کرنٹ اکاؤنٹ ہے کیا - حبیب الرحمن

موجودہ حکومت کی دوسالہ کار کردگی بحیثیتِ مجموعی کیا ہے اور کیا نہیں لیکن اگر کوئی ایسا قابلِ تعریف کارنامہ ہے جسے وزیر اعظم سے لیکر ان کے پوری کابینہ، وزرا، مشیران، ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرانِ کرام دنیا کے ہر فورم پر بہت شد و مد کے ساتھ بیان کرتے نظر آتے ہیں وہ ہے "کرنٹ اکاؤنٹ" جو دو سال قبل کئی ڈگری منفی سینٹی گریڈ تک چلا گیا تھا جو اب کئی ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

مجھ جیسے کم عقل کی طرح نہ جانے کتنے ایسے ہونگے جن کو کرنٹ اکاؤنٹ تو کیا، یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا ہوگا کہ خود "اکاؤنٹ" کیا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات میں شور مچ رہا ہو کہ بھائی صاحب آپ کے تو کھربوں روپے فلاں بینک اکاؤنٹ میں پڑے ہیں اور آپ ہیں کہ پارسوں کو ہی باٹ بنا کر تیل بیچنے میں لگے ہوئے ہیں۔عجیب ملک ہے جہاں کروڑوں افراد کو یہی معلوم نہ ہو کہ اکاؤنٹ یا کھاتہ کہا کسے جاتا ہے، وہاں ان ہی ہزاروں افراد کے اکاؤنٹ میں کھربوں روپوں اور ڈالروں کی ٹرازکشن ہو رہی ہو اور وہ خود نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ جہاں غربت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا اس قدر فقدان ہو وہاں کسی کو کرنٹ اکاؤنٹ کے منفی یا مثبت ہونے کا مطلب کیسے سمجھ میں آئے گا جسے موجودہ حکومت کا ہر وزیر و مشیر اور موجودہ حکومت کو چاہنے والے دن رات سینہ تان تان کر بیان کر رہے ہوں۔

اگر ایک عام سے گھر ہی کو لے لیا جائے تو وہاں ایک تو وہ ذریعہ ہوتا ہے جس کو "آمدنی" کہا جاتا ہے اور دوسرا وہ ذریعہ ہوتا ہے جس کو "اخراجات" کا نام دیا جاتا ہے۔ اب ان دونوں میں ایک پہلو تو یہ ہوسکتا ہے کہ جتنی آمدنی ہوتی ہو اتنے ہی اخراجات ہو جاتے ہوں۔ دوسرا پہلو یہ ہوتا ہو کہ آمدنی کے مقابلے میں اخراجات زیادہ ہو جاتے ہوں اور تیسری صورت یہ ہوتی ہو کہ آمدنی زیادہ اور اخراجات کم ہوتے ہوں۔ برابری بے شک خطرناک نہیں لیکن کسی بھی وقت مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ آمدنی اگر نفی میں جانے لگے تو پھر نوعیت قرضوں پر یا پیٹ کاٹنے تک جا پہنچتی ہے لیکن اخراجات سے آمدنی بڑھ جائے تو فلاحی و ترقیاتی کاموں کی راہیں کھلنے لگتی ہیں اور گھر ہو یا ملک، خوشحالی کی جانب چل نکلتا ہے۔ہر ملک ہر دوسرے ملک سے لین دین کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جس طرح ہر فرد ہر فن مولا نہیں ہوا کرتا اسی طرح ترقی یافتہ سے ترقی یافتہ ملک ضرورت کی ہر شے خود تیار نہیں کر سکتا۔ قدرت کی بہت ساری نعمتیں کسی ایک ہی ملک میں سب کی سب نہیں ہوا کرتیں بلکہ گرمی، سردی، بہار اور برسات کی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں پورے کرہ ارض پر اس طرح بکھیری ہیں کہ دنیا کا ہر ملک ہر دوسرے ملک سے منفرد ہو کر رہ گیا ہے۔

تجارت اور لین دین کی ضرورت بھی ہر ملک کو ہر دوسرے ملک سے اسی لئے جوڑے ہوئے ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی بھی ملک کی کرنسی (ڈالرز) محض اس لئے باہر زیادہ جانے لگے کہ در آمدات بر آمدات بڑھ جائیں یعنی ہم اپنی ضرورت کی اشیا دوسرے ممالک سے زیادہ خریدنے پر مجبور ہوں اور اپنی تیار کردہ یا قدرتی طور پر پیدا ہونے والی معدنیات باہر کے ممالک کے ہاتھوں فروخت نہ سکیں تو ہمارے پاس ہماری کرنسی کم ہونا شروع ہو جائے گی اور ایک وقت وہ بھی آ جائے گا کہ ہمارے خزانے کا خسارہ بڑھتے بڑھتے منفی میں جانا شروع ہو جائے گا۔ یہی وہ صورت حال تھی جو پاکستان کیلئے ایک نہایت خطرناک شکل اختیار کرتی چلی جا رہی تھی۔ اس کو ختم کرنے ایک ہی طریقہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی برآمدات بڑھائیں اور باہر سے خریداری کو کم سے کم کریں اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کا یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے برآمدات میں اضافہ کیا اور درآمدات میں کمی، جس کی وجہ سے وہ کرنسی جو بہت تیزی کے ساتھ منفی ڈگری پر دیکھی جا رہی تھی، مثبت سمت رواں دواں نظر آنے لگی۔

اس مقام پر قابل غور سوال یہ ہے کیا واقعی پاکستان نے ملکی پیداوار کو بڑھا کر برآمدات میں اضافہ کیا یا پھر صرف درآمدات پر قدغنیں لگا کر ڈالرز کو باہر جانے سے روک لینے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لائی گئی۔بظاہر تو پورے ملک میں کوئی ایسی ڈؤلپمنٹ نظر نہیں آتی جس کو بنیاد بنا کر یہ کہا جا سکے کہ ہم نے اس دوران نئی مصنوعات تیار کی ہوں یا بجلی گیس اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مصنوعات کے تیاری میں لاگت کم آنے کے سبب باہر کی دنیا میں ان کی مانگ بڑھ گئی ہو البتہ غیر ملکی اشیا کی درآمدات میں کمی لاکر سرمائے کو باہر جانے سے روکا جا سکتا تھا تو شاید ایسا ہی کیا ہو۔ ایک پہلو دنیا کے لاک ڈاؤن ہونے کا بھی ہے جبکہ دنیا کے کچھ ممالک، جس میں پاکستان بھی شامل ہے، وہ بین الاقوامی طور پر لاک ڈاؤن سے آزاد ہی تھے۔ اس دوران پاکستان کی درآمدات بڑھیں جس کی وجہ سے پاکستان میں فارن کرنسی کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایک جانب درآمدات میں مناسب پابندیاں اور دوسری جانب برآمدات میں اضافہ ایک خوش کن پہلو ضرور ہے لیکن ان سب کے فوائد عوام تک نہ پہنچنا ایسا خطرناک پہلو ہے جس پر قابو نہ پاکر موجودہ حکومت کی شہرت کا اپنا "کرنٹ اکاؤنٹ" اس قدر خسارے میں جا چکا ہے کہ اس کا عوام کے غیظ و غضب سے بچ جانا ایک معجزہ ہی ہوگا۔ موجودہ حکومت سے گزارش ہے کہ جس خسارے کو وہ منافع میں بدل چکی ہے اسے ضائع نہ کرے اور اس کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے میں دیر نہ لگائے۔ بصورت دیگر اقتدار کے نقطہ نظر سے اسے بہت بڑا خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */