درختوں پر پرند ے لوٹ آنا چاہتے ہیں - محمد فاروق خان

پاکستان سٹیزن پورٹل دنیا کی بہترین سرکاری موبائل ایپ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آئی ہے جبکہ انڈونیشیا پہلے اور امریکہ تیسرے نمبر پر۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل کے حل اور عوام سے براہ راست رابطے کے لیئے شکایات سیل عالمی پذیرائی اور زبردست کامیابی حاصل کر رہا ہے۔اس پورٹل سے یقیناً منجمند نظام،کرپٹ مافیاز اور مفاد پرستوں کی ریاست میں کمزور وں اور مظلوموں کو اپنی فریاد میرِ ریاست تک پہنچانے میںسہولت ملی ہے۔

وزیراعظم عمران خان عوامی مسائل کے فوری حل کے خواہاں ہیں اور نیک نیتی سے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے متمنی ہیں۔اس پورٹل میں ایک ماہ میں۲۶ لاکھ شکایات درج ہوئی ہیں۔لوگوں کے مسائل کے حل ہونے کی اطلاعات میڈیا پہنچا رہا ہے اور داد رسی بھی ہو رہی ہے۔عوامی شکایات متعلقہ محکموں کے پاس بھیجی جاتی ہیں اور اس محکمے کا افسر اس پر کاروائی کرتا ہے ۔شکایت کندہ سے رابطہ کرکے اس پر ہونے والی کاروائی سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں شاہ محمد والی کے ایک صحافی ن حسنین ملک نے پورٹل پر درخواست جمع کرائی کہ تلہ گنگ کے دیہاتوں سے درختوں کی بے دریغ کٹائی ہوئی ہے جس سے علاقے کو موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیاں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے جواب میں ڈسٹرک آفیسر فارسٹ چکوال نے جواب دیا ہے کہ محکمہ جنگلات لکڑی کی نقل و حمل کے لیئے پرمٹ جاری کرتا ہے ذاتی زمینوں سے درختوں کی کٹائی کو روکنے کا کوئی ایسا قانونی ضابطہ نہیں جس سے اس علاقے سے لکڑی کی کٹائی کو روکا جا سکے۔درخواست پر کاروائی مکمل ہوگئی اور شکایت کندہ کو آگاہ کر دیا گیا۔صاحب اختیار اگر درختوں کی کٹائی اور درختوں کے اجتماعی قتل کے فرق کو سمجھتے تو اس علاقہ کی زمینیں فطرت کا حُسن قائم رکھ سکتیں اور پرندے دعا گو ہوتے۔

اختیار کی کرسی پر بیٹھنے والے بے بس صاحب کو یہ کیسے بتایا جائے کہ درخت صرف اس کی ملکیت نہیں ہوتے جس کی زمین میں ہوتے ہیں۔درخت تو فطرت کی ملکیت ہوتے ہیں اور فطرت کی ملکیت اجتماعی ملکیت ہوتی ہے۔درختوں سے فطرت موسموں کو بدلتی ہے۔ درخت تو پرندوں کے گھر ہوتے ہیں ان پرندوں کے گھروں کی اجتماعی تباہی کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرک آفیسر فارسٹ چکوا ل اگر حمیدہ شاہین صاحبہ کی نظم سے درختوں اور پرندوں کا تعلق اور دکھ سمجھ گئے تو مجھے یقین ہے کہ وئہ درختوں کی کٹائی کو روکنے میں بے بس نہیں رہیں گے۔

ہرے درختوں کی خیر مولا

بلند شاخوں پہ گھونسلوں کے جڑائو

کھالوں میں بہتے پانی

ہوائوں کے پر سکوں سبھاوء کی خیر مولا

اناج کی نرم گرم خوشبو کو

جھومتی لہلہاتی فصلوں،زندگی کی امان سائیں

لچکتی بیلوں کو میرے دل کاسلام پہنچے

سدا ہو

چھتوں میں شہد،مٹکوں میں دودھ،چاٹی میں چھاچھ سائیں

پھلوں کے رس اور مٹھاس پر بھی سلامتی ہو

تیرے کرم کو

میں کیاریوں میں کھلے گلابوں کا واسطہ دوں

کہ تتلیوں جیسی بیٹیوں کا؟

تجھے بتاوں!

مگر نہیں،تو ُتو جانتا ہے

ہماری مٹی تو چُنی گئی ہے

ہمارے پتلے بنا کے اب رکھے جا چکے

آتشیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر

غبار کرکے

دھواں بنا کر

کسی بھی صورت

ہمیں اُڑانے پہ بات آ کر ٹھر گئی ہے

تو سائیں پھر اک صداے کُن دے

اور اُن پرندوں کو زندہ کر

جو ہماری مٹی میں مر چکے ہیں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */