تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی - حبیب الرحمن

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ "پی ٹی آئی اپوزیشن سے نمٹنے کی منصوبہ بندی بنانے کی بجائے عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لے تو بہتر ہو گا۔ ڈھائی برسوں میں حکومت کے کریڈٹ پر چند لنگرخانوں کی تعمیر اور لوگوں کو مرغیاں اور کٹے پالنے کے مشورے دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ لاکھوں نوجوان روزگار کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں مگر حکمران ہیں کہ سنجیدہ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ چترال سے لے کر کراچی تک حکومت کی ناکامیوں کی داستان جگہ جگہ پھیل چکی ہے"۔

امیر جماعت نے تو حکومت کو یہ صائب مشورہ دیا ہے لیکن بار بار وعدہ خلافیوں کی عادت کا شکار موجودہ حکومت کا کسی بھی مسئلے پر سنجیدہ ہوجانا نہ صرف نا ممکن ہو چکا ہے بلکہ حقیقتاً اب حکومت کی پوری مشینری پر مایوسی کے سائے گہرے سے گہرے تر ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی مایوسی اور اعترافِ ناکامی کا اندازہ وزیر اعظم کی کل کی باتوں سے بخوبی کیا جا سکتا جس میں صاف صاف اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ وہ اب تک یہی سمجھ نہیں پائے ہیں کہ ان کے وزرا و مشیران اپنے اپنے دفاتر سنبھالنے سے قبل اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ بھی سکے تھے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی نئی حکومت کو تیاری سے پہلے اقتدار میں نہیں آنا چاہیے۔ ان کے بقول3ماہ تو ہمیں گورننس سمجھنے میں لگ گئے، ڈیڑھ سال تک تو صحیح اعداد و شمار ہی پتا نہیں چل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں موجودہ سسٹم پر نظر ثانی کرنی چاہیے، حکومت سنبھالنے سے پہلے پورا وقت ملنا چاہیے، خصوصی طور پر حکومت سنبھالنے کی تیاری کے لیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گورننس کیسے دینی ہے اس حوالے سے پہلے ہرمحکمے کی ٹیم کی بریفنگ ہونی چاہیے، مثلاً ہر شعبے سے متعلق بریفنگ ہونی چاہیے کہ ریلوے کے اندر اصل میں کیا صورتحال ہے، بجلی کی کیا صورت حال ہے، خسارہ کتنا ہے تاکہ جب آپ عہدہ سنبھالیں تو آپ کو پوری طرح پتہ ہوکہ آپ کوکیا ایجنڈا نافذ کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہر چیز جو ہم باہر سے بیٹھ کر دیکھ رہے تھے جب حکومت میں آئے تو وہ بالکل ہی مختلف تھی، کئی اعداد و شمار خاص طور پر توانائی کے شعبے سے متعلق ڈیڑھ سال تک تو حقیقی اعداد و شمار کا ہی پتا نہیں چل رہا تھا، کبھی کوئی اعدادوشمار آجاتے ،ہم سمجھتے تھے بڑا اچھا پرفارم کررہے ہیں، پھر کہیں اور سے دوسرے اعدادوشمار آجاتے اور پتا چلتا تھا کہ ہم اتنا اچھا نہیں کررہے"۔پاکستان میں ہر جمہوری حکومت کی آئینی مدت 5سال ہوتی ہے۔ جس حکومت کو اپنی آئینی مدت کا نصف سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد صرف اس بات کا ادراک ہوا ہو کہ محکمے اور ادارے کیسے چلائے جاتے ہیں تو کسی بھی ریاست کی اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان جو کل اپنی کابینا سے خطاب کر رہے تھے تو در اصل یہ خطاب نہیں، اپنی حکومت پر فرد جرم عائد کرنا اور اس بات کا اعتراف تھا کہ وہ حکومت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے سارے وزرا، مشیران اور ان سمیت سارے ایم پی ایز، ایم این ایز، وزرائے اعلیٰ، سب کے سب نہ صرف یہ کہ حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے بلکہ انھوں نے اپنے اپنے دفاتر سنبھالنے سے قبل کسی قسم کا کوئی ہوم ورک کیا ہی نہیں تھا۔

یہ وہ عمران خان ہیں جو بقول خود 22 سال سے اقتدار میں آنے کی کوششوں میں مصروف تھے، 126 دن کے دھرنوں کے دوران ہر روز "لانے" والوں کو یہ یقین دلاتے رہے کہ ان کے پاس 200 افراد سے بھی کہیں زیادہ ایسے افراد کی ٹیم ہے جو اقتدار میں آکر پاکستان کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دے گی، پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا، ترقی اس عروج پر ہوگی کہ باہر جانے والے پاکستانی تو پاکستانی، غیر ممالک کے لوگوں کے بحری اور ہوائی جہاز بھر بر کر پاکستان آکر ملازمتیں کر رہے ہونگے۔ وہی عمران خان صاحب نہ صرف حکومت کی پوری ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ موجودہ جمہوری سسٹم کو ہی اس خرابی کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ "پاکستان میں بھی امریکی طرز کا صدارتی نظام ہونا چاہیے، اس طرح کے نظام میں آنے والی حکومت کو موقع ملتا ہے کہ وہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے تمام حکومتی امورسے آگاہ ہو، جوبائیڈن کو ڈھائی ماہ ملے ہیں کہ اپنی ٹیم تیار کریں جس کی وجہ سے وہ حلف اٹھانے تک وہ پوری طرح تیار ہوںگے"۔ جو حکمران نہ تو اپنے نظامِ حکومت سے مطمئن ہو، نہ اپنی ٹیم کی کارکردگی اس کیلئے اطمنان بخش ہو اور نہ ہی اپنے وعدوں کا پاس تو کیا پھر بھی اس کے پاس اقتدار پر براجمان رہنے کا کوئی جواز باقی رہتا ہے۔ اپنے خلاف خود ہی چارج شیٹ جاری کر نے کے بعد بھی اسے مزید نصف آئینی مدت گزارنے کا موقع دینا ریاست کے ساتھ نہ صرف سنگین جرم ہوگا بلکہ کسی بھی ریاست کے عوام پر اس سے بڑا ظلم کسی اور غفلت کو شمار کیا ہی نہیں جا سکتا۔

وزیر اعظم پاکستان کے کل کے خطاب کے بعد عوام میں شدید مایوسی چھا گئی ہے اور وہ اس سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت کو اس کا باقی ماندہ عرصہ بھی مکمل کرنے کا موقع دیدیا گیا تو ان کا کیا بنے گا۔ جن کو نصف مدت گزر جانے کے بعد بھی حکومت کرنے کے گر سمجھ میں نہ آ سکے ہوں وہ باقی ماندہ عرصے میں ریاست کو کس تباہی کی جانب لے جائیں گے۔ حکومت کے اس واضح اعترافِ ناکامی کے باوجود مستعفی نہ ہونے پر ملک بھر کے عوام یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ

جفا سے تھک گئے تو بھی جفا کی

تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */