دعویٰ کرنا کون سا مشکل کام ہے؟ خالد مسعود خان

اگر مجھ سے کوئی یہ سوال کرے کہ موجودہ حکومت کیا کر رہی ہے تو میں اپنی پوری ایمان داری سے کہوں گا کہ یہ حکومت احتساب کے نام پر اپنی نا اہلی کے طفیل قوم و ملک کا وقت اور پیسہ برباد کر رہی ہے۔ اس کا صرف یک نکاتی ایجنڈا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی کرپشن اور لوٹ مار کا حساب کرنا ہے۔ مجھے اس بات سے اختلاف نہیں کہ گزشتہ ادوار میں بے پناہ کرپشن بھی ہوئی ہے اور لوٹ مار بھی‘ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ان نا اہلوں سے یہ اظہر من الشمس قسم کی لوٹ مار بھی ثابت نہیں ہو رہی۔ نہ ماضی کی خرابیاں ٹھیک ہو رہی ہیں اور نہ ہی آگے کا کوئی کام ٹھیک سے ہو پا رہا ہے۔ نا اہلیت اور نالائقی کی اگر کوئی انتہا دیکھنی ہو تو موجودہ حکومت کی کارکردگی کو دیکھ لیں۔
عمران خان صاحب کا دعویٰ تھا کہ میاں نواز شریف اینڈ کمپنی نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا تھا، اداروں کو ذاتی ملکیت اور سرکاری ملازمین کو ذاتی ملازم بنا کر رکھ دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جب وہ آئیں گے تو اداروں کو ان کی شان کے مطابق بحال کریں گے‘ میرٹ پر لوگ لگیں گے اور ادارے ریاستی فرائض انجام دیں گے نہ کہ حکمرانوں کے ذاتی مفادات کا تحفظ کریں گے۔ تب ایک بات جو وہ بڑے تواتر سے کہتے تھے یہ تھی کہ بہت سے سرکاری ادارے باقاعدہ سربراہوں سے محروم ہیں‘ ڈنگ ٹپائو کام چلایا جا رہا ہے‘ اول تو ادارے کا باقاعدہ سربراہ موجود نہیں‘ اگر کسی کی تعیناتی کی بھی گئی ہے تو وہ عارضی ہے اور میرٹ کے بجائے ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر کی گئی ہے اور ذاتی پسند نا پسند کیا ہے؟ ذاتی تابعداری اور وفاداری اس پسند اور نا پسند کا پیمانہ ہے۔ عمران خان صاحب کا دعویٰ تھا کہ اداروں کی توقیر اور خود مختاری بحال ہو گی‘ پسند نا پسند کے بجائے صرف میرٹ ہی پیمانہ ہو گا اور حکمرانوں کی مداخلت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس دعوے کا بھی وہی حشر ہوا جو باقی وعدوں اور دعووں کا ہوا۔

ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں تقریباً ستائیس زرعی تحقیقی اداروں کے سربراہوں میں سے بیس سے زائد کے پاس اس وقت عارضی چارج ہے‘ یعنی بیس ادارے کل وقتی اور مستقل سربراہان سے محروم ہیں۔ ریسرچ کے اداروں کا یہ حال ہے کہ جس جگہ پر کبھی پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ جیسی تعلیمی اور تحقیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کام کیا کرتے تھے اور اپنا ادارہ چلاتے تھے اب ان پوسٹوں پر ایسے ایسے نہلے اور فارغ لوگ بٹھائے گئے ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہی‘ بندہ حیران ہو کہ پریشان؟ مثلاً ملتان کے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ جہاں کبھی ڈاکٹر ظہور احمد اور ڈاکٹر محبوب علی جیسے نامور زرعی سائنس دان اس تحقیقی ادارے کی سربراہی کیا کرتے تھے‘ اب وہاں کی عارضی سربراہی ایک درمیانے سے پروفائل کے حامل شخص کے پاس ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ باقی تحقیقی اداروں میں بھی یہی حال ہے۔ اسی لیے زراعت کا برا حال ہے اور ایک زرعی ملک کو یہ صورتحال در پیش ہے کہ گندم، چینی اور کپاس اس سال درآمد کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں حکومت کرتے اب سات سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ وہاں تو انہیں کام کرنے کے لیے ما شا اللہ خاصا وقت میسر آ گیا تھا۔ گزشتہ پانچ سال اور اقتدار کے حالیہ دو سال، یہ پورے سات سال ہو گئے۔ یہاں کسی کو بھی دوسری بار حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا۔

تحریک انصاف اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہے کہ اس نے یہ ریکارڈ توڑا اور لگاتار دوسری بار حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی‘ بلکہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں لے کر حکومت میں آئی۔ وہاں صورتحال یہ ہے کہ سولہ یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلر ہی موجود نہیں۔ اب بندہ پوچھے کہ وائس چانسلر لگانے میں کیا امر مانع ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ کوئی مستقل وائس چانسلر تعینات نہیں کیا جا رہا؟ کیا تعلیم اب اس درجہ کم ترجیحی معاملہ ہے کہ حکومتِ وقت کے پاس اعلیٰ ترین تعلیمی درجے کے حامل سولہ تعلیمی اداروں میں وائس چانسلرز مقرر کرنے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی خیال یا ارادہ۔ آخر ان یونیورسٹیوں میں کل وقتی وائس چانسلر تعینات کرنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ کیا ملک میں اس معیار کے ماہرینِ تعلیم اور انتظامی تجربہ رکھنے والے لوگ ختم ہو گئے ہیں؟ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کام حکومت کی ترجیحات میں کہیں نچلے درجے پر ہے اور انہیں اس کام کی نہ جلدی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی دلچسپی۔ معاملات سے لا تعلقی کا یہ عالم ہے کہ نہ صرف انہیں نئی تقرریوں سے کوئی غرض نہیں بلکہ نا اہلی، نا لائقی اور اسی قسم کی دیگر خرابیوں کے حامل لوگوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی بھی فرصت نہیں ہے۔

سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے سلسلے میں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کی پوری کہانی بڑی لمبی ہے مگر کہانی سے زیادہ لگتا ہے وہ ہاتھ لمبے ہیں‘ جنہوں نے ان کے کیس کو پوری طاقت کے ساتھ اس طرح دبا رکھا ہے کہ دو عدد بہت ہی اعلیٰ پیمانے کی کمیٹیوں کی تحقیق و سفارشات کھڈے لائن لگی ہوئی ہیں۔ ان کے خلاف ویسے تو ان کی تعیناتی کے پہلے سال ہی ناتجربہ کاری، اقربا پروری، ماورائے قواعد اقدامات اور مس کنڈکٹ کی درخواست اینٹی کرپشن اور نیب میں پہنچ گئی تھی مگر حسب معمول اس شکایت پر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ مئی 2019ء میں ایک صاحب نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو خط لکھ کر مندرجہ بالا شکایات درج کروائیں کہ سرگودھا یونیورسٹی کی رینکنگ آٹھویں سے سینتیسویں نمبر پر چلی گئی ہے۔ یونیورسٹی کا 200 بستروں پر مشتمل ہسپتال اورخوش آب منرل واٹر جیسے منافع بخش ادارے پرائیویٹ سیکٹر کے ایما پر بند کر دیئے گئے ہیں۔ اپنے دوست احباب کو کوئی اشتہار دیئے اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر بھرتی کیا گیا ہے۔ ایک دوست کو براہ راست ڈائریکٹر اور دوسرے کو چار لاکھ ماہانہ پر ملازم رکھ لیا ہے۔ 17 مئی 2019ء کو وزیر اعلیٰ نے اس خط پر ایکشن لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم (CMIT) کو تحقیقات کا حکم دیا۔ اس ٹیم نے مئی تا اکتوبر 2019ء اس شکایت پر مکمل اور تفصیلی چھان بین کی اور 18 اکتوبر کو اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو جمع کروا دی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ رپورٹ مزید کارروائی کیلئے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بھجوا دی؛ تاہم اس دوران دو تین سیکرٹری تو تبدیل ہوئے لیکن رپورٹ پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

بالآخر مشکل سے دسمبر 2019ء میں Hearing officer مقرر کرنے کا لکھ کر فائل واپس بھجوا دی گئی‘ لیکن اس تقرری میں پورا ماہ لگ گیا اور تقرری کے بعد افسر مجاز کو نوٹیفکیشن ملنے میں مزید دو ماہ لگ گئے۔ Hearing officer نے جون میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور موصوف پر لگنے والے سارے الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے واضح طور پر لکھ دیا کہ وائس چانسلر اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دینے میں ناکام رہے۔ اس کے علاوہ بھی الزامات کی ایک لمبی فہرست جو بے ضابطگیوں، اقربا پروری، مس کنڈکٹ اور بے اصولیوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے آخر میں افسر مجاز نے وائس چانسلر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی اور کہا کہ موصوف کو واپس ان کی یونیورسٹی بھیجا جائے اور مزید تادیبی کارروائی کی جائے لیکن یہ رپورٹ اور سفارشات بھی کہیں فائلوں میں دبی پڑی ہیں۔
عجب نیا پاکستان بنا ہے کہ اس حکومت سے نہ تو کل وقتی وائس چانسلر مقرر ہو رہے ہیں اور نہ ہی درجن بھر الزامات کا حامل وائس چانسلر فارغ ہو رہا ہے۔ نہ ان میں بندہ لگانے کی صلاحیت ہے اور نہ بندہ نکالنے کی ہمت۔ اوپر سے دعویٰ یہ ہے کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ہے۔ تاہم بقول شاہ جی دعویٰ کرنا کون سا مشکل کام ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */