مستحکم معاشرہ - عائشہ عبدالواسع

لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کرتم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے سورہ نساء آیت نمبر1

اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا ہی اس لئے کیا کہ دیکھیں کہ تم میں سے نیک اعمال کون کرتا ہے نیک اعمال میں وہ عورت اور مرد شامل ہیںں جو مضبوط خاندان کو جنم دیتے ہیں اور مضبوط خاندان ہی دراصل مستحکم معاشرہ ے کی بنیاد ے۔ہمارے یہاں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں جو فرد کےاپنے پیدا کردہ ہیں مثلا ایک لڑکی شادی ہوکر اپنے سسرال جاتی ہے تو ماں اسکو یہ پیغام دیتی کہ تم اور صرف تمھارا شوہر ادھر وہ سسرال میں جب عملی زندگی میں قدم رکھتی ہے تو سسر ساس نند دیور اور خاندان کے دیگر افراد کی خدمت کرنا اور ان کی چھوٹی بڑی ضروریات پوری کرنا اس کی ذمہ داری سمجھی ج کہاتی ہے اور اس معاملے میں اگر اس سے کچھ کوتاہی ہوجائے تو پوری زندگی اسے طعنے دئیے جاتے ہیں۔ بصورت دیگر ازدواجی زندگی متاثر ہوتی۔

حلانکہ دیکھا جائے تو مشترکہ خاندانی نظام میں بہت سے فائدے ہیں گھر کی فضا اس وقت خوشگوار ہوگی ۔جب لڑکی خاندان کے تمام افراد ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھے لڑکی اپنے سسرال کو اپنا گھر سمجھے اور سسرال والے لڑکی کو کو بہو نہیں بلکہ بیٹی سمجھیں قرآن میں واضح طور پر رشتہ قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ معملات اس وقت صحیح ہو سکتے ہیں ہیں جب انسان میں خوف خدا موجود ہو اور وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھے کہ اللہ تعالی ہماری نگرانی کر رہا ہے۔ مرد عورت خوف خدا رکھتے ہوں تو ان کی نسل میں بھی اللہ کا خوف ضرو رہو گا اور یہ خوف مضبوط خاندانی نظام کی طرف جائے گا اور دراصل مضبوط خاندانی نظام ہی مستحکم معاشرے کی بنیاد بنتا ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */