ٹک ٹاک ٹھیک ٹھاک ہو گئی - حبیب الرحمن

خبریں پڑھنے اور سننے والے ایسی خبروں سے خوب اچھی طرح واقف ہونگے جن میں فحاشی کو فروغ دینے کیلئے شریفانہ اندازاختیار کرتے ہوئے ان مقامات کے پتوں کو غم و غصے کے ساتھ بیان کرتے ہوئے بڑی تفصیل کے ساتھ ہونے والی سر گرمیوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور اپیل کی جاتی ہے کہ ایسے مقامات پر جانے سے نہ صرف گریز کیا جائے بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے یہاں آنے والوں اور اس قسم کے اڈے چلانے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

بظاہر اس خبر کا مقصد بہت ہی نیک دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے پسِ پردہ بہت ہی مکروہ مقاصد ہوتے ہیں۔ اس قسم کی تمام خبریں ایک طرح کی اشتہار بازی ہوتی ہے جو کوئی پیسہ دھیلہ خرچ کئے بغیر پورے پاکستان اور خصوصاً ان اڈوں کے قرب و جوار میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں اور ارد گرد کے بدقماش لوگوں کیلئے تو خوشخبری کا سبب بن ہی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ آس پاس کے وہ نوجوان جو، ان سرگرمیوں میں بظاہر کوئی دلچسپی بھی نہ رکھتے ہوں، ان کے کان اینٹینے کہ طرح کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر ان میں جنم لینے والا تجسس اکثر کو گمراہ کر دینے کا سبب بھی بن جایا کرتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جن کو میٹھا کھانے کی عادت ہوتی ہے، انھیں کہیں نہ کہیں سے میٹھا مل ہی جایا کرتا ہے لہٰذا ایسی سرگرمیاں خواہ سات سمندر پار ہی کیوں نہ ہو رہی ہوں، ان کو اس کا علم ہو ہی جاتا ہے لیکن پھیلائی جانے والی خبروں کی وجہ سے ان بد کردار افراد کو بھی ایسے ٹھکانوں کو علم ہو جاتا ہے جو ان خبروں کے الم نشرح ہونے سے قبل بالکل ہی بے خبر ہوتے ہیں اور یوں ان کی بد قماشیاں مہمیز پاکر ان ٹھکانوں کی جانب متوجہ ہو جاتی ہیں۔

کچھ دنوں پہلے "ٹک ٹاک" اپلیکیشن پر پی ٹی اے نے پابندی عائد کرتے ہوئے اسے بند کر دیا تھا۔ ٹک ٹاک کے خلاف سوشل میڈیا سمیت ہر قسم کے میڈیا پر اس کے متعلق تبصرہ آرائی تو ہوتی ہی رہتی تھی اور اس بات پر دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ اس اپلیکیشن پر پابندی لگائی جائے کیونکہ اس کی وجہ سے نوجوان نسل کے بگڑ جانے کے خدشات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی بڑھتی ہوئی شکایات کی وجہ سے پی ٹی اے نے اس اپلیکیشن پر پابندی لگاتے ہوئے اس کو بلاک کر دیا تھا۔ جس طرح اس کو نشر کئے جانے پر پی ٹی اے پر اسے بند کردینے کیلئے بے حد دباؤ تھا، بند کردینے کی بعد اسے کھول دینے کیلئے بھی دباؤ آیا۔ ملک کے اندر سے شدید دباؤ آیا ہو یا نہ آیا ہو، بیرونی ممالک کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی اور اسے اظہار خیال پر بے جا پابندیاں قرار دیا گیا۔ پاکستان ایک آزاد و خود مختار ملک تو ضرور کہلاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی بہت ساری بیرونی جکڑ بندیاں ایسی ہیں جن کے سامنے اسے پسپائی اختیار کرنا ہی پڑ جاتی ہے۔

ٹک ٹاک پر لگی پابندیاں اندرونی دباؤ کی وجہ سے اٹھالی گئیں یا بیرونی دباؤ نے اپنا اثر دکھایا، یہ ایک الگ بحث طلب بات سہی لیکن ہوا یہ کہ پہلے اگر پاکستان میں کچھ افراد اس اپلیکیشن کی خباثت سے واجبی سے واقف تھے یا بیشمار پاکستانی سرے سے اس کے متعلق کچھ جانتے ہی نہیں تھے، پابندی لگ جانے کی وجہ سے پورا پاکستان اس بات سے واقف ہو گیا کہ وہاں ضرور کوئی ایسا ماحول موجود ہوگا جس کی وجہ سے پی ٹی اے اسے بند کر دینے پر مجبور ہوا۔ یہ پابندی ایک ایسا اشتہار بن گئی جس نے اس اپلیکیشن کی ساری حشر سامانیاں عریاں کرکے بالکل ناواقف افراد کی توجہ کو بھی اپنی جانب مبزول کر لیا اور اب اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ وہ افراد جن کو یا تو علم ہی نہیں تھا یا وہ ایسی سرگرمیوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے، پابندیاں اٹھ جانے کے بعد اس میں اپنی دلچسپی لیتے ہوئے نظر آنے لگیں گے۔

گمراہ کر دینی والی سر گرمیوں میں دلچسپی لینے والے افراد نہ صرف کئی اقسام کے ہوتے ہیں بلکہ وہ کئی طرح کے جواز بھی رکھتے ہیں۔ کچھ تو وہ ہیں جو اس قسم کی سر گرمیوں کو نہ تو کوئی گناہ کا کام سمجھتے ہیں اور نہ ہی غیر اخلاقی حرکت۔ کچھ اسے غلط تو سمجھتے ہیں لیکن اپنی خواہشوں کے غلام بن چکے ہوتے ہیں۔ غرض ایسی سر گرمیاں معاشرے کے اخلاقی بگاڑ کا سبب بن جاتی ہیں اور اخلاقی انحطاط خاندانی نظام کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ سنجیدہ افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ معاشرے کو ایسی سرگرمیوں سے بچا کر رکھا جائے اس لئے وہ ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور نوجوان نسل کو ایسے لوگوں کی پرچھائیوں تک سے بچا کر بھی رکھنا چاہتے ہیں۔

پی ٹے اے نے اگر اس پر پابندی لگاہی دی تھی تو پھر اس پابندی کو کسی کے دباؤ میں آکر اٹھا نہیں لینا چاہیے تھا۔ پابندیاں لگانے کا اعلان بہت سارے کان کھڑے کر گیا تھا۔ پابندیاں بر قرار رہنے کی صورت میں، واقف و نا واقف مزید حدود پھلانگنے سے بچے ہی رہتے لیکن پی ٹی اے نے پابندیاں لگاکر جس اشتہا کو بھڑکایا تھا، پابندیاں اٹھ جانے کی وجہ سے ان ہی احتیاجات کی تسکین کی خواہش، اس اپلیکیشن کو دیکھنے پر ضرور مجبور کریگی۔ بہر کیف وہی "ٹک ٹاک" جس کی ٹھوک ٹھاک کرنے کی ٹھان لی گئی تھی، وہ پی ٹی اے کی نظر میں ٹھیک ٹھاک ہو گئی لیکن یہ بات کسی کو سمجھ میں آکر نہیں دے رہی کہ پابندیاں لگائی ہی کیوں گئیں تھیں اور اگر اب اس اپلیکیشن کو مادر پدر آزادی دیدی گئی ہے تو اس کی پیچھے کن کن عناصر کا ہاتھ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */