مائیکروبیالوجی کیا ہے - محمد طاہر مرسلین

مائکروبیالوجی (خرد حیاتیات)کیا ہے؟ یہ بیالوجی یعنی حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جانداروں کو پڑھا جاتا ہے، جنکو محض خردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اسکی سب سے سادہ اور عام فہم تعریف ہے گو کہ اس پڑھائی میں وائرسز بھی شامل ہیں جو جاندار ہیں بھی اور نہیں بھی. آپ اگر وائرسز سے واقف نہیں ہیں تو آپکو حیرت ہوگی کہ وائرس محض اسی صورت میں جاندار ہوتا ہے جب یہ کسی جاندار یا کسی جاندار شے کے خلیے میں داخل ہو جائے ورنہ یہ بے جان ہی ہوتا ہے۔

مائکروبیالوجی میں پڑھے جانی والی خلقت کو جراثیم بھی کہہ دیا جاتا ہے. جراثیم میں بیکٹیریا، وائرسز، فنگس اور پیراسائٹس (طفیلی کیڑے) شامل سمجھے جاتے ہیں جنکو عام آنکھ سےنہیں دیکھا جا سکتا۔ہمارے ملک میں یہ ایک یا نیا شعبہ تعلیم ہے اور اسکے متعلق ابھی آگاہی قدرے کم ہے. مائیکربیالوجی میں ایف ایس سی (پری میڈیکل) کے بعد داخلہ لیا جاسکتا ہے جس میں مختلف جامعات بی ایس کرواتی ہیں جو 4 سالہ پروگرام ہے. 2 سالہ بی ایس سی پروگرام اب بتدریج ختم کیا جا رھا ہے۔

مائیکروبیالوجی پڑھنے والے کو مائیکروبیالوجسٹ کہا جاتا ہے. اس میں مزید ذیلی شعبہ جات ہیں جن میں میڈیکل مائکروبیالوجی، انڈسٹریل مائیکرو بیالوجی (فوڈ اور فارما سوٹیکل مائیکوبیالوجی) شامل ہیں۔ چارسالہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک مائیکربیالوجسٹ مختلف شعبوں میں ملازمت کے لیے اہل ہوتا ہے. جیسے ادویات کی صنعت میں جسے فارما سوٹیکل انڈسٹری کہتے ہیں، صنعتِ خوراک میں، تشخیصی لیبارٹریوں اور ہسپتالوں میں. زراعت کے شعبے میں بھی مائیکربیالوجسٹ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں. اسی طرح تحقیقی اداروں میں بھی مائکروبیالوجسٹ ملازمت اختیار کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

پاکستان میں بہت سے ادارے اس شعبہ میں تحقیقی اور تدریسی کام کررہے ہیں جن میں قائداعظم یونیورسٹی، جامعہ پنجاب لاہور، نسٹ، جامعہ پشاور، جامعہ کراچی قابل ذکر ہیں ۔موجودہ دور کے تناظر میں مائیکربیالوجسی کا کردار ابھر کے سامنے آیا ہے.کیونکہ کرونا وائرس کی تشخیص سے لیکر علاج اور ویکسین کی تیاری تک اسی شعبہ سے وابستہ لوگ کام کر رہے ہیں۔ اس شعبہ تعلیم و تحقیق سے عوام اور مقتدر حلقے کم ہی آگہی رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مائیکرو بیالوجسٹس کو پاکستان میں انکا جائز مقام نہیں مل پایاسرکاری و نجی ہسپتالوں میں مائیکربیالوجسٹس نہ ہونے کے برابر ہیں، اسی طرح تحقیقی ادارے بھی بہت کم ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس شعبہ میں کام تقریباً ایک صدی سےبھی پہلے سے جاری ہے۔لوئس پاسچر (1895-1822)نے مائیکروبیالوجی کو صنعتی ترقی کے لیے استعمال کیا خوراک اور خاص طور پر دودھ کی دیرپا سٹوریج کو ممکن بنایا، پھلوں سے شراب کشید کرنا اور مختلف بیماریوں کے لیے ویکسینز بنانا انکے اہم کارنامے ہیں۔ دودھ کو محفوظ کرنے کے لئے انکے نام سے منسوب طریقہ یعنی پاسچرائزیشن آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928میں پینسلین نامی اینٹی بیاٹک متعارف کروا کر میڈیکل کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔ یہاں سے ہی اینٹی بیاٹکس کا استعمال شروع ہوا جس سے لاکھوں کروڑوں جانیں بچانا ممکن ہوا۔ جو کام سو دو سو سال سے جاری ہے ہم اس شعبے میں عدم توجہی کے باعث وہ بھی کرنے سے قاصر ہیں ۔اس شعبے کے لیے تمام تر آلات، کیمکل، سٹینڈرڈز، جینز، انزائمز یعنی خامرے، حتیٰ کہ چھوٹی سے چھوٹی ٹیوب بھی امپورٹ کی جاتی ہے ۔جو اگر ملکی سطح پر بنانے کی طرف توجہ دی جائے تو کثیر زر مبادلہ بچایا جا سکتا اور اسی طرح ویکسینز، انزائمز پروبیاٹکس اور دیگر بیالوجکس ملکی سطح پر تیار کر کے کم نرخوں میں عوام کو مہیا کی جا سکتی ہے۔ ملکی سطح پر اس سائنس سے منسلک اشیا کی پیداوار سے تحقیقی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ڈرگس یا ادویات ساز کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے والے اداروں میں مائیکرو بیالوجسٹ موجود نہیں ہیں جو کسی بھی ایسی ادویات اور بیالوجکس کو سمجھتے ہوں اور اسکے معیار کو جانچ سکتے ہوں۔ اگر ہمارے پاس بھی معیاری ادارے اور ماہر مائیکرو بیالوجسٹ موجود ہوتے تو ہم بھی کرونا کے لیے ویکسین بنانے کی دوڑ میں شامل ہوتے اور چین اور امریکہ سے آس لگائے نہ بیٹھے ہوتے. مزید یہ کہ مستقبل میں ایسے وائرسز کے قدرتی اور مصنوعی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہماری اپنی تحقیق ناگزیر ہے۔

ہمارے ہاں تحقیقی ادارے کم سہی لیکن موجود ہیں بس اس شعبے کی طرف توجہ کی ضرورت ہے اور اس شعبے کی ملکی سطح پر افادیت سے واقفیت کی ضرورت ہے۔بہت سے محقق اپنے تئیں بین الاقوامی امداد سے تحقیقات میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی اور پزیرائی کی ضرورت ہے۔ ملکی سطح پر اس شعبے سے آگاہی وقت کی بہت اہم ضرورت ہے. اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے جو ہمارے شعبہ صحت، خوراک، اور ملکی دفاع کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */