آج کل لیموں کے بھاو کیا ہیں - سعدیہ مسعود

مجھے آج کل اپنی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے استاد حمید صاحب بہت یاد آ رہے ہیں۔ ہماری کلاس ایم فل کے پہلے سال کے اختتام پر ان کے مضمون پاکستان پولیٹکس پر اپنی اسائینمنٹ جمع کروا رہی تھی۔ نجانے کیا سوچ کر حمید صاحب نے کہا،” آپ سب کی آخری اسائینمنٹ مختلف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے انٹرویوز ہوں گے، انٹرویو کے ساتھ ہی آپ اس پر ایک رپورٹ بھی لکھیں گے جس میں اس انٹرویو سے آپ نے کیا نتا ئج اخذ کیے ہیں، ان کی تفصیل ہوگی۔ سوال تیار کرلیں اور مجھے دکھا دیں۔ چاہیں تو انٹرویو کے لیے آپ گروپ کی صورت میں چلے جائیں یا ہر بندہ اپنی اسائنمنٹ کرے۔

ہماری اسائمنٹ کا عنوان تھا ” پاکستان کا سیاسی نظام“۔ کچھ ضمنی سوال اس قسم کے تھے جیسے کہ آپ پاکستان کے سیاسی نظام کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟ کون سا طرز حکومت پاکستان کے لیے موزوں ہے ؟ کس دور میں حکومت میں پاکستان کا سیاسی نظام بہتر ہوا ؟ سیاسی نظام بہتر کرنے کے لیے آپ کی کیا تجاویز ہیں ؟ اور مزید اسی قسم کے سوالات۔ ہمیں یہ سوالات یونیورسٹی کے اساتذہ ، وکلا ، سرکاری آفیسرز اور عام دوکان دار یا ریڑھی والے سے پوچھنے تھے۔طے یہ پایا تھا کہ میری دو کلاس فیلو فرحانہ اور شمشاد کے ساتھ ہماری کلاس کے سب سے محنتی سٹوڈنٹ جی ایم (غلام محمد ) ،ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور انٹرویوز میں ساتھ رہیں گے۔ باقی دو نے اپنا انتظام خود کرنا تھا۔وکیل کی بیٹی ہونے کی وجہ سے سر نے مجھے وکلا کا انٹرویو کرنے کا کہا اور ساتھ ہی یہ بھی تاکید کی کہ ابا کا انٹرویو کر کے نہ لے آنا،ان کے علاوہ اور وکلا سے گفتگو کرنا۔

ابو سے میں نے فون کر کے بہاول پور میں موجود ان کے وکیل دوستوں کے فون نمبر لے لیے، انہیں اپنے آنے کا مقصد بتا دیا تو طے یہ پایا کہ عدالت میں موجود ایک اس وقت کے ٹاپ وکیل کے چیمبر میں ہی ہمیں چند ایک دیگر سینئر ہائی کورٹ کے وکلا جوائن کر لیں گے۔ اس طرح فائدہ یہ ہوجائے گا کہ الگ الگ سب سے ملنے کی ضرورت نہیں رہے گی، ایک ہی جگہ مل لیں گے۔ خیر مقررہ وقت پر ہم چاروںنئے نئے انٹرویور اپنا دبا دبا جوش لیے ان وکیل صاحب کے چیمبر میں پہنچ گئے۔ہم کمرے کی دیوار کے ساتھ ایک قطارمیں لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ہمارے سامنے بہاول پور کے ایک مشہور وکیل اور سیاسی طور پر ایکٹو جانی پہچانی شخصیت تشریف فرما تھے ، باوقار شخصیت کے مالک تھے، ان کے مکمل سفید بالوں نے مزید بارعب بنا دیا تھا۔چیمبر کے مالک اور ہمارے میزبان وکیل صاحب کہیں اورمصروف تھے۔دیگر وکلابھی جوائن کرتے جارہے تھے۔

سبھی ابو کو جانتے تھے تو ان کی خیر خیریت پوچھی جا رہی تھی۔ چائے پانی کا فارملی پوچھنے کے بعد ہمیں گفتگو کا آغاز کرنے کو کہا گیا۔ پہلا سوال ہماری فائل میں درج تھا، پاکستان کے سیاسی نظام کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں ؟ مذکورہ سینئروکیل صاحب نے گفتگو کا آغاز کچھ یوں کیا، سیاسی نظام ؟ پاکستان کا سیاسی نظام ؟ آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ سیاسی نظام ٹائپ کی کوئی چیز پاکستان میں وجود بھی رکھتی ہے؟ ٹاکنگ پوائنٹ نوٹ کرنے کی غرض سے ہم چاروں پین کاغذ سنبھالے مستعد بیٹھے تھے۔ اس طرح کے حملے کی البتہ توقع نہیں تھی۔ ان کے جارحانہ انداز اور ایسے تابڑ توڑ سوالیہ حملے نے بڑے سے کمرے کو خاموشی سے بھر دیا۔ سوائے ایک بوسیدہ بھرر بھرر کرتے چھت کے پنکھے کی آواز کے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ میرے تینوں ساتھی وہیں بیٹھے بیٹھے اچانک سے سامنے والی ٹیم کے کھلاڑی بن گئے۔ مزید چالاک بنتے ہوئے تینوں اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے ہی گھوم کر میری طرف دیکھنے لگے۔ شکلوں پر لکھا تھا، چلو چلو خود جواب دو، تمہاری اسائنمنٹ ہے ہم تو صرف مہمان ہیں۔

ان کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد میں نے بزرگ وکیل کی آنکھوں میں دیکھا اور جواب دینے کے لیے ابھی ہونٹوں کو ہلکی سی جنبش ہی دی ہوگی کہ وہ خود ہی اپنے کیے ہوئے سوالوں کے جواب دینا شروع ہوگئے۔بے اختیاراطمینان کا سانس لیا کہ فی الحال بزرگ خود ہی بولیں گے، اس وقت کسی بحث کی ضرورت نہیں۔ البتہ دل ہی دل میں یہ طے کر لیا کہ خود کو اس بھرے کمرے میں اکیلا ہی سمجھ لو۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ وہ سینئر وکیل صاحب سوال کرتے اور کسی بھی جواب سے پہلے خود ہی اس پر تبصرہ شروع کر لیتے۔آہستہ آہستہ کمرے میں موجود باقی لوگ بھی گفتگو میں شریک ہونے لگے۔ میرے ساتھی میرے ڈر کے مارے فائل میںنوٹس لینے لگے یا اس کی اداکاری کرنے لگے، انہیں معلوم تھا کہ غیر متعلق ہو کر بیٹھے تو بعد میں خوب صلواتیں سناﺅں گی۔ اب گفتگو کچھ اس انداز کی تھی کہ گویا ایک گیند سب کے درمیان اچھل رہی تھی۔ ہر ایک بولتا اور گیند آگے بڑھا دیتا۔

ہم درمیان میںکھڑے ،لڑکھڑاتے ہوئے کبھی ایک کی طرف جاتے تو گیند اگلے کھلاڑی ، مطلب اگلے مبصر کے پاس جا چکی ہوتی۔ اس اچھل کود ٹائپ گفتگو میں کچھ کچھ باتیں جو سمجھ آرہی تھیں، وہ یہ تھیں کہ جہوریت ہی بہتر سیاسی نظام ہے اور پاکستان کے لیے موزوں بھی۔ بھٹو صاحب کا دور پاکستان کا بہترین دور تھا۔ ایوب خان کا دور بہترین دور تھا۔ ایک صاحب نے فرمایا جب جب مارشل لا لگا ملک نے بڑی ترقی کی۔ انڈیا کی جمہوریت ، برطانیہ کی جمہوریت ، امریکہ کی جمہوریت ، ضیا دور ، بی بی کا دور ، نواز شریف کا دور ، پرویز مشرف کا دور حکومت....۔ اب سینئر وکلا سیاسی اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے پر کھلم کھلا طنز بھی کرنا شروع ہوگئے تھے۔کاٹ دار جملے بازی۔سرائیکی، پنجابی، اردو طنز کا بہترین امتزاج۔ ہیں سئیں بھٹو دور دی پرائیوٹائزیشن ب±ھلے بیٹھے وے ؟ سر ایوب دور دی ترقی نی نظر آندی تہانوں او وی کسے کھاتے پا دیو۔ ناں منو فیر ہن، وغیرہ وغیرہ۔

گفتگو کے آغاز میں نوٹس لینے کی جوکوشش کی گئی تھی ،اس پر ہم خاصی دیر ہوئے فاتحہ پڑھ چکے تھے۔ آپ نے کبھی نہ کبھی یو ٹیوب پر وہ بلیوں والی وڈیو ضرور دیکھی ہوگی ،جس میں چار پانچ بلیاںبیک وقت کبھی دائیں دیکھتی ہیں، کبھی بائیں ،کبھی اوپر اور کبھی نیچے۔ کچھ ایسے ہی ہم چاروں بھی ان معزز وکلا میں سے جو بھی بولتا، اس کی طرف چہرہ پھیر لیتے۔ ہم میں سے دو جو عینک پہنتے تھے، اتار کر سر پر رکھ چکے تھے۔ تینوں خواتین اپنے ہینڈ بیگ میں موجود پانی کی بوتل خالی کر چکی تھیں۔ ٹشو کب کے استعمال ہوگئے تھے۔ ہمارے سب سے ہونہار ساتھی جی ایم کی حالت سب سے خراب تھی۔ وہ غریب کم سے کم سولہ سترہ بار بولنے کے لیے منہ کھول بند کر چکا تھا۔میں نے البتہ چھ سات بارکی ناکام کوشش کے بعد یہ ارادہ ترک کر دیا تھا۔بڑی میز کے اردگرد اب ہمارے میزبان بھی واپس آ کر، پورے جوش و خروش سے شامل ہوچکے تھے۔

اب ایک وقت میں دو دو تین تین لوگ بول رہے تھے۔ لہذا گفتگو میں جملے نہیں، الفاظ سنائی دینے لگے، جو کے بعد میں صرف شور ہی رہ گیا ، بے معنی الفاظ کا شور۔ گرمی کی ایک تیز لہر نے میرا بلڈ پریشر لو کر دیا تھا۔ مجھے لگا میری آنکھیں بھینگی ہونے لگی ہیں، جسم میںسکنجبین کی شدید کمی ہورہی ہے۔میں اچانک کھڑی ہوئی، ساتھ بیٹھی فرحانہ کو بازو سے پکڑ کر تقریبا کھڑا کر دیا اور اونچی آواز سے کہا،بہت بہت شکریہ، آپ سب کا،آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا۔ جلدی سے جا کر ایک دو بزرگوں کے سامنے سر جھکایا کہ وہ سر پر ہاتھ رکھ دیں۔یہ فارملی وہاں سے جانے کی اجازت تھی۔ میزبان چائے پانی کے ساتھ خلوص دل سے پوچھ رہے تھے کہ کام ہوگیا بیٹا؟ اسائنمنٹ کا مواد مل گیا ناں؟کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا ،تیرے ابا دوست ہیں میرے۔ ہم مزید گفتگو سنے بغیر شکریہ شکریہ کہتے باہر کی طرف تقریبا بھاگ پڑے تھے۔

کورٹ سے نکل کرسب خاموش تھے،سڑک کراس کر کے فوارہ چوک کے سامنے ملک شیک کے دکان پر گھس گئے۔ آرڈر پتہ نہیں کس نے دیا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے آم کے ملک شیک کا پورا گلاس پینے کے بعد ہوش آیا تو بات کرنے کے قابل ہوئے۔پھر چیک کیا تو اندازہ ہوا کہ تھوڑی دیر پہلے ہونے والی گفتگو اور نوٹس میں کوئی بات بھی مکمل نہیں تھی، صرف ایک ادھورا، لایعنی سا تاثر سب کچھ ادھورا، بے معنی سا۔ دماغ الگ چکرائے ہوئے تھے بلکہ تماشا یہ ہوا کہ باہر نکلنے کے لئے میں بدحواسی میں کسی اور طرف چل پڑی، پیچھے سے دوستوں نے آوازیں دے کر بلایا کہ عدالت سے باہر نکلنے کا راستہ ادھر ہے ، ہمارے پیچھے پیچھے آﺅ۔ اگلے دن حمید صاحب کوپوری تفصیل گوش گزارکی اور پوچھا، سر حاصل وصول تو کچھ بھی نہیں، اب کیا لکھوں ؟ سر ہنس کے بولے،” دیکھا ،یہ تو خاص طبقہ ہے ،پڑھے لکھے لوگ جنہوں نے سیاسی نظام باقاعدہ نصاب میں پڑھا ہے۔ ہوا یہ کہ اپنے خیالات منظم طور بیان نہ کر پائے ابلاغ نہ کر پائے۔“ اب کیا کروں کا جواب یہ سر نے دیا کہ سب سوالات اپنے ابا سے پوچھو اور ان کے جواب لکھو، ہاں رپورٹ میں وہ سب ایسے لکھو، جیسا ہوا تھا۔

آج کل سوشل میڈیا کو دیکھ کر کئی سال پرانا یہ قصہ یاد آگیا۔ سوشل میڈیا پر بھی خیر سے ایسے ہی ٹرینڈ ہیں۔ ہر پوسٹ پر کمنٹ کرنا لازمی ہے۔ پوسٹ کچھ بھی ہو اپنا راگ الاپے جانا۔آپ پوچھیں کہ لیموں کس بھاﺅمل رہے ہیں؟جواب میں لیموں کے بھاﺅ کے علاوہ دنیا کی ہر بات ہوگی، جیسے لیموں تو اتنا مہنگا ہے کہ پوچھیں مت(بھئی کتنا مہنگا ہے، یہی تو پوچھ رہے ہیں) ،لیموں کا استعمال گردے کے درد میں اچھا رہتا ہے(ہمارے ہاں ہر گھر میں ایک عدد عطائی تو ضرور ملے گا جو عجیب وغریب نسخوں پر یقین رکھتا ہوگا)۔

مجھے تو حکیم نے لیموں استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے ،نزلہ ہوجاتا ہے(بندہ پوچھے آپ کی نزاکت طبع کی کس کو پروا)۔لیموں ملے تو نمکی ضرور بنا لینا ،گرمی میں اچھی رہتی ہے(لیموں کا نرخ پتہ چلے تو کہیں سے خرید بھی لیں گے، اصل سوال کا تو جواب دو۔) بس یہ ہے ہمارا سوشل میڈیا اور ہم ہیں کہ چکرائے دماغ کے ساتھ ایک سے دوسری پوسٹ پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بعد میں یہی خیال آتا ہے کہ کیا پڑھا تھا اور آخر کیوں پڑھا تھا؟ اور اکثر بھینگی آنکھیں لیے ڈھے سے جاتے ہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اچھا دلچسپ لکھا۔ خاص بات یہ کہ پورا منظر سامنے آ گیا۔ میں سوچتا رہا کہ بہاولپور کے وہ کون سے سفید بالوں والے سینئر وکیل ہیں جن کے ایسے سیاسی نظریات ہیں۔ ایک دو نام ذہن میں آئے ، مگر جب مصنفہ نے نہیں لکھے تو ہم کیوں لکھیں۔ سوشل میڈیا کا ویسے حال یہی ہے جو بیان کیا گیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com