نواز شریف اور 12 اکتوبر 1999 - حسان بن ساجد

سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف کو اللہ‎ رب العزت نے 3 مرتبہ وزارت عظمیٰ کا منصب عطا کیا مگر بد قسمتی سے تینوں مرتبہ نواز شریف اپنی پانچ سالہ مدت پوری نا کرسکے۔ نواز شریف نے ہمیشہ اداروں سے لڑائی کو فوقیت دی جبکہ شہباز شریف و چوہدری نثار علی خان نے ہمیشہ صلاح کی طرف نواز شریف کو مائل کرنے کی کوشش کی۔ یوں توں تاریخ پاک میں تین مارشل لا لگے جن میں جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا شامل ہیں۔

اگر تینوں کو غور سے دیکھا جاۓ تو حالات و حکمت نے فوجی جنریلوں کو مارشل لا لگانے پر مجبور کیا۔ اگر 1999 مشرف کے مارشل لا کو دیکھا جاۓ تو اسکی اصل وجہ کارگل محاذ تھا۔ جب لاہور مینار پاکستان میں واجپای اور نواز شریف امن و مذاکرات کی بات کر رہے تھے۔ ادھر کارگل محاذ شروع ہو چکا تھا جس کو بقول نواز شریف انھیں نہیں پتا تھا جبکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے مطابق نواز شریف کو اس متعلق علم تھا۔ کارگل محاذ پر مجاہدین کی جنگ اور بھارت کی جانب سے ہیوی آرٹلری اور جنگی جہازوں کے استعمال سے کارگل کے جوانوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ دوسری جانب پاکستان اپنے ہی سپاہیوں کو مجاہد کہہ رہا تھا۔ نواز شریف نے دورہ امریکا میں صدر۔بُش سے ملاقات کی اور معاملات طے کرواے۔ نواز شریف صرف الجھی ہوی گتھی کو سلجھانے تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ آرمی کے خلاف کاروائی اور دشمنی پر اتر آے تھے۔

اس سے قبل جنرل کرامت سے بھی نواز شریف کی رنجش اور اختلافات اس حد تک بڑھے کہ جنرل کرامت کو مستعفی ہونا پڑا اور تب جا کر نواز شریف نے جنرل مشرف کو آرمی چیف منتخب کیا۔ نواز شریف شروع سے اداروں پر مسلط ہونے کی کوشش کرتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اپنی مدت بھی پوری نہیں کرسکے۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے رنجش اور پھر بڑھ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان پر حملہ بھی نواز شریف و پارٹی کا کارنامہ ہے۔ بہر حال کارگل محاذ کے بعد نواز شریف آرمی چیف کو کسی بہانے سے فارغ کر کہ کاروائی پر بضد تھے۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف اور نواز شریف میں معاملات کو درست کرنے کے لیے شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان اور انکے بھائی جنرل افتخار علی خان نے بے حد کوششیں کیں مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نا ہوسکی۔

نواز شریف اس قدر بضد تھے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورہ سری لنکا کے دوران انہوں نے آرمی چیف کی تبدیلی کے لیے اقدامات کیے۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب جنرل پرویز مشرف وطن واپس آرہے تھے نواز شریف نے اس وقت لیفٹنٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو فور سٹار جنرل بنا کر آرمی چیف منتخبی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ جنرل پرویز مشرف اس وقت فضا میں تھے کہ نواز شریف و حکومت پاکستان نے جہاز کو کسی اور جگہ لینڈ کروانے کا حکم دیا۔ ہوائی جہاز کراچی ایئر پورٹ کے ارد گرد چکر لگاتا رہا مگر جہاز جو اترنے نہیں دیا گیا۔ ادھر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ زمین پر ضروری اقدامات میں مصروف ہوگئے اور ایک تجزیہ کے مطابق جنرل پرویز مشرف ایسی صورت حال پر اپنے ساتھیوں کو ٹھوس اقدامات کرنے کا حکم دے گئے تھے۔ ابھی جنرل پرویز مشرف فضا میں ہی تھے کہ ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہو کر نواز شریف، لیفٹنٹ جنرل ضیاء الدین بٹ و دیگر کو گرفتار کرلیا۔

ادھر پرویز مشرف کا ہوائی جہاز کراچی ایئر پورٹ پر لینڈ کر چکا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے پی۔ٹی۔وی پر مارشل لا کا اعلان کیا اور نواز شریف و دیگر کے خلاف کے کاروائی عندیہ دیا۔ نواز شریف، شہباز شریف و دیگر کو اٹک قلعہ جیل میں منتقل کردیا گیا مگر پھر ہم نے دیکھا کہ سعودی عرب کی مداخلت پر نواز شریف 10 سال معاہدے پر باہر چلے گئے اور اس طرح نواز شریف کو ایک موقع مل گیا۔ 2007 میں نواز شریف و دیگر کی واپسی این۔آر۔اؤ کے تحت تو ہوئی ساتھ ہی جنرل پرویز مشرف کو آرمی یونیفارم چھوڑنا پڑا اور ساتھ ساتھ 2008 میں وفاق و سندھ میں پیپلزپارٹی کو اکثریت ملی جبکہ پنجاب میں ن لیگ کی حکومت بنی۔ اسی طرح کے۔پی۔کے میں اے این۔پی و جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مخلوط حکومت بنی۔ 2013 میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوے مگر اس مرتبہ پھر وہ اداروں سے لڑائی پر بضد تھے۔

انہوں نے ماضی سے کچھ نا سیکھا بلکہ اپنی ضد و انا کو جاری رکھتے ہوے سابق صدر و آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کی کاروائی کی۔ ادھر اپنے سیاسی مخالفین سے اس حد تک دشمن مول لی کہ قتل و غارت گری پر اتر آے۔ 2014 میں جب ڈاکٹر طاہر القادری و چیئرمین۔پی۔ٹی۔آئ عمران خان حکومت مخالف تحریک چلانے لگے تو 17 جون 2014 کو پنجاب حکومت نے عوامی تحریک کے 17 کارکنان جن میں دو خواتین اور ایک حاملہ خاتون کو شہید بھی کیا اور ساتھ ساتھ 100 سے زائد لوگوں کو زخمی کردیا۔ اس کی ایف آئی آر کے لیے طاہر القادری کو اسلام آباد لانگ مارچ اور پھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مداخلت پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ خیر سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس ایک الگ موضوع ہے کہ اس پر آج تک انصاف کیوں نہیں مل سکا؟ اسی طرح ڈان لیکس نے ایک مرتبہ پھر نواز شریف و پاک فوج کے درمیان دیوار کھڑی کردی۔ اسی طرح پانامہ لیک کے بعد نواز شریف کی نا اہلی و پارٹی صدارت سے فارغ ہونے کے بعد آج کے دن تک نواز شریف اداروں بلخصوص اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ لیے ہوے ہیں۔

اپنے دور حکومت میں نواز شریف ایک مرتبہ بھی بھارتی سرحدی جارحیت سے لے کر کلبھوشن یادیو سے متعلق ایک جملہ نہیں نکال سکے۔ اس وقت اطلاعات کے مطابق 4 عالمی اسٹیبلشمنٹز کے ساتھ ملکر ملک کے خلاف خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ ان ممالک میں بھارت سر فہرست شامل ہے۔ میری سمجھ سے بالا ہے کہ ساری زندگی اس ملک کا کھانے والا آج کس طرح اور کیوں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹز کا آلہ کار بنا ہوا ہے؟ ہمیشہ نواز شریف کو ملکی اسٹیبلشمنٹ سے ہی کیوں تکلیف رہتی ہے؟ اس فوج جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک و قوم کی خاطر لڑتی ہے۔ جو دہشت گردی کا خاتمہ بھی کرتی ہے تو ساتھ ساتھ آپریشن ردالفساد سے ملک میں امن لاتی ہے۔

اسی طرح زلزلہ ہو یا سیلاب پاک فوج کی گاڑیاں اور سروسز تیار ہوتی ہیں تو وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی اداروں کی گاڑیاں و سروسز کیوں تیار نہیں ہوتیں؟ آج ایک مرتبہ پھر اپوزیشن جماعتیں پاکستان کے خلاف ایک کھیل کھیل رہی ہیں اور بھارت کا ساتھ دے رہی ہیں۔ کس وقت پاکستان FATF کی گرے لسٹ میں ہے بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کروانا چاہتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اگر اپوزیشن ملک میں امن و امان کو تباہ کرتی ہے تو یقینا" ملک بلیک لسٹ بھی ہوسکتا ہے۔ ہمیں ماضی سے سیکھ کر مثبت و مستحکم مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اللہ‎ اس ملک کو قائم و دائم و خوش حال و آباد رکھے۔آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */