نیا سال نیا عہد - آمنہ آفاق

دسمبر کی رات کے بارہ بجتے ہی گلیوں میں فائرنگ اور پٹاخوں کی ملی جلی آوازوں کا شور برپا ہوا تو میری انٹی جو کہ میرے گھر آئی ہوئی تھی دہل کر اٹھ بیٹھیں، ایک کرب کی کیفیت تھی جو ان کے چہرے سے عیاں تھی” کچھ نہیں ہوا آنٹی آپ آرام کریں یہ تو معمول کی بات ہے، نئے سال کا استقبال ہورہا ہے“ میں نے حوصلہ دیا تو بیچاری واپس لیٹ گئیں لیکن میں جانتی تھی کہ نیند اب ان کی آنکھوں سے کوسوں دور ہوچکی ہے ویسے بھی بلڈ پریشر کے مریضہ ہیں تو س اچانک وارد ہو جانے والے ہنگامے سے بے سکوں ہوگٸیں ”کیا ہوا آنٹی “میں انھیں جاگتا پا کر ان کے پاس چلی گئی ”چھوٹی نانو اگر نیند نہیں آرہی تو ٹی وی پر نیوایٸر شو آ رہا ہے وہ دیکھ لیں، بہت مزہ آ رہا ہے“ حمزہ نے معصومیت سے کہا تو وہ بھی اٹھ کر ہمارے ساتھ لاونج میں ہی آ گئیں ،مگر کچھ تھا ان کے چہرے پر جس کو میرا نظرانداز نہیں کر پائی ”کوئی بات ہے انٹی آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں اور اتنی خاموش بھی“۔

” ہاں بیٹا یہ رات مجھے ہمیشہ پریشان کردیتی ہے میرا چھوٹا جواں سال بھاٸ جو مجھے بہت عزیز تھا ، ہم دونوں کا بچپن ساتھ کھیلتے کودتے گزرا میرا وہ عزیز بھائی بدقسمتی سے ان ہنگاموں اور شور شرابوں کی زد میں آگیا، اب بھی یہ فائرنگ کی آوازیں آتی ہے تو اس کا چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا ہے اور میں سوچتی ہوں پتہ نہیں کن کن ماؤں کے لال اور بہنوں کے بھائی کس بے رحمی سے اپنی جانوں سے بے فکر ہو کر اتنے خطرات میں محض شغل میلہ سمجھ کر کود پڑتے ہیں “۔

”حقیقت ہے انٹی !!!! اصل میں یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح نٸے سال کا استقبال کر کے محض یہ لوگ تفریح کا ساماں نہیں کر رہے بلکہ گناہ کا بھی مر تکب ہو رہے ہیں “ حمزہ اور لائبہ جو کہ ٹی وی دیکھنے میں مگن تھے میں نے آواز دے کر ان کو اپنے پاس بلالیا ”مما نیو اٸیر ناٸٹ شو اتنا اچھا آ رہا ہے اتنے سارے ایکٹرز آۓ ہوۓ ہیں اور آپ نے یہاں بلا لیا“ لاٸبہ نے ناگواری سے کہاتو میری آنٹی نے جواب دیا ”میرے بچے ہم نیا سال آنے کی خوشی کیوں منا رہے ہیں ؟ کیا آپ کو معلوم ہے جو پچھلا سال ہم نے گزارا ہے کیا اس میں ہم نے اپنے رب کو راضی کیا ہے یا اس کو ناراض کرکے ہم اس نئے سال میں قدم رکھ رہے ہیں حالانکہ ہمیں تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہماری اتنی نافرمانیوں کے باوجود ہمارے رب نے ہمیں توبہ کی مہلت دی اور نیاسال عطا کیا تو کیا ہم یہ نیا سال بھی ایسے ہی گزار دیں گے ؟؟؟

بغیر توبہ کیے ، بغیر اچھے کام کیے ،اپنے اتنے قیمتی وقت کو ٹی وی کی نظر کرکے، یا باہر جاکر اوٹ پٹانگ طریقوں سے شغل میلہ کرکے“ ”اوہو نانو یہ تو جسٹ ایسے ہی نئے سال کا استقبال ہے ورنہ ہمیں معلوم ہے اسلامی کیلنڈر تو محرم الحرام سے شروع ہوتاہے “ حمزہ نے اپنی دانست کے مطابق جواب دیا ”بیٹا ایک بات بتاؤ کیا محرم کا پہلا دن یا جنوری کا پہلا دن کچھ مختلف ہے ؟؟
یہ تو سال و ماہ کی تقسیم پہچان کے لئے ہے ،اللہ پاک نے چاند سورج کو اس لیے بنایا کہ ان کے آنے جانے سے انسان ماہ و سال کا حساب لگا سکے، آنے جانے سے مراد چاند کی پہلی تاریخ اور آخری تاریخ ہے ، اب جو یہ آپ کا نیوایئر ہے یہ شمسی حساب سے ہے اور محرم الحرام سے شروع ہونے والا سال قمری حساب سے ہے اس لیے ضروری نہیں کہ ہم صرف جنوری کی پہلی تاریخ کا ہی استقبال کریں ہمیں تو ہر نٸی صبح کا استقبال کرنا ہے مگر یہ استقبال گانے بجا کر یا پٹاخے پھوڑ کر نہیں کرنا ہے بلکہ اپنے رب کو منا کر کرنا ہے کہ اس نے ہمیں توبہ کی مہلت دی ہے ،وقت جو ملا ہے زندگی جو ملی ہے یہ دراصل ہمارے پاس بہت بڑا خزانہ ہے ہمارا امتحان یہ ہے کہ ہمیں اسے کن کاموں میں لگانا ہے ،راتوں کو جاگنا، ہنگامہ کرنا، گھومنا پھرنا یا نئے سال کے کارڈ بھیجنا دراصل وقت کا ضیاع ہے ۔

نانو نے بچوں کو اتنا متوجہ پا کر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”بیٹا اب کہ اس نئے سال کی ابتدا کچھ یوں کرتے ہیں کہ اپنے فرائض کو احسن طریقے سے ادا کریں گے، اپنے نفس سے لے کر اپنے دیگر رشتہ داروں اور ہمسایوں وغیرہ کا حق ادا کریں گے ، سب سے پہلے اپنی ذات کا محاسبہ اشد ضروری ہے جھوٹ، چغل خوری ،غیبت ،کینہ، حسد، بغض غرضیکہ ہر برائی سے اجتناب برتیں گے ،اللہ کی تخلیق پر غور و فکر کرنا ہے اس سب کے لئے بیٹا وقت کی بہترین پلاننگ کرنا ضروری ہے اور پلاننگ پر عمل کرنے کے لئے ہمارے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ سے رہنمائی لی جائے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”عقلمند کے لیے لازم ہے کہ جب اس پر گھڑیاں گزرے تو ایک ایسی گھڑی ہو جس میں وہ اپنے رب سے باتیں کریں“ مثلاً نماز میں، قرآن میں، تنہائی میں رب سے باتیں کرنا ،مشکلات میں اللہ پاک سے رجوع کرنا، اور اس کو اپنی روداد سنانا “۔

میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے بچوں سےکہا” تو بیٹا ہمیں اب سے کیا عہد کرنا ہے ؟ کہ گذشتہ سال ہونے والی نافرمانیوں سے اللہ پاک سے توبہ استغفار کریں اور آنے والے نئے سال میں تمام برائیوں سے اجتناب کرکے اپنی زندگیوں کو بہترین طریقے سے گزاریں “جی مما آج سے ہم بھرپور کوشش کریں گے کہ یہ سال جو ہمیں اللہ پاک نے دیا ہے اس کی قدر کریں اور اس کے اندر نیکیاں بھر دیں“۔

” بچوں کے ساتھ اس عہد میں ، میں بھی برابر کی شریک ہوں انٹی “

میں نے مسکراتے ہوۓ عزم سے کہا اور انٹی بھی اب مطمٸن نظر آٸیں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */