اک شرابی تھا میں - ام محمد سلمان

آج میرے ایک شرابی دوست کا انتہائی کسمپرسی میں انتقال ہو گیا۔ میرے دل کو شدید جھٹکا لگا۔ وہ دوست جو عمر میں مجھ سے آٹھ دس سال چھوٹا تھا، نام محمود تھا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے تھے ایک بیوی جو بھری جوانی میں بیوہ ہو گئی۔ جوانی کا دور ہم نے ساتھ ہی موج مستی کرتے گزارا تھا۔ ہم لوگ کوئی عادی شرابی تو نہ تھے مگر تمام دوست مل کر اکثر شراب نوشی کیا کرتے تھے۔

سامان خریدتے اور موقع کی مناسبت سے کسی کے بھی گھر یا دکان پر جمع ہو جاتے اور خوب ہلہ گلہ کرتے۔ زندگی بڑی من موجی بسر ہو رہی تھی۔ آہستہ آہستہ سب دوستوں کی شادیاں ہونے لگیں مگر ہم پھر بھی یہ شغل جاری رکھے رہے۔ بعض دوستوں نے تو اپنی بیویوں کو بھی ساتھ ملا لیا اور گھر والوں سے چھپ کر ویک اینڈ پر ہی میاں بیوی پینے پلانے کا اہتمام کرتے۔ ہم جس علاقے میں رہتے تھے وہاں یہ ایسی کچھ معیوب بات بھی نہ تھی۔ تقریبات میں تو عام پینا پلانا ہوتا تھا۔ پولیس آتی، اپنا حصہ لے کر چلی جاتی اور ہم اپنا شغل جاری رکھتے۔

حالات نے پلٹا تب کھایا جب میری شادی ہوئی۔ گھر والوں نے اپنی پسند سے ایک لڑکی سے میری منگنی کر دی اور کچھ عرصے بعد شادی ہو گئی۔ مگر میری زندگی میرے دوستوں والے ڈھب پر نہ چل سکی۔ میری بیوی بہت دین دار تھی۔ نماز کی ایسی پابند کہ میں دیکھ کر حیران ہوتا تھا... ایک دن میں نے اس سے پوچھا:
"سنو! تم کبھی بھی نماز نہیں چھوڑتیں؟" اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا:

"میں نماز کیوں چھوڑوں آخر؟"میں نے کہا:

"کچھ نہیں بس یوں ہی کہہ دیا تھا۔ دراصل میں نے اپنی زندگی میں تمہاری طرح پکا نمازی کوئی نہیں دیکھا."

وہ مسکرا کر کہنے لگی:

"آپ بھی نماز پڑھا کیجیے پھر اپنی زندگی میں نماز کی برکتیں بھی دیکھیے گا"۔

"نہیں یار مجھ سے نہیں پڑھی جاتی۔" میں نے جمائی لیتے ہوئے لاپروائی سے کہا۔

"بس تم ہی پڑھ لیا کرو اور میرے لیے بھی دعا مانگ لیا کرو۔"

"دعائیں تو ہر دم مانگتی ہوں آپ کے لیے (وہ بڑے جذب سے بولی) لیکن آپ بھی تو کچھ کوشش کیجیے۔"

"اب اس عمر میں کیا کوشش کروں یار...! بچپن میں کبھی نمازیں پڑھی تھیں۔ قرآن مجید بھی ایک بار ختم کرنے کے بعد دوبارہ کھول کر دیکھا ہی نہیں۔"

"آپ مجھ سے پڑھ لیا کیجیے نا... میں آپ کی غلطیاں ٹھیک کروا دوں گی۔ آپ بس روزانہ شام کو ایک صفحہ دہرا لیا کیجیے۔" اور کچھ دن میں پڑھتا بھی رہا. سورہ یاسین روزانہ اسے سناتا اور وہ میری غلطیاں ٹھیک کرواتی رہتی۔ پھر پہلا پارہ شروع کیا تھوڑا سا پڑھا اور بس دل بھر گیا۔ وہ لاکھ کہتی رہی مگر میں نے پھر نہ سنی۔ ہاں مگر نماز کے لیے بہت محنت کرتی تھی وہ میرے ساتھ۔ کئی طرح سے مجھے بہلاتی۔ کبھی نماز کے فضائل سناتی کبھی وعیدوں سے ڈراتی۔ کبھی کوئی اور حربہ استعمال کرتی... اچھا دیکھیے... سنیے نا... میں نے اتنی محنت سے کپڑے پاک صاف کر کے دھوئے پھر استری کیے. اب اتنا تو کیجیے جب بھی نہا دھو کے صاف جوڑا پہنیں کم از کم اس جوڑے میں ایک وقت کی نماز تو پڑھ لیا کیجیے۔

کچھ تو میری محنت وصول ہو۔ وہ بڑی بے چارگی کے ساتھ کہتی اور میں اس وقت کی نماز تو پڑھ ہی لیتا تھا. پھر اس کے کہنے پر آہستہ آہستہ جمعہ بھی پڑھنے لگا۔ اس سے پہلے ہمارے گھر میں جمعے کا کوئی اہتمام نہ ہوتا تھا مگر اس کے آنے سے جمعہ کے دن عجیب ہلچل ہونے لگی تھی۔ خود بھی اپنے لیے اچھا سا جوڑا استری کرتی نہا دھو کر خوشبو اور سرمہ لگاتی۔جب بچے ہوئے تو یہی اہتمام ان کے ساتھ بھی ہوتا. جمعہ کا دن کسی چھوٹی عید کا سا سماں پیش کرتا تھا۔ اس سے شادی ہونے کے بعد میں نے اپنے شرابی دوستوں کے پاس بیٹھنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ مجھے شرم آتی تھی کہ ایک بندہ جس کی بیوی ایسی نیک ہو، وہ پھر بھی شراب پیے۔لیکن کبھی کبھی میں اپنے اوپر لگائی ہوئی اس پابندی سے خود ہی تنگ آ جاتا تھا۔ مجھے لگتا میں کہیں بیڑیوں میں جکڑا گیا ہوں۔ شادی کے تقریباً چھے ماہ بعد میں نے ایک دن یوں ہی اس کے سامنے ذکر کیا...

"تم جانتی ہو میں شادی سے پہلے شراب نوشی کرتا تھا."

جی....!!! اس نے بہت حیرانی سے میری طرف دیکھا.

"یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں! مجھے تو آپ کہیں سے شرابی نہیں لگتے۔"

"اب کیسے لگ سکتا ہوں بھلا.. جب سے تم سے شادی ہوئی ہے ایک بار بھی نہیں پی، قسم لے لو۔"

مگر وہ بری طرح ڈر گئی تھی خوفزدہ ہو گئی تھی۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ "شراب نوشی حرام ہے، صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ! پلیز آپ اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیجیے۔" "ہاں ہاں ٹھیک ہے ۔ میں آئندہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔" میں نے اسے تسلی دی۔ مگر اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکا اور تین چار ماہ بعد پھر ایک دن دوستوں میں جا کر پی آیا۔ گھر میں داخل ہوا تو وہ عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی۔ مجھے اپنے لعنتی وجود سے گھن سی محسوس ہوئی۔ کیسی نیک صالح بیوی اللہ نے عطا کی اور میں کیا کرتا پھرتا ہوں۔ اس دن پکی توبہ کی اللہ سے۔ اور کافی عرصے بچا رہا مگر پھر بھی کبھی کبھار میں بہک جاتا تھا، سال دو سال بعد کبھی موقع ملتا تو دوستوں کے ساتھ تھوڑا بہت شغل میلہ کر ہی لیتا تھا۔ مگر اس بات کی بیوی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دیتا۔ چھے سات سال تک یہی معمول رہا اور پھر میں نے شراب مکمل طور پر چھوڑ دی۔ اب میری زندگی میں شراب کا کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے۔ میرے بچے بہت نیک صالح ہیں۔ ماں کی طرح نماز کے پابند ہیں۔ میں تو اب بھی ایسا ہی ہوں۔ کبھی کبھی مسجد چلا جاتا ہوں تو بہت سکون ملتا ہے ورنہ گھر پر ہی کبھی کبھار کا نمازی ہوں!

میں بس یہ سوچا کرتا ہوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:

"بیشک نماز روکتی ہے برائی اور بے حیائی کے کاموں سے"، اور میں تو اپنے تجربے سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نماز صرف نمازی کو ہی برائی سے نہیں روکتی، بعض اوقات دوسروں کی نماز بھی آپ کو بے حیائی اور بری باتوں سے بچا لیتی ہے۔ واقعی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر ہی برائی سے منہ موڑ لینے کو جی چاہتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میری بیوی کی دین داری، نماز کی عادت اور اس کے اچھے اخلاق نے مجھے شراب جیسی بری لت سے بچا لیا۔ اگر وہ بھی دوسروں کے جیسی ہوتی تو میری گھریلو زندگی کا بھلا کیا نقشہ ہوتا...!! مجھے سوچ کر بھی جھرجھری آتی ہے۔

میرا ایک اور دوست جو میرا ہی ہم عمر تھا جس کی بڑے امیر کبیر گھرانے میں شادی ہوئی تھی۔ بیوی بھی بڑی حسین تھی۔ مگر صرف حسین تھی، دین کی دولت نہ تھی اس کے پاس۔ وہ دونوں میاں بیوی بھی خوب موج مستی کرتے شرابیں پیتے گھر میں بھی شراب کی محفلیں سجاتے۔ جو کماتے اپنی عیاشیوں پر اڑا دیتے۔ تین بیٹے ہوئے ان کے جن میں سے ایک تقریباً آنکھوں سے اندھا ہو چکا ہے۔ اور میرا دوست خود کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی عمر سے کہیں بڑا نظر آتا ہے۔ اکثر پریشان رہتا ہے اس کا حال دیکھ کر مجھے عبرت ہوتی ہے ۔

اور آج میرا یہ دوست محمود کفن میں لپٹا ہوا میرے سامنے پڑا تھا، شراب نوشی نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔ گھر میں کہرام بپا تھا. سب کو یہ فکر تھی کہ اب بیوہ اور یتیم بچوں کا کیا ہوگا ۔ مگر شاید ہی کسی کو فکر ہو کہ اب اس بے چارے کا قبر میں کیا حال ہوگا؟ میت کے پیچھے رہ جانے والے اپنے لیے روتے ہیں، میت کی اگلی منزل کا خیال بھلا کتنے لوگوں کو ہوتا ہے!

آج سب کو بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کی پڑی ہے، مرنے والے نے کچھ نہ چھوڑا... کس کے سہارے جئیں گے؟ کون انھیں پوچھے گا؟ حالاں کہ ان کا سہارا تو جو پہلے تھا وہی اب بھی ہے۔ اصل فکر تو جانے والے کی کیجیے۔ سب اپنے رونے دھونے میں لگے ہیں مگر کون ہے جو دفن کے وقت قبر میں منکر نکیر کے سوالات میں اس کی ثابت قدمی کی دعا کرے۔ فرشتے اعمال دیکھ رہے ہیں جو ناپید ہیں اور دنیا والے مال دیکھ رہے ہیں جو کہ ہے نہیں۔

اس دنیائے فانی سے جو منہ موڑ گیا ہے

برسوں کے جو رشتے تھے سبھی توڑ گیا ہے

ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا

اور فکر عزیزوں کو ہے کیا چھوڑ گیا ہے!

مرنے والا تو مر گیا مگر زندہ لوگوں کے لیے عبرت چھوڑ گیا۔ آج شراب نوشی ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوتی جا رہی ہے۔ کتنے ہی لوگوں کو پھیپھڑوں اور جگر کے کینسر میں مبتلا ہو کر مرتے دیکھا ہے۔ اس شراب نے کتنے ہی گھرانوں کو تباہ کیا ہے مگر پھر بھی ہم اسے پیتے ہیں نام بدل بدل کر... اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں، یہ شراب تو نہیں یہ تو فلاں فلاں ہے۔ حالانکہ دل میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ سب شراب ہی کی قسمیں ہیں۔ مجھے اپنے علاقے کا وہ واقعہ بھی یاد ہے جب ایک تنظیم کے کسی بڑے ورکر نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر ایک معصوم لڑکی کی عزت کو تار تار کر دیا تھا۔ جہاں جس گلی میں اس معصوم کی دہائیاں گونج رہی تھیں وہیں کچھ عرصے بعد اس ورکر کی لاش پڑی سڑ رہی تھی. وہ ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔

آج بھی بہت لوگ شراب کے نشے میں دھت ہو کر ہر ناجائز اور حرام کام کررہے ہیں۔ مگر اپنے انجام سے بے خبر ہیں۔ سوچتے نہیں ہیں کہ ان سیاہ کاریوں کا کیا جواب دیں گے؟ آخرت کی ذلت و رسوائی اور دردناک عذاب سے کیسے بچیں گے۔ مگر میں بے خبر نہیں ہوں۔ میرے رب نے وقت سے پہلے ہی میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ میں اب اس حرام شے کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ بس اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں، اپنی نافرمانیوں سے مجھے بچا لے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے،آمین یارب العالمین!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */