خوف خلق اور خوف خدا- ارشاد احمد عارف

موٹر وے زیادتی کیس پر قوم مشتعل ہے اور شرمندہ بھی‘ اشتعال کا سبب بار بار ایسے واقعات کا ظہور اور ریاستی اداروں کی روک تھام میں ناکامی ہے اور باعث ندامت یہ احساس کہ نام ہم اسلام کا لیتے ہیں‘مشرقی اقدار کی مالا جپتے ہیں اور اپنی غیرت و حمیّت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں مگر برداشت اپنے اردگرد ایسے درندوں کو کرتے ہیں جو معصوم بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے علاوہ مائوں کو اپنے بچوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بناتے اور فرار ہو جاتے ہیں۔عابد ملہی کے معاملے میں غصّہ اور احساس ندامت اس بنا پر روز افزوں ہے کہ یہ درندہ 2013ء سے خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا ہے مگر پولیس نے اسے زنداں میں ڈالا نہ ہمارے نظام عدل نے عادی مجرم سے تعرض کیا اور نہ 2013ء سے اب تک حکمرانی کا لطف اٹھانے والوں میں سے کسی کے کان پر جوں رینگی‘ یہ سانحہ بھی موٹر وے کے قریب وقوع پذیر نہ ہوتا‘ خاتون ایف آئی آر نہ کٹواتی اور میڈیا شور نہ مچاتا تو عابد ملہی اور اس کے ساتھی آزادی سے شریف شہریوں کی عزت مآب بہو‘ بیٹیوں‘بہنوں کی عصمت دری میں مگن رہتے کہ حوصلے ان کے بلند تھے اور قانون کے علاوہ قانون کے رکھوالے ان کے سامنے بے بس۔ قوم کے غصّے اور شرمندگی کا مظہر یہ عوامی مطالبہ ہے کہ موٹر وے سانحہ میں ملوث دونوں ملزموں کو سرعام پھانسی دی جائے جس کی تائید وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھی بھی کر رہے ہیں‘ آج اگر کوئی ملکی یا بین الاقوامی ادارہ سروے کرائے تو مجھے سوفیصد یقین ہے کہ پچانوے فیصد سے زائد پاکستانی سرعام پھانسی کی تائید کریں گے اور ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ بھی۔ چند سال پیشتر ایک انگریزی جریدے نے یہ اعتراف کیا تھا کہ ملک کے 88فیصد عوام پاکستان میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو‘ شیریں مزاری اور پیپلز پارٹی کے بعض دوسرے رہنما جنہیں پاکستانی عوام کے جذبات و احساسات سے آگہی نہیں ‘سرعام پھانسی کی مخالفت کر رہے ہیں مگر سابق وزیر داخلہ رحمان ملک اس کے حق میں ہیں جبکہ ریاست مدینہ کے علمبردار عمران خان کی کابینہ کے ایک دو ارکان سرعام پھانسی ہی نہیں بلکہ سزائے موت کے خلاف ہیں اور اپنے موقف کے حق میں دور ازکار دلیلیں لارہے ہیں‘ یہ منطق لاجواب ہے کہ سخت سزائوں بالخصوص پھانسی سے متشددانہ اور انتہا پسندانہ رویے جنم لیتے ہیں۔ حالانکہ جنسی جرائم بالخصوص بچیوں اور بچوں کے ساتھ درندگی کے بعد قتل کے زیادہ تر واقعات ان ممالک میں ہوتے ہیں جہاں سزائے موت ممنوع ہے سرعام پھانسی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تازہ ترین رپورٹ میں نارڈک(ناروے‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ اور سویڈن) ممالک میں جنسی جرائم کی شرح کو بلند ترین سطح پر ظاہر کرتے ہوئے اس کا سبب قانونی خامیوں اور نظام عدل میں موجود کمزوریوں کو قرار دیا ہے۔ یہ رپورٹ ان دانشوروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو نارویجن ممالک میں انسانی حقوق کی پاسداری‘ ترقی وخوشحالی اور سخت قوانین کی عدم موجودگی کی بنا پر انہیں جنت نظیر قرار دیتے نہیں تھکتے۔امریکہ کی جن ریاستوں میں پھانسی کی سزا نافذ ہے وہاں سنگین جرائم بالخصوص خواتین کے ساتھ زیادتی کا تناسب کم ہے اور یہی حال یورپ کا ہے‘ حالانکہ وہاں نہ تو گھٹن کا ماحول ہے اور نہ زنا بالرضا کی ممانعت‘ اس کے باوجود خواتین دفتروں اور تجارتی مراکز میں زیادتی کا نشانہ بنتی اور مائیں اپنی بچیوں کو شراب نوش خاوندوں سے بچاتی پھرتی ہیں۔سعودی عرب کی مثال دیتے ہوئے ہم شرماتے ہیں کہ کہیں ہم پر بادشاہت‘ خاندانی آمریت اور اسلام کے قوانین حدود و قصاص کی پاسداری کا الزام نہ لگ جائے۔

یہ بجا کہ پولیس کی تربیت ضروری ہے‘ نظام عدل کی اصلاح کی جائے اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے‘ ملزموں کی فوری گرفتاری اور کم سے کم وقت میں مقدمہ کا فیصلہ بھی سنگین جرائم میں کمی لانے کے لئے ازبس لازم ہے لیکن جب تک یہ سب کچھ نہیں ہوتا کیا جنسی درندوں کو کھلی چھٹی دیے رکھنا داشمندی ہے؟ ؎ کہاں سے لائوں صبر حضرت ایوب اے ساقی خم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا موجودہ بگاڑ کو روکنے میں عبرت ناک سزائوں کا نفاذ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ اصول نافذ ہے کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات‘ لندن میں ہنگاموں کو روکنے کے لئے سرسری سماعت کی عدالتیں قائم ہوئیں جنہوں نے خلاف معمول راتوں کو کام کیا مگر پاکستان میں ایک ایسی ڈھیٹ اور بے حیا نسل تیار ہو چکی ہے جو ہر اس کام میں روڑے اٹکانا فرض سمجھتی ہے جس سے سماج میں مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اس بے شرم طبقے کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ بچوں کے روبرو ماں‘ باپ کے سامنے بیٹی سے گینگ ریپ کے مرتکب افراد کو سخت سزا ملنے سے سماج میں تشدد اور انتہا پسندی کیسے جنم لے گی؟کیا اس قدر قابل نفرت جرم کے مرتکب افراد کو جیل میں ریاست کا گھر داماد بنا کر بٹھانے سے دوسرے جنسی درندوں کو یہ ترغیب نہیں ملے گی کہ وہ کچھ بھی کر گزریں زیادہ سے زیادہ سزا جیل میں مفت کی دال روٹی ہے جبکہ سخت سزا سے ہی خوف پیدا ہوتا ہے۔صرف گینگ ریپ ہی نہیں‘ مسلح گروہوں کا شہریوں کی جائز کمائی سے بنائی گئی جائیدادوں پر قبضہ‘ قتل و غارت گری بھی فساد فی الارض ہے جس کی سزا جس قدر سخت ہو گی اتنی ہی موثر اور مفید۔

میری ناقص رائے میں تو عمران خان جنسی درندوں کو نامرد کرنے کا جو فارمولا پاکستان میں نافذ کرنے کے درپے ہیں وہ بھی مفید نہیں‘ بلکہ کئی مفاسد کا باعث بنے گا۔ یورپی ممالک اس پر تنقید کریں گے اور شاید جی ایس پی سٹیٹس پر بھی اثر انداز ہو‘ بہتر یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر‘کسی دبائو کی پروا کیے بغیرسرعام سزا نافذ کریں اور مقدمات کا فیصلہ دو تین ہفتوں میں ممکن بنایا جائے چار چھ جنسی درندے سرعام پھانسی چڑھے تو انشاء اللہ ہماری مائیں بہنیں‘ بیٹیاں محفوظ اور پاکستان میں جنسی جرائم کی شرح بہت کم‘جب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور عصمت مآب خواتین کی عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے ریاست نے کوئی قدم اٹھایا تو رحمتوں کا نزول ہو گا اور مظلوموں کی دعائیں خیرو برکت کا باعث بنیں گی۔ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ جتنا ہم امریکہ و یورپ اور ان کے مقامی گماشتوں سے ڈرتے ہیں کاش اس کا عشر عشیر خوف خدا اپنے اندر پیدا کریں اور یہ سوچیں کہ روز قیامت ہم حضوور سرور کائنات شفیع المذنبین کو کیا مُنہ دکھائیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */