسلام سمجھتے ہیں. اور اس قدر سطحی اور اخلاقیات سے عاری گفتگو کرتے ہیں کہ کسی بھی مہذب انسان کو اس گفتگو سے گن آیے گی. اپنے بڑے بزرگوں سے منسوب ہر اچھی یا بری بات کا دفاع کرنا یہ اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں .مزاحیہ انداز میں بھی یہ حضرات واہیات کو اگل دیتے ہیں اور ان کے کچھ متبعین اس مزاح کو بھی واہ واہ کیا بات ہے حضرت کہہ کر اکسیر سمجھتے ہیں ایمان کے لئے ، غیر سنجیدہ گفتگو بھی ان کا طرہ امتیاز ہے، ایسے غازیوں سے کوئی اسلام کو سمجھے نہ سمجھے پر ایک بڑا طبقہ بیزار ہوکر رہ جاتا ہے.

ان سے بھی اور ان کے مسلکی مناقشے کے ساتھ ان کے اکابرین سے بھی اور پھر کوئی جدیدت کا مارا اور لاعلم انسان گر ان سے تھوڑی سی شائستہ اور مہذب گفتگو اور مسلک بیزاری پر بات کرتا ہے تو عوام لاعلم ہونے کے سبب انہیں کو اسلام کا اصل مبلغ جان کر انہیں سے منسلک ہوجاتے ہیں. اور یوں پاکیزہ افکار و نظریات کی سطح سے پرے ہوکر کسی نئی گمراہی کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں. کاش ہم اس جانب توجہ دیتے کہ یہ سب بڑا خبیث سبب ہے مولوی بیزاریت کا کیوں کہ عوام انہیں غیر سنجیدہ لوگوں کو اصل مولوی سمجھ لیتے ہیں .جدید افکار و نظریات کے دلدادہ اس جدیت کی چکا چوند میں کھو جانے والے اسی جدیت کو فلاح و کامرانی کا زینہ تصور کرکے جینے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں.

اب جب کوئی مولوی نما مخلوق ان کی اس جدیدیت کی خباثتیں بتاتا ہے تو سیدھی سی بات ہے یہ طبقہ مخالف ہوجاتا ہے ان کے نزدیک کل اسلام چند مخصوص عبادات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے . اسلام دشمن قوتیں آج ہی اسلام کے خلاف کھڑی نہیں ہوئی ہیں بلکہ زمانہ قدیم سے ہی ان کی کوششوں کا محور یہی رہا ہے کہ اسلامی نظام کے مخالف رہا جائے. اور اسلامی تعلیمات سے بیزاریت پیدا کرنے کے لئے یہ ہر کوشش کرتے ہیں اس کے لئے ہر حربہ بروئے کار لانا یہ اپنا حق سمجھتے ہیں. اس سلسلے میں وہ کسی بھی پلیٹ فارم سے مختلف شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں، مختلف معزز و محترم شخصیات کی کردار کشی کرتے ہیں، اسلامی تعلیمات سے کچھ باتیں نکال کر انہیں حدف تنقید بتاتے ہیں.

اسلام کے مختلف افکار و نظریات کو یہ انسان مخالف بتا کر لوگوں میں ایسے افکار و نظریات کے خلاف ہمدردیاں بٹورتے ہیں. یہاں بھی گر کوئی عالم سامنے آیا تو وہ اسی کو اس کا محرک بتا کر اسی کے خلاف عوام کو کرنے کی سعی کرتے ہیں. اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ بظاہر مسلمان شخص بھی اسلام کے ان افکار و نظریات پر نقد کرتا ہے . آخری بات ... ہمارے ہاں اب یہ بھی رواج بنتا جارہا ہے کہ آپ کو کسی مولوی سے ذاتی عناد ہے تو بھی پوری مولوی برادری کو برا بھلا کہنا آپ عین اپنا حق ذاتی سمجھ کر اس حق کو کسی بھی جگہ استعمال کرتے ہیں. یہ ایک ایسا سبب ہے کہ ہماری مساجد بھی اس مصیبت سے خالی نہیں ہیں کہ کسی شخص کو گر تھوڑا سا ہی گلہ ہے مولوی سے ، یا وہ کسی غلط فہمی کے سبب مولوی سے خائف ہے.

بجائے غلط فہمی کو دور کیا جاتا ،وہ پوری شدت سے مولوی بیزاریت کا مظاہرہ کرتا ہے اور خود کو ہی حرف آخر سمجھ کر مولوی کو مطعون کرنا بہادری سمجھ لیتا ہے. یہ ایسا سماجی فتنہ ہے کہ الا ماشاء اللہ کوئی بستی اس خباثت سے اب محفوظ ہو کہ جہاں کوئی ایسا شخص نہ ہو جو مولوی بیزاریت کا عملی مظہر نہ بنا ہوا ہو .اور لوگ اس کی ہفوات میں ہاں ہاں ملا کر ایسے شخص کو مزید تقویت پہنچاتے ہیں. میرے بہت ہی پیارے اور محسن بھائی محسن خان صاحب نے مولوی بیزاریت پر ایک خوبصورت کتابچہ لکھا ہے جس میں اس موضوع پر مفصل و مدلل گفتگو کی گی ہے اہل ذوق سے التماس ہے کہ بھائی محسن خان صاحب کا مذکورہ کتابچہ حاصل کریں اور اس کا مطالعہ کریں میری یہ چند باتیں لکھنے کا اصل محرک یہی کتابچہ ہے .