600x314

الفاظ – ثمینہ سید

[poetry]کچھ اور بھی تھا تلخ بیانی کے علاوہ
تم اور ہی کچھ سمجھے معانی کے علاوہ

کچھ بھی تو نہ تھا چرب زبانی کے علاوہ
کچھ اور ہی سمجھی میں کہانی کے علاوہ

تم دُکھ ہی سمجھنے سے ہو قاصر تو کہوں کیا
آنکھوں میں مرے کچھ نہیں پانی کے علاوہ

یاد آتا ہے ره رہ کے تیرے عشق کا وعدہ
اب کچھ بھی نہیں یاد دہانی کے علاوہ

تم سے ہی نہ لگ پائی گرہ مصرع میں ورنہ
ازبر مجھے اُولیٰ بھی ہے ثانی کے علاوہ

اپنے ہیں مرے دوست ہیں یا صرف منافق
جو بھی ہیں وہ ہیں دشمنِ جانی کے علاوہ

اس دور میں ہر سانس کی قیمت ہے چکانی
اخلاق ہی سستا ہے گرانی کے علاوہ

میعاد تکبر کی زیادہ نہیں ہوتی
جینا ہے تجھے اور جوانی کے علاوہ

گھر ہے تو ضرورت کی ہر اک شئے ہو ثمینہ
کچھ چیزیں نئی رکھ لو پرانی کے علاوہ[/poetry]

مصنف کے بارے میں

ثمینہ سید

ثمینہ سید کا تعلق بابا فرید الدین گنج شکر کی نگری پاکپتن سے ہے۔ شاعرہ، کہانی کار، صداکار اور افسانہ نگار ہیں۔ افسانوں پر مشتمل تین کتب ردائے محبت، کہانی سفر میں اور زن زندگی، اور دو شعری مجموعے ہجر کے بہاؤ میں، سامنے مات ہے کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ رات نوں ڈکو کے عنوان سے پنجابی کہانیوں کی کتاب شائع ہوئی ہے۔ مضامین کی کتاب اور ناول زیر طبع ہیں۔ پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ریڈیو کےلیے ڈرامہ لکھتی، اور شاعری و افسانے ریکارڈ کرواتی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment