ہوم << ہم خود کرپٹ ہیں - محمد تنویر اعوان

ہم خود کرپٹ ہیں - محمد تنویر اعوان

تنویر اعوان کچھ روز قبل ایک کام کے سلسلے میں صدر جانا ہوا۔ عموماً جب صدر جانا ہوتا ہے تو آگرہ تاج سے میراناکہ اور وہاں سے لی مارکیٹ اور پھر حاجی کیمپ سے ہوتے ہوئے جامعہ اردو اور سیدھا ایم اے جناح روڈ پر آ نکلتے ہیں، کیونکہ آئی سی کے پُل پر گُڈز ٹرانسپورٹ کی شیطان کی آنت کی طرح طویل قطار سے گزرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔اس روز شومی قسمت کہ شارٹ کٹ کے چکر میں گُل بائی سے سیدھا نکل آئے۔ گُڈزٹرانسپورٹ کے بےہنگم جم غفیر اور کڑکتی چمکتی دھوپ کی شدت نے بے حال کردیا۔ اللہ اللہ کر کے وہاں سے نکلے تو ٹاور پر ٹریفک پولیس کے شیر دل سپاہی نے روک لیا اور بائیک سائیڈ پر لگانے کا کہا۔ ہم چونکہ انتہا کے قانون پسند ٹھہرے، بائیک بعد میں چلانی سیکھی، پہلے لائسنس بنوایاتھا، کاغذات بھی موجود تھے اس لیے بائیک سائیڈ پر لگائی اور انتہائی اطمینان سے ڈاکومنٹس اور لائسنس سپاہی کو دیے۔
ڈاکومنٹس اور لائسنس دیکھنے کے بعد صاحب بہادر نے درشت لہجے میں سوال پوچھا یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا سر لائسنس اور کاغذات ہیں۔ بولے وہ تو مجھے بھی پتا ہے لیکن یہ تو ڈپلیکیٹ ہے، اوریجنل کہاں ہے۔ پہلے تو میں نے سرکجھایا اور پھر مسکرا کر کہا کہ سر جی اوریجنل گھر پر ہے، ڈپلیکیٹ اس لیے رکھی ہے کہ کراچی کے حالات آپ کے سامنے ہیں، کب کیا چھن جائے کون جانے؟ صاحب بہادر نے کہا کہ یہ قابل قبول نہیں، چلان کٹے گا۔ اوریجنل دو۔ چونکہ ہم نئی نئی بائیک سیکھے ہیں اور ان چالاکیوں سے بےخبر تھے، جھٹ سے اوریجنل شناختی کارڈ نکالا اور بڑے فخر سے صاحب بہادر کو تھما دیا۔ انھوں نے شناختی کارڈکو الٹ پلٹ کر دیکھا اورپھر اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے فرمایا۔ تمہارا چالان ہوگا، یہ لائسنس قابل قبول نہیں۔ اسی دوران اشرف نامی ایک اور ٹریفک اہلکار نمودار ہوا تو موصوف نے کہا ان کا چالان کرو۔ میں نے تقریباًچیختے ہوئے کہا کہ کس چیز کا چالان؟ جواب ملا کہ تمہارا لائسنس اوریجنل نہیں ہے۔ اب میں نے کہا کاٹو چالان، میں سامنے سڑک پر بیٹھوں گا جو کرنا ہے کرلینا۔ دونوں نے کن اکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور اشرف صاحب نے بائیک کی نمبر پلیٹ دیکھ کر خوشی سے چیختے ہوئے کہا کہ تمہاری نمبر پلیٹ فینسی ہے۔ شرافت سے چالان کٹوا لو ورنہ نمبر پلیٹ بھی ضبط ہوگی اور چالان بھی الگ سے ہوگا۔ میں نے کہا کہ جناب والا یہ نمبر پلیٹ فینسی نہیں اس پر ڈیزائننگ کے لیے اسٹیکر وغیرہ چپساں ہیں، خود چیک کرلیں لیکن وہ مصر تھے کہ یہ فینسی ہے، قانوناً جرم ہے۔
جب کوئی چارہ نا رہا تو میں نے کہا کہ میں ایک اخبار میں کام کرتا ہوں، اگر چالان کاٹا تو اچھا نہیں ہوگا۔ پھر کیا تھا، دونوں سٹپٹائے اور ایک ساتھ بولے ہمیں دھمکی دے رہے ہو، جو کرنا ہے کرلینا، ہم نمبر پلیٹ ضبط کر رہے ہیں، تم نے ہیلمٹ بھی نہیں پہنا ہواتھا، تمہاری بائیک کی ہیڈ لائٹس بھی صحیح نہیں، اینڈیکیٹر میں بھی مسئلہ ہے، الغرض دو سو مسئلے بتادیے۔ بائیک کے اتنے سارے مسئلے تو مجھے بھی پتا نہ تھے۔ بالآخر میں نے کہا کہ چالان کاٹنا ہی ہے تو سب سے کم والا کاٹیں تو جناب اشرف صاحب نے 150روپے کا چالان کاٹا وہ بھی ہیلٹ نہ ہونے کا جبکہ میرے پاس ہیلمٹ موجود تھا۔
دیکھیے!
مسئلہ یہ نہیں کہ کرپشن کون کررہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن کن وجوہات کی بنا پر ہو رہی ہے۔ وجہ ہم خود فراہم کرتے ہیں، ہم خود کرپٹ ہیں، ہر ہر شعبے میں ہماری کمی کوتاہی کا نتیجہ کرپشن کا موجب ہوتا ہے۔اگر ہم خود صحیح ہوں، قانون کی پاسداری کریں، دوسروں کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں توکوئی رشوت نہیں لے سکتا، کوئی چالان نہیں کاٹ سکتا، اور یہ ملک صحیح سمت پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ہم بجلی چوری نہ کریں تو لوڈشیڈنگ ختم ہوسکتی ہے، ہم جرائم سے کنارہ کش ہوجائیں تو رشوت اور پولیس گردی کا خاتمہ ہوجائےگا۔ ہم ناپ تول میں کمی کرنی چھوڑ دیں تو معاشرہ ایماندارہوجائے گا۔ ہم ووٹ کا صحیح استعمال کریں، صاف شفاف لوگوں کو ایوان حکومت تک پہنچائیں تو نظام صحیح ہوجائے گا۔ اصل سوال یہی ہے کہ ہم کب ٹھیک ہوں گے؟ اور کب صحیح سمت میں سفر کا آغاز کریں گے، ہم کب اپنے لیے اور ملک کے لیے سوچیں گے؟یہ ہم بھی نا ! بس باتیں ہی کرتے ہیں۔
( محمد تنویر اعوان جامعہ اردو کراچی میں بین الاقوامی تعلقات کے طالب علم ہیں)

Comments

Click here to post a comment