کوئی تو ہو جو مسیحائی کرے - شہربانو

آئے روز ہمارے معاشرے میں بےشمار اور لا تعداد ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو دل کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں. جن پر ہر آنکھ اشک بار اور عقل دنگ ہو کر رہ جاتی ہے.جن کا شکار نہ صرف خواتین بلکہ معصوم بچے اور ننھی کلیاں بھی ہیں.جن کی عمراٹکھیلیاں کرنے کی تھی.نجانے کب وہ جنگلی لیٹروں اور بھیڑیوں کی زد میں آگئیں.ایسے واقعات سے با خبر ہو کر ہم کچھ دیر کے لیے اس کا درد کرب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کو بھول کر اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں.شاید کسی نے سچ ہی کہا ہے

جگہ وہ جلے جہاں آگ لگے'

کتنی ایسی مائیں ہیں جن کی گودیں اجڑ گئیں،کتنی بہنیں اور بیٹیاں جن کی عزتیں پامال ہو کر رہ گئیں .کیا خبر تھی ان کو کہ اذیت ناک موت اور ذلت ورسوائی ان کی منتظر کھڑی ہے.یہ کیسی ہوس ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی.”حکم تو نفس مارنے کا تھا،ہم نے ضمیر ہی مار ڈالے“.کیوں نہ ان درندہ صفت ملزمان کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا گیا.کیوں نہ اس ریاست مدینہ میں قرآن و سنت کے احکامات کو لاگو کیا گیا.کیوں نہ ان بے بس،لاچار اور متاثرہ اہل خانہ کو انصاف دلوایا گیا. جو ملک کی عدالت عظمیٰ سے مسیحائی کی منتظر تھے. کیوں نہ اس وقت حشر تپایا گیا. جس کی وجہ سے حالات اس حد تک شدت اختیار کر گئے اور جنسی زیادتی کے گھناؤنے جرائم انتہا کو پہنچ گئے کہ 10 ستمبر 2020 کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا واقعہ انتہائی دردناک تھا. جس پر انسان تو کیا انسانیت ضرور شرمائی ہو گی.

میڈیا پر ان جرائم کی طرف توجہ پہلے بھی مبذول کروائی گئی مگر ان جانوروں سے بدتر صفت کے حامل مجرموں کو سزائیں نہ دی گئیں اور کبھی بے انصافی کے فیصلے کر کے حقداروں کو ان کے حقوق سے محروم اور احساس مجبوری اور غم و الم کا لقمہ بنایا جاتا ہے.کوئی تو ہو جو مسیحائی کرے. ایمان کے بعد انسان کی سب سے زیادہ قیمتی اور انمول چیز اس کی عزت و آبرو ہے. بسا اوقات لوگ اپنی عزت بچانے کے لئے جان دے دیتے ہیں اور آج کل ہمارے اس غلیظ معاشرے میں بےگناہوں کی عزتوں پر حملے کر کے ان کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے اورپھر غیر ذمہ دار لوگ بڑے آرام سے دوسروں کے بارے میں تنقید و تبصرہ اور ان پر کیچڑ اچھالتے ہیں. جن کے بارے میں ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا. سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں.

موجودہ دور کے حکمرانو!یاد رکھیں اگر آپ لوگوں کی حکومت میں بے گناہ لوگوں کو آنے والے راستے پہ پتھر سے چوٹ پہنچتی ہے تو اس کا حل مرہم پٹی دوائی میں نہیں بلکہ اس پتھر کو راستے سے ہٹانا ہے. تاکہ اس کی لپیٹ میں آ کر مزید بے گناہ نہ روندے جائیں. اگر ارباب عقل و دانش نے اس طرح کی ظلم و زیادتی پر کوئی قدم نہ اٹھایا تو بہت جلد ہمارا رہا سہا سکون بھی غارت ہوجائے گا۔ بلکہ گھروں تک کا سکون و اطمینان بھی تباہ ووبرباد ہو جائے گا...

زمین کیا یہی باقی تھا غضب ڈھانے کو
لا کے زیادتیوں میں جو رکھا ہمیں تڑپانے کو

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */