آفات کا ہجوم - ام محمد سلمان

آج کل اکثر خواتین کی پریشانی کی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ شوہر حضرات گھر آتے ہی موبائل فون لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بیوی جو سارا دن گھر کے کام کاج اور بچوں میں مصروف رہتی ہے، شام ڈھلے جب شوہر گھر آئے تو اس کی بے توجہی اس غریب کو اور مارے ڈالتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کی معصوم بھولی بھالی سی مائیں خود کو سمجھا نہیں پاتیں کہ وہ کیسے ان حالات کا مقابلہ کریں اور شوہر کی توجہ حاصل کریں۔

کچھ کے میاں تو بس فیس بک اور وٹس ایپ وغیرہ پر دوستوں سے گپ شپ کرنے، پوسٹ پڑھنے اور کمنٹ کرنے تک ہی محدود رکھتے ہیں، کچھ یو ٹیوب پر اپنی پسندیدہ مووی اور ویڈیو کلپ دیکھتے رہتے ہیں.. کچھ طرح طرح کے گیم کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں... اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیوی کے لیے حقیقتاً دو چار سوکنوں کا بندوبست کر دیتے ہیں.۔ آدھی آدھی رات تک موبائل فون پر رنگ رلیاں مناتے ہیں اور بیوی جلے دل سے کروٹیں بدلتی رہتی ہے۔کہیں معاملہ الٹ ہے کہ شوہر مسکین اور بیوی ہاتھ دکھا گئی۔ کچھ عرصہ پہلے ہی ایک خاتون فون پر دوستی کے تعلق میں اتنی آگے چلی گئی کہ شوہر اور بچوں کو چھوڑا، طلاق لی اور یہ جا وہ جا...!! اس نے تو جا کر اپنی نئی دنیا بسا لی مگر پیچھے رہ جانے والوں کے لیے مصیبت چھوڑ گئی۔

یہ اس دور کے چیلنج ہیں شاید.. کہیں مرد بیویوں کی بے توجہی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں تو کہیں مرد ان پستیوں میں گرے ہوئے ہیں اور اتنا گرے ہیں کہ بیویوں کی زندگی اجیرن کر کے رکھی ہوئی ہے. اب سے پچیس تیس سال پہلے تک ان مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ اگر تھا بھی تو اتنی شدت اور کثرت سے نہیں تھا۔ کوئی عورت نظر کو بھا بھی گئی تو اس سے رابطہ کرنا ہی جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا تھا۔ جب تک دوسری نظر کا موقع ملے، پہلی نظر کا خمار اتر چکا ہوتا تھا۔ مگر آج سوشل میڈیا نے ان فاصلوں کو بالکل سمیٹ دیا ہے۔ ایک انجان مرد بڑی آسانی سے کسی بھی عورت کے بیڈ روم کیا اس کے بستر میں اس کے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں موجود ہوتا ہے اسی طرح ایک عورت بھی.... ان حالات میں کیسے بچا جائے...؟ آخر ان مسائل کا حل کیا ہے؟ "خوف خدا اور تقویٰ ہی ہے جو آج مرد و عورت کو ان تخلیے کے گناہوں سے بچا سکتا ہے."

ابھی فیس بک پر ایک خاتون کا مسئلہ پڑھا جو اپنے شوہر کی وجہ سے انتہائی دل برداشتہ تھیں۔ ان کے مطابق شوہر اچھے خاصے نیک شریف نمازی پرہیزی، بیوی بچوں کا خیال رکھنے والے، خرچ کرنے والے، دکھ بیماری میں ساتھ دینے والے ہیں. ہر طرح ہمارا خیال رکھتے ہیں، کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔ مگر کچھ عرصے سے یہ معمول ہے کہ رات کا کھانا کھاتے ہی علیحدہ کمرے میں چلے جاتے ہیں اور پھر کسی لڑکی کے ساتھ فون پر مشغول رہتے ہیں۔ بیوی کے بلانے پر بھی بیڈ روم میں نہیں آتے. اپنی مرضی سے رات دو ڈھائی بجے کمرے میں آ کر سو جاتے ہیں۔ خاتون اس صورت حال پر انتہائی دکھی تھیں۔ اور سچ بھی ہے کہ ایسی جیتی جاگتی سوکن نما چیز کون عورت برداشت کر سکتی ہے...!! یہی مسئلہ جب ایک دوسری خاتون نے سنا تو کہتی ہے... "کتنا اچھا شوہر ہے جو ہر طرح بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہے، کوئی میرے جیسی عورتوں سے پوچھے جو شوہر کے نام ہر ایک ظالم بے حس سی مخلوق کے ساتھ گزارا کرنے پر مجبور ہیں. اے کاش ایسا ہو سکتا کہ میرا شوہر اس عورت کے شوہر جیسا ہوتا.. وہ نیک شریف ہوتا. ہمارا خیال رکھتا عزت کرتا، ہم پر خوش دلی سے خرچ کرتا تو میں اس کا یہ عیب بھی گوارا کر لیتی...مجھے کوئی فرق نہ پڑتا اگر وہ کسی اور سے رابطے میں ہے۔"

اور یہ کمنٹ پڑھ کو مجھے اپنے بچپن کا پڑھا ہوا محمد حسین آزاد کا لکھا ہوا وہ مضمون یاد آگیا جس میں حالات و مسائل کے ستائے ہوئے سارے لوگ ایک بہت بڑے میدان میں جمع ہوتے ہیں اور قدرت کی طرف سے انھیں یہ پیشکش دی جاتی ہے کہ وہ اپنی اپنی پسند کے دکھ اور مسائل ایک دوسرے سے بدل لیں. چوں کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا، اسے ہمیشہ اپنے مسائل بڑے اور دوسروں کے چھوٹے نظر آتے ہیں ۔ تو اس میدان میں ہر طرح کے مصیبت زدہ لوگ اکٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے اپنی تکالیف اور پریشانیاں بدلنے لگے. مگر اگلے ہی لمحے ہر بندہ پریشان تھا کہ اس کا پہلا دکھ ہی اچھا تھا، یہ دوسرا دکھ تو ناقابل برداشت ہے (یہ ایک لمبی تفصیل ہے جو اس وقت یہاں سنانے کا موقع نہیں۔) اور آخر کار وہ سب لوگ جو اس انبوہ پُر آفات میں جمع تھے، اپنی اپنی پرانی تکلیفیں اور دکھ لے کر ہنسی خوشی اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔"سقراط حکیم نے کیا خوب لطیفہ کہا ہے کہ اگر تمام اہل دنیا کی مصیبتیں ایک جگہ لا کر ڈھیر کردیں اور پھر سب کو برابر بانٹ دیں تو جو لوگ اب اپنے تئیں بدنصیب سمجھ رہے ہیں وہ اس تقسیم کو مصیبت اور پہلی مصیبت کو غنیمت سمجھیں گے۔ ایک اور حکیم اس لطیفے کے مضمون کو اور بھی بالا تر لے گیا ہے۔ وہ کہتا کہ اگر ہم اپنی اپنی مصیبتوں کو آپس میں بدل بھی سکتے تو پھر ہر شخص اپنی پہلی ہی مصیبت کو اچھا سمجھتا۔"

اب ایک اور مسئلے کی طرف چلتے ہیں.. ایک خاتون کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ اس، غریب کے شوہر میں مذکورہ بالا پہلے شوہر والی کوئی ایسی خاص خوبی بھی نہ تھی۔ وہی ایک روایتی سا شوہر، بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والا... خرچ کر کے احسان جتانے والا... اکثر ضروریات کے لیے ترسانے والا... طعن تشنیع کرنے والا۔ یہ خاتون بقول ان کے خود پڑھی لکھی دین دار اور سمجھ دار تھیں اور ایک شریف متمول گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں مگر تقدیرِ الٰہی سے شوہر ایسا مل گیا کہ پہلے تو یہ امید تھی کہ ٹھیک ہو جائیں گے... ابھی گزارا کر کے دیکھتے ہیں مگر وہ تو ٹھیک نہ ہوئے اور پے در پے بچے اس خاتون کے پاؤں کی زنجیر بنتے گئے ۔ پھر بچوں کی خاطر نبھاتی چلی گئیں۔ اب شوہر میں اتنی خرابیوں کے بعد ایک نئی خرابی یہ بھی پیدا ہو گئی کہ فون پر کسی شادی شدہ خاتون سے دوستی گانٹھ لی۔ اب دن ہو یا رات اس خاتون کو جب بھی موقع ملے کہ شوہر گھر سے باہر ہیں اور بچوں سے فراغت ہے تو مس کال دیں اور پھر دونوں کی گھنٹے گھنٹے گفتگو جاری رہے۔ اور یہ سب کچھ بیوی کے سامنے ہی ہوتا ریا. وہ احتجاج کرتی کہ یہ آپ کیا کررہے ہیں تو شوہر دیدہ دلیری سے کہتا.. تو کیا ہوا؟ ذرا سی دوستی ہی ہے! تمہیں کیوں برا لگتا ہے تمہارے حقوق تو پورے کررہا ہوں ۔

اور بیوی کو گھن آتی ایسے حقوق کی ادائیگی سے.بہت سوچا سمجھا کہ کیا کروں؟ پھر ایک دن بہت ٹھنڈے مزاج کے ساتھ شوہر سے گفتگو کی.. کہ ایک بیوی اگر آپ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے تو دوسری شادی کر لیں مگر ایک شادی شدہ خاتون سے کیوں پینگیں بڑھا رکھی ہیں آپ نے!! جب کہ اس سے شادی بھی نہیں کر سکتے۔ وہ خود ایک گھر گرہستی کی مالکہ ہے شوہر ہیں بچے ہیں۔ آپ کیوں اس کی سلطنت میں دخل در معقولات کرتے ہیں؟ شادی کرنا چاہتے ہیں تو کسی بیوہ مطلقہ عورت سے کریں اس کا بھی بھلا ہو اور آپ کا بھی...شوہر نے یہ سنتے ہی بیوی پر چلانا شروع کر دیا "تم جانتی بھی ہو کہ میرے ایسے حالات نہیں کہ دو بیویوں کا خرچ اٹھا سکوں۔ لیکن اس کے باوجود تم میری ایسی دشمن ہو کہ مجھے اس جنجال میں پھنسانا چاہتی ہو تاکہ کل کلاں کو میں پاگل ہو جاؤں اور میرے بچے یتیموں کی سی زندگی گزاریں... تم تو ہو ہی ازل سے میری دشمن!! خدا تم جیسی بے وقوف بیوی کسی کو نہ دے ۔ "
بیوی بے چاری اپنا سا منہ لے کر رہ گئی وہ تو پہلے ہی اس بے عزتی کی عادی ہو چکی تھی. ہر سیدھی بات اس کے شوہر کو الٹی لگتی تھی۔جب شوہر سے کچھ امید نہ رہی تو اس خاتون سے بات کرنے کی ٹھانی مگر اس گفتگو سے بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ وہ خاتون بھی وقت گزاری اور اپنے دکھوں کو بھلانے کے لیے فون پہ رابطہ رکھتی تھی. وہ بھی کچھ اپنے شوہر اور معاشرے کی ستائی ہوئی لگ رہی تھی ۔

یہاں سے بھی نا امید ہو کر وہ سوچتی رہی کہ آخر کیا کروں؟؟ بظاہر مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ ایسے شوہر کے ساتھ پیار محبت سے رہنے اور ادائے دلبرانہ اختیار کرنے کو دل ہی کہاں چاہتا ہے۔ مگر خاتون کی دین داری اور نیک نیتی یہاں کام آئی کہ چلیں شوہر جیسا بھی ہے، اللہ نے اسی کو میرے لیے چنا ہے. خامیاں بہت ہیں مگر اتنی بھی نہیں کہ اس کے ساتھ نباہ نہ کیا جاسکے۔ آخر اتنے سال بھی گزار ہی دیے نا...!! اس کا مطلب ہے ان کے ساتھ باقی زندگی بھی گزاری جا سکتی ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے آخر.. جلنے کڑھنے سے تو سوائے صحت کی بربادی کے کچھ حاصل نہیں۔وہ سوچتی رہی اور آخر اس نتیجے پر پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مجھے ان حالات میں ڈالا ہے میری آزمائش شاید اسی طرح منظور ہے میرے رب کو۔ اگر اس دکھ کی بجائے اللہ مجھ سے میری بینائی چھین لیتا یا معذور کر دیتا اور میں بستر پہ پڑی ہوتی تو کیا یہ مجھے منظور ہوتا..؟؟ ہرگز نہیں... اس معذوری کے بدلے یہ دوسرا دکھ بہت ہلکا ہے۔ تو مجھے اپنے رب کی تقدیر پر راضی رہتے ہوئے اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے شوہر کے ساتھ رہنا ہے۔ اگر میرا دل نہ بھی چاہے تو میں نے شوہر کے ساتھ ہمیشہ اچھی طرح پیش آنا ہے۔ بات صرف سمجھنے کی ہے کہ میرا اچھا سلوک شوہر کے لیے نہیں بلکہ میرے رب کے لیے ہے! اور جب اللہ کے لیے اپنی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں تو پھر سب کچھ آسان لگتا ہے۔

آخر ہم دنیا میں اور بہت سے ناپسندیدہ لوگوں کے ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں، ایک ہی گھر میں بہن بھائیوں کی نہیں بنتی، سسرال میں نند بھاوج اور دیورانی جیٹھانی کی نہیں بنتی بعض اوقات انتہائی برے پڑوسیوں کے ساتھ بھی گزارا کرنا پڑ جاتا ہے۔ مگر ہم ان سب چیزوں کو برداشت کرتے ہیں انہی خامیوں کے ساتھ جیتے ہیں۔ تو پھر اگر شوہر میں کچھ خامی ہے تو اسے بھی برداشت کر لوں گی، ویسے بھی وہ اپنے کیے کا خود ذمے دار ہے، میں تو اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑتی۔ جب اللہ نے چاہا وہ مجھے ان حالات سے نکال دے گا۔ بیوی یہ سب سوچ کر مطمئن ہو گئی۔ شوہر کا پہلے کی طرح ہی خیال رکھتی.. کبھی کبھی ہنسی دل لگی میں شوہر کو چھیڑتی بھی کہ آپ کی سہیلی کا کیا حال ہے؟ شوہر بھی کبھی کبھی اپنی باتیں بیوی سے ڈسکس کر لیتا۔ بیوی بھی ہاں میں ہاں ملا دیتی اور موقع دیکھ کر کوئی نہ کوئی چوٹ کر ہی دیتی کہ شوہر کا احساس جاگتا رہے، بالکل ہی بے حس نہ ہو جائے۔ وہ اس کے قریب ہوتی تو رب کا حکم جان کر... کہ مجھے اپنے ہی عمل کا حساب دینا ہے اللہ کو۔ کسی دوسرے کا سوال مجھ سے نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کسی دوسرے کی ظلم و زیادتی میرے اعمال کی بد صورتی کا سبب بننی چاہیے۔ رب سے مضبوط تعلق اور اس کی محبت بڑے بڑے طوفانوں کا سامنا کرنے کا اہل بنا دیتی ہے۔ دو تین سال گزر گئے اور آہستہ آہستہ اس تعلق میں کمی آنے لگی.. اور چند سالوں میں بالکل ہی ختم ہو کر رہ گیا۔ خاتون کہتی ہیں کہ ایک پریشانی میری زندگی سے ختم ہوئی تو کیا میں بہت سکھی ہو گئی؟؟ نہیں بالکل نہیں.. اب اور طرح کی پریشانیاں ہیں تکلیفیں ہیں بیماریاں ہیں مسائل ہیں غم ہیں...

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

زندگی اسی کا نام ہے شاید۔ دکھ سکھ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ دنیا ایک دار الامتحان ہے۔ یہاں سب اپنے اپنے پرچے حل کرنے میں مشغول ہیں۔ اپنے حالات کو درست کرنے کے لیے جو بھی بن پڑے جائز حدود میں رہتے ہوئے ضرور کرنا چاہیے بالکل سے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے مگر نتیجہ خاطرخواہ برآمد نہ ہو تو خدا کی ذات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ آج نہیں تو کل.. حالات ضرور بدلیں گے.. کچھ نئی خوشیاں ہوں گی کچھ نئے اور اچھوتے غم ہوں گے۔ زندگی اسی کا نام ہے۔ دنیا کسی کے لیے جنت نہیں بن سکتی۔ ہر انسان اپنے تئیں کسی نہ کسی مشکل کا شکار ہے اگرچہ وہ ہمیں کتنا ہی خوش اور مطمئن نظر آئے۔ اللہ اور یوم آخرت پر یقین مضبوط رکھیے۔ دعا کا سہارا لیجیے، رب کو اپنا سچا دوست سمجھ کر اس سے اپنے مسائل بیان کرنا سیکھیے۔ وہ سب کچھ کرنے پر قادر ہے. دعا تقدیر کو بدل سکتی ہے۔

جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں، دل غم سے پھٹنے لگے تو اسی کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیجیے. دھاڑیں مار مار کر روئیے، سجدے میں اسے اپنے غم سنائیے... حالات نہ بھی بدلے تو دل پر وہ سکونت طاری ہو گی جو آپ کو ہر غم سے بے نیاز کر دے گی۔ آزما کر دیکھ لیں۔ رب العالمین اپنے بندوں کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا. اگر موجودہ مسئلہ حل نہ بھی ہوا تو اس کی جگہ کوئی اور پریشانی یا تکلیف ہم پر سے ہٹا دی جائے گی یا کوئی اور خوشی اور کامیابی عطا کر دی جائے گی۔ دنیا کے غم زیادہ ستائیں تو جنت کی نعمتوں کے بارے میں سوچ لیا کیجیے۔ وہاں کوئی دکھ نہیں کوئی پریشانی نہیں کوئی غم کوئی خوف نہیں.. ہمیشہ کی صحت، ہمیشہ کی جوانی ہمیشہ کی راحتیں... کبھی ان نعمتوں کو زوال نہیں ہو گا۔ دنیا کے غموں سے پیچھا چھڑانے کے لیے آخرت کے عذاب و ثواب صیقل کا کام کرتے ہیں۔ کبھی یقین کے ساتھ آزما کر دیکھیے.....!!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */