مولو کا گدھا - ببرک کارمل جمالی

بلوچی لوک کہانی

وہ دنیا کا پہلا گدھا تھا جو سیٹی پر رکتا اور چلتا تھا۔۔۔۔ وہ گدھا نہیں عجوبہ تھا۔۔۔۔ اس کا مالک دبلا پتلا شخص تھا۔۔۔۔ سب لوگ اسے ”مولو“ کہتے تھے۔۔۔۔ اس کا اصل نام تو مولا بخش تھا۔۔۔۔ مگر سب پیار سے مولو کہتے تھے۔۔۔۔
مولو جب پانچ سال کا تھا۔۔۔۔ تو اس نے ایک گدھا پالا۔۔۔۔ وہ گدھا مولو کی طرح بڑا ہوتا گیا۔۔۔۔ مولو نے گدھے کو اتنا سمجھایا۔۔۔۔ اتنا سمجھایا۔۔۔۔ کہ جب مولو سیٹی بجاتا تو گدھا سیدھا دوڑتا ہوا مولو کے پاس پہنچ جاتا تھا۔۔۔۔

مولو ہمیشہ گلیوں اور راستوں پر اپنے گدھے کے ساتھ نظر آتا تھا۔۔۔ مولو کے گدھے کا یہ معمول بن چکا تھا کہ وہ روزانہ کسی نہ کسی کے کھیت میں جاتا اور وہاں کھڑے فصلوں کو نقصان پہنچانے کے بعد مولو کی سیٹی سنتے ہی واپس مولو کے پاس پہنچ جاتا۔۔۔ مولو جہاں بھی جاتا گدھا اس کے پیچھے پیچھے چلا آتا۔۔۔ ہر روز شام کے وقت محلے کے بچے بڑے جوان لونڈے لفنگے گلی میں مولو کے گدھے کے گرد جمع ہوجاتےتھے۔۔۔ ہر شخص کہتا میں مولو کے گدھے کو کنٹرول (قابو) کروں گا۔۔۔ اور وہ شخص مولو کے گدھے پر سوار ہو کر بمشکل پانچ سے دس قدم سفر کرتا۔۔۔ تو۔۔۔۔ مولو سیٹی بجاتا۔۔۔ فی الفور گدھا اس شخص کو گرا کر مولو کے پاس پہنچ جاتا۔۔۔

ہر روز شام کو کوئی نہ کوئی شخص مولو کے گدھے کو قابو کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔۔۔ مگر مولو کا گدھا مولو کی سیٹی پر چلتا تھا۔۔۔۔ ایک روز مولو کا گدھا مر گیا۔۔۔ مولو بہت چیخا۔۔۔ چلایا ۔۔۔ اور رویا۔۔۔ مگر گدھا تو مرگیا۔۔۔ مولو نے گدھے کو مٹی میں دفن کردیا۔۔۔ پھر مولو نے بہت سے دوسرے گدھے خریدے۔۔ مگر کوئی بھی گدھا مولو کےسیٹی پہ نہیں چلتا تھا۔۔۔ تو مولو نے اس روز سے گدھوں کے پالنے کا شوق ختم کردیا۔۔۔۔ اور سیٹی بھی توڑ دی!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */