ہوم << اللہ کے احکام اور ہمارے عزر‎‎ - شاہنواز شریف

اللہ کے احکام اور ہمارے عزر‎‎ - شاہنواز شریف

16دسمبر کے حوالے سے بہت سے مدبرین نے لکھا اور کہا بلکہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور مواصلاتی نظام میں جدت آرہی ہے سوشل میڈیا پروان چڑھ رہا ہے ویسے ہی 16دسمبر کے حوالے سے حقائق بھی بدلتے جارہے ہیں۔

اور چونکہ اب دنیا گلوبل ولیج ہے تو ہمارے سابقہ مشرقی پاکستان کے بھائیوں کی آراء بھی سامنے آتی ہیں اور المیہ تو یہ ہے کہ سابقہ مغربی پاکستان کے لوگ بھی تاریخی حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔سانحہ مشرقی پاکستان کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے وجود پاکستان اور تکمیل پاکستان کے فلسفے کو سمجھنا ہوگا، دو قومی نظریہ کو دیکھنا ہوگا، علیحدہ وطن کے مطالبے کی وجہ کیا تھی اور صدیوں سے ساتھ رہنے والوں کی سوچ کیوں بدلی یہ دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم قرآن میں موجود بہت مشہور آیت

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (51)}[المائدة: 51]

ترجمہ:” اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک ان ہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔

یعنی یہ صاف امر واقع ہے کہ غیر مسلم کبھی مسلمان کے دوست خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتے الا یہ کہ وہ اسلام قبول کرلیں
اور ہوا بھی یہی اگر ہم ہندوستان کی ہزار سال کی تاریخ اٹھا لیں تو پتہ چلے گا کہ ہندوؤں کہ نزدیک مسلمان ان کے دشمن رہے اور یہ دشمنی سالوں سے بڑھتی ہی چلے جارہی ہے اور اسکا اندازہ اس وقت بھی ہوا جب انگریز سامراجی قوت سے ہندوستان کے مسلمان و ہندو نبردآزما تھے لیکن ہندوؤں نے صرف اپنے مفاد کے لئے اس جدودجہد میں کام کرا اور مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرنے لگے جب مسلمانوں کے عظیم لیڈران نے آگے بڑھ کے مسلم لیگ کی صورت میں اپنی جدوجہد کو تقویت دی اور یہاں یہ ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ اس جدوجہد میں سرفہرست بنگال کے لوگ اور لیڈران تھے۔

ہمارے اسلاف کی بے پناہ قربانیوں، دوراندیش اور زیرک لیڈران کی محنت کہ اللہ نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت سے نوازا لیکن یہاں بھی وہی ہندوؤں اور انگریزوں کی مسلمانوں سے ابدی دشمنی کہ پاکستان میں شامل ہونے والے کئی مسلم اکثریتی علاقوں کو بھارت کو حصہ بنا دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت رونما ہوئی اور مسلمان یوپی، گورداسپور، فیروزپور اور ہندوستان کے تمام ہی علاقوں سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور کشمیر کا معاملہ تو ہمارے سامنے ہے ہی کہ کس طرح سنہ 48 میں اس کا کچھ حصہ لیا گیا اور بقول محترم محمد علی جناح صاحب کے پاکستان کی شہہ رگ کشمیر کا زیادہ حصہ تاحال ہندوؤں کے ظلم کا شکار ہے اسی طرح مشرقی پاکستان جو کہ بنگال پر مشتمل تھا وہ اپنی جغرافیائی حدود کی وجہ سے مغربی پاکستان سے کوسوں دور تھا ۔

اس حقیقت کو بھانتے ہوئے ہندوؤں کی مسلمانوں سے ازلی دشمنی ایک بار پھر اجاگر ہوئ اور ایک بار پھر سنہ 48 اور سنہ 65 کی شرمندگی کو مٹانے کے لئے ہندو بنیےپھر سرگرم ہوئے جیسا کہ پاکستان کا وجود مشرک اقوام عالم کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور اسی بنا پر بھارت اور دوسری عالمی قوتیں ہمیشہ پاکستان کو ڈی اسٹیبلائزڈ کرنے میں لگے رہتے ہیں اسی طرح سنہ 58 سے بھارت نے اپنی تخریبی سرگرمیاں نہ صرف مغربی بلکہ مشرقی پاکستان میں بھی شروع کردیں اور ان کاروائیوں کا اصل مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا تھا تاکہ پاکستان اندرونی خلفشار کا شکار رہے۔

اور ترقی نہ کرسکے اور بلاخر محترم قائد کا فرمان کہ پاکستان زمین کا ایسا ٹکڑا ہے جہاں ہم اسلام کے مطابق کام کریں گے کو سبوتاژ کرکے دنیا میں اسلام کو بدنام کیا جاسکے اور اپنی سرحدوں کو بھی محفوظ بنایا جاسکے۔اس خطرناک اور ظالمانہ منصوبے کے لئے آسان ہدف زبان تھی اور اسی لئے بھارت نے مشرقی پاکستان میں موجود ہندوؤں کے ذریعے بنگلہ زبان میں لٹریچر بھیجنا شروع کردیا اور یہاں سے مشرقی پاکستان کے بنگلہ بولنے والے ہندو اور مسلمانوں کو زبان کی بناء پر ایک ہونے کی اور مغربی پاکستان میں دیگر زبانیں بولنے والوں کو ان سے الگ ہونے کی ترویج دی جانے لگی۔

ان تمام کاموں کو مغربی پاکستان کے سیاسی قیادت نے اپنے اقدامات سے اور ہوا دی۔ اس وقت موجود مغربی و مشرقی پاکستان کے مخلص لوگوں نے بہت کوشش کی کہ اس خطرناک سازش کو ختم کیا جاسکے اور اس کے لئے انہوں نے نہ صرف دونوں طرف کی عوام کو بلکہ ارباب اقتدار کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلائ اور اس کی پاداش میں آج بھی بہت سے غیور لیڈران سابقہ مشرقی پاکستان میں پابند سلاسل ہیں اور قیدوبند کے ساتھ ساتھ تختہ دار پر بھی چڑھ رہے ہیں اور سابقہ مغربی پاکستان میں آج تک انہیں اقتدار سے دور رکھا جاتا ہے کہ کہیں یہ پاکستان سے مخلص لوگ اقتدار میں آکر مقصد پاکستان کے لئے کوشاں نہ ہوجائیں اور دنیا میں ان کا بول بالا ہوجائے۔ انہی مقاصد کی تکمیل کے لئے سابقہ مغربی پاکستان تنزلی کی طرف گامزن ہے اور اس کے لئے ہندو بنیا اپنی دولت کی بے پناہ طاقت استعمال کر رہا ہے۔

اسطرح سابقہ مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کرنے کے لئے ہر ہر ہر نہ استعمال کیا گیا- یوں تو ان ظالمانہ اقدامات کی تفصیل کئی کتابوں اور کئی غیر جاندار مؤرخین نے درج کئے ہیں لیکن تاریخ کی کتابوں میں بہترین کتاب البدر میں کئی ایسے اقدامات نظر آتے ہیں جس میں پاکستان کو ختم کرنے کے لئے اور مغربی پاکستان کے لوگوں کو اور خاص کر پاکستانی افواج کو بدنام کرنے کے لئے بھارتی اور بنگالی لوگ پاکستانی فوج کی وردی پہنے گھناؤنی حرکات کرتے تاکہ عام لوگوں کی نظر میں ان کی کردار کشی ہو اور لوگوں کے دلوں میں کدورتیں بڑھیں اور سونے پہ سہاگا حق تلفی اور اقرباء پروری نے کیا۔

اور یوں مشرقی و مغربی پاکستان دو لخت ہوگئے دو بھائی الگ ہوگئے ایک گھر میں دیوار ہوگئی لیکن اس بٹوارے سے ہم مسلمانوں نے کچھ نہیں سیکھا آج بھی ہمارے بنگالی مسلمان بھائی سمجھتے ہیں کہ ان کا استحصال کیا جاتا تھا اور وہ اب بہت خوشحال ہیں اور اسی طرح مغربی پاکستان کے مسلمان سمجھتے ہیں کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے لوگ غدار تھے اور انہوں نے بھارت سے ملک کر پاکستان کو دو لخت کیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف اور صرف پاکستان کا وجود ختم کرنے کے لئے تھا۔

مشرقی پاکستان کو الگ کرکے اس کے ترقیوں کی منازل پر لے جانا اس بات کی طرف مبذول کرانا ہے کہ بھارت اور مشرکین سے مل کر اسلام پسندوں کے خلاف اقدامات کرکے ہر شخص اور ہر ملک خوش رہ سکتا ہے ترقی کرسکتا ہے اور دوسری طرف پاکستان جس کی عوام اسلام پر لئے جانے والے ملک کے لئے اسلام کے لئے اپنی سے کی گنا بڑے ملک سے ہر وقت لڑنے کو تیار رہتے ہیں. سیاستدانوں اور مقتدر افراد کی کرپشن اور اقرباء پروری کے باعث معاشی ابتری کے باوجود اب بھی اگر بھارت اور مشرکین سے بنردآزما ہونے کی بات کی جائے تو یہ غریب عوام اپنا تن من دھن نچھاور کرنے کو تیار ہوجاتا ہے.

اللہ ہمیں ان مشرکین کے شر سے بچائے اور دونوں مسلم بھائیوں کو اور ترقی دے اور پاکستان کو بھی ترقی دے اور غداروں سے بچائے تاکہ سابقہ مشرقی و مغربی پاکستان دنیا میں اسلام کا نام روشن کریں

کیونکہ

چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا

مسلم ہے ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

Comments

Click here to post a comment