بڑی بے مروت ہے دنیا - نعیم اختر ربانی

موجودہ جنریشن جس طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہے. آئے دن نئی ایجادات اور اختراعات نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کردیا ہے. پہلے جو کام ہم دس لوگوں سے نہایت مشقت کے بعد لیتے تھے اب وہ ایک مشین سے بآسانی لے سکتے ہیں. روز مرہ کے اس معمول نے افکار پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے. زاویہ اور حد نگاہ جو ماضی میں تھا اس میں کس قدر وسعت آئی ہے ہر ذی شعور اس سے واقف ہے.مگر اس وسعت نے کئی طرح کے مضر اثرات کو اپنی کوکھ میں جگہ عنایت کی.دور حاضر کے انسان نے دنیا کے کونے کونے کی سیاحت تو کر لی مگر دنیا کی حقیقت کو پہچاننے سے قاصر رہا. نت نئے پیدا ہونے والے حوادثات اور عجائبات پر تبصرہ اور تجزیہ کرتے ہوئے سوچ انسانی کے گھوڑے بحر بیکراں تک جا پہنچے مگر وہ خود سکون اور بے چینی کے گرداب میں گھرا ہوا ہے.

حکمت جس کو وہ تمام اعمال کی جڑ اور روح بتاتا ہے میں وسعت کیلئے طرح طرح کے طریقے ایجاد کرتا ہے. مختلف زاویے اور نکتہء نگاہ سے اس کی جانچ پڑتال کرتا ہے. مگر کئی سارے ایسے بھاری اور ناقابلِ تردید سوالات ایسے ہیں جو اس کی پیشانی پر سیاہ دھبہ ہیں. جو اس کی خواب گاہ کا چین درھم برھم کرتے ہیں.فلسفہ جس کو وہ صراط مستقیم قرار دیتا ہے. خود اس کے لیے ایسے بیچ و خم پیدا کرتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی اس کی شاہد ہے. یہ مگر مگر کی تکرار اس کے ضمیر سے اٹھنے والی وہ صدائیں ہیں جو اس کے معمولات پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں. جو اس کی ہاں کے سامنے بھاری بھر کم سر نفی میں ہلاتی ہیں.لیکن کیا وجہ ہے؟ کہ انسان کی توجہ اس طرف جاتی ہی نہیں . اگر جاتی بھی ہے تو فقط اس نافرمان بیٹے کی طرح جو سارا دن آوارہ گردیاں کرنے کے بعد شام کو کھانے اور آرام کرنے کیلئے والدین کو اپنا دیدار کرواتا ہے. اس مادی دور نے انسان کو مادہ پرست بنا دیا. ہر طرف مفاد کی آواز ہے. اپنا مقصد زندگی فائدہ کو قرار دیا ہے. اس ظاہری رونق افزوں مادی دنیا میں اس قدر بھیانک گڑھے ہیں کہ ایک دفعہ گرنے والا خال ہی واپس آیا ہے.

یہ تو ایک ظاہری پلستر سے زیبا کی ہوئی عمارت ہے جس کی بنیادیں ریت کے ٹیلوں پر ہیں. جو دیکھنے والے کو بھلی معلوم ہوتی ہے مگر جو اس کی حقیقت سے آشنا ہے اس کیلئے ایک ملبے کے سوا کچھ نہیں. اس بے ثبات دنیا کی مثال دریا کی ہے اور انسان اس میں کشتی چلاتا ہوا ملاح اور ناخدا ہے . ناخدا کو پانی کی ضرورت ہے کہ بنا آب کے کشتی چل نہیں سکتی. وہ منزل مقصود تک پہنچنے سے قاصر ہے. مگرجب وہ ضرورت سے زیادہ اسے جگہ دے گا. کشتی سے باہر رکھنے کے بجائے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دے گا تو نتیجہ اس کی موت کی صورت میں ظاہر ہو گا. مگر انسان مطلوب کو اس دنیا سے اعراض اس طرح کرنا چاہیے کہ وہ صرف اس کی ضرورت رہے اس کیلئے ضرر نہ بنے.انسانیت بلا اسلام کے متصور ہی نہیں ہو سکتی. اسلام انسانیت کی اولاً قدر ومنزلت بیان کرتا ہے.انسان کو ذلت پر گرنے کے بجائے ایک خدا کے معزز در کا پجاری بننے کا کہتا ہے. دربدر مانگ کر اپنے وقار کو داغ دار کرنے کے بجائے ایک رب العالمین کے سامنے گڑگڑانے کا درس دیتا ہے.

" لاالہ الااللہ" کہہ کر اسے یہ بتلاتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی ذات نے بنایا ہے کہ جس کی ذات میں ثبات ہی ہے فنا نہیں. تم کوئی گئے گزرے نہیں ہو کہ تمہیں ہر جگہ گرنے دیا جائے بلکہ تمہیں ایک در متعارف کروا رہے ہیں جہاں ساری حاجات اور مناجات کرسکتے ہو.پھر دوسرے جملے میں نظام زندگی متعارف کروایا گیا کہ تم اگر کامیاب ترین انسان بننا چاہتے ہو تو کامیاب شخص کی زندگی کو اپنا لو. اس کے طریقے، اسکے افعال و اقوال و اعمال،اسکی گھریلو زندگی، سیاسی زندگی غرض جس کام اور شعبے میں راہنمائی درکار ہو تو اس ذات اور شخص کی طرف رجوع کرلو تو بامراد اور کامیاب ترین انسان بن جاو گے.دنیا تو متاع بے جسے استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے.اور انسانِ مطلوب کو یہ چیزیں زیب نہیں دیتیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */